سوال
وضو کے وقت ( بسم اللہ الرحمن الرحیم) کہنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
نماز کے لیے با وضو ہونا شرط ہے ، اور وضو سے پہلے بسم اللہ کہنا سُنّت ہے ، اور وضو سے قبل " بسم اللہ " کہنا چاہیئے ، ناکہ " بسم اللہ الرحمن الرحیم " کیونکہ پورا بسم اللہ الرحمن الرحیم کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے ، صرف تسمیہ یعنی " بسم اللہ " ہی کا ذکر احادیث میں ملتا ہے ، اس لیے وضو سے قبل " بسم اللہ " کہنا مسنون و مستحب عمل ہے واجب نہیں ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
نماز درست ہونے کے لئے وضو کرنا شرط ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو سنت رسول ﷺکے مطابق وضوء کرنے کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
وضو شروع کرتے وقت «بسم اللہ» پڑھنے کی بابت علماء کے مابین اختلاف ہے، بعض واجب قرار دیتے ہیں، اور بعض سنت۔
دلائل کى روشنى میں زیادہ درست بات ہے کہ وضو سے قبل «بسم اللہ» کہنا سنت ہے۔ لیکن مکمل «بسم اللہ الرحمن الرحیم»پڑھنا دلائل سے ثابت نہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ َضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " «هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ؟» فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، وَيَقُولُ: «تَوَضَّئُوا بِاسْمِ اللَّهِ ». ( ([1])).
بعض صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا، تونبی ﷺ نے کہا، کیا تمہارے پاس کچھ پانی ہے؟ تو آپ ﷺنے اپنا ہاتھ پانی میں رکھا، اور ارشاد فرمایا: " بسم اللہ" کہہ کر وضو کرو۔
اس حدیث میں وضوء سے پہلے صرف " بسم اللہ " کہنے کا ذکر ہے ،
قابلِ توجہ امر ہے کہ وضو کا آغاز " بسم اللہ " سے کرنے پر جتنی روایتیں ہیں ، ہر ایک میں صرف " تسمیہ " یعنی بسم اللہ ہی کا ذکر ہے ، گرچہ وہ روایتیں ضعیف یا پھر حسن درجے تک پہنچتی ہیں ۔
بعض لوگ صرف ( بسم اللہ ) نہ کہہ کر پورا ( بسم اللہ الرحمن الرحیم ) کہتے ہیں ، جبکہ پورا بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا کسی بھی روایت سے ثابت نہیں ہے ، اس لیے صرف " بسم الل " ہی پر اکتفاء کرنا چاہیئے ۔
علماء اہلحدیث کے فتاوے بھی سنت رسول کی موافقت میں اسی طرف اشارہ کرتے ہیں ، فتاوی اصحاط الحدیث جلد 5 صفحہ 67 میں ہے کہ جو حضرات " بسم اللہ " کے ساتھ " الرحمن الرحیم " کے اضآفے کو جائز یا مستحب قرار دیتے ہیں ، ان کے لئے ضروری ہے کہ اس کے جواز یا مستحب پر کتاب و سنت کی کوئی صحیح دلیل پیش کریں ۔
خلاصہ کلام : یہ ہے کہ وضو سے قبل " بسم اللہ " کہنا مسنون و مستحب عمل ہے واجب نہیں نیز صرف تسمیہ یعنی بسم اللہ کہنا کافی ہے اس لیے کہ یہی احادیث سے ثابت ہے ۔
واللہ اعلم

