سوال
بعض لوگ نبى ﷺ کو خواب میں دیکھنے کا دعوى کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبى ﷺ نے ان سے ایسے ایسے کہا؟
جواب
جواب مختصر
نبی ﷺ کو خواب میں دیکھاجاسکتاہے ليكن نبى ﷺ کى اصل صورت میں جس پر اللہ تعالى نے آپ کو پیدا کیا ہے۔
اس لئے خواب دیکھنے والے کو نبی ﷺ کا حلیہ مبارک صحیح سے معلوم ہونا چاہیئے ۔ اگر خواب میں نبی ﷺ کودیکھنے کا دعوى کرنے والا یہ بیان کرے کہ اس نے بغیر داڑھى والے شخص کو دیکھاہے۔ تو وہ جھوٹا ہےکیونکہ نبی ﷺ کو داڑھی تھى۔ اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے نبی ﷺ کو خواب میں سفید داڑھی میں دیکھا۔ تو یہ بھی جھوٹا خواب مانا جائے گا کیونکہ آپ ﷺ کى داڑھى کے صرف چند بال ہی سفید تھے ۔
اس لئے جو شخص یہ کہے کہ اُس نے نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے تو اُس سے کہا جائے گا کی تم نے جسے دیکھا ہےاس کا حلیہ بیان کرو، اگر اُس نے وہی کچھ بیان کیا جو رسولُ اللہ ﷺ کے حلیہ احادیث مبارکہ میں بیان ہوئے ہیں تو کہا جائے گا کہ گویا اس نے آپ ﷺ کو ہی دیکھا ہے ، اور اگر اُس نے کچھ غلط بتا یا تو کہا جائے گا کہ اُس نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اول: خواب میں نبى ﷺ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ صحیح بخارى وصحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«َمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي« ( ([1]))۔
ترجمہ: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے مجھے حقیقت میں دیکھا ،کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔
اس حدیث سے واضح ہوا کہ نبی ﷺ کو خواب میں دیکھاجاسکتاہے ليكن نبى ﷺ کى اصل صورت میں جس پر اللہ تعالى نے آپ کو پیدا کیا ہےکسى اور صورت میں نہیں۔
اسى حدیث سے یہ بھى واضح ہواکہ شیطان كسى اور انسان كى صورت اختیارکرکے انسان کو خواب کے ذریعہ یہ تصوردے سکتاہے کہ میں ہی نبی ہوں۔ ممکن ہے شیطان بزرگ کی صورت اختیارکرکے آئے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ الله فرماتے ہیں:
محمد ابن سیرین کے پاس اگر کوئى شخص آکر یہ کہتا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے۔ تو وہ اس سے فرماتے: تم نے جسے دیکھا ہے کہ اس کا حلیہ بیان کرو۔اگر وہ نبىﷺ کى کوئى ایسى صفت بیان کرتا جو آپ ﷺمیں نہیں تھى تووہ اس سے کہتے تم نے بنى ﷺکو نہیں دیکھا ہے (بلکہ کسى اور کو دیکھا ہے)۔
اس کى تائید میں مجھے حاکم کى ایک روایت ملى جو عاصم بن کلیب کے واسطے سےمروى ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ ابن عباس رضى اللہ عنہما سے کہا کہ:
میں نے نبى ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے۔
عبد اللہ ابن عباس رضى اللہ عنہما نے ان سے کہا: (تم نے جسے دیکھا ہے)اس کا حلیہ بیان کرو۔
میں نے حسن بن على کا ذکر کیا اور انہیں رسول اللہﷺ سے مشابہ قرار دیا۔
عبد اللہ ابن عباس رضى اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے رسول اللہ ﷺ کو ہى دیکھا ہے۔ ( ([2])) ۔
اس لئے خواب دیکھنے والے کو نبی ﷺ کا حلیہ مبارک صحیح سے معلوم ہونا چاہیئے ۔ اگر خواب میں نبی ﷺ کودیکھنے کا دعوى کرنے والا یہ بیان کرے کہ اس نے بغیر داڑھى والے شخص کو دیکھاہے۔ تو وہ جھوٹا ہےکیونکہ نبی ﷺ کو داڑھی تھى۔ اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے نبی ﷺ کو خواب میں سفید داڑھی میں دیکھا۔ تو یہ بھی جھوٹا خواب مانا جائے گا کیونکہ آپ ﷺ کى داڑھى کے صرف چند بال ہی سفید تھے ۔
شیطان آپ کی صورت تو یقیناً اختیار نہیں کرسکتا، لیکن کوئی دوسری صورت اختیار کر کے یہ دھوکا ضرور دے سکتا ہے کہ تم جس کو دیکھ رہے ہو وہ محمد ﷺ ہی ہیں۔
دوم: علماء كا اس معاملہ ميں اتفاق ہے کہ شرعى احکام خواب سے ثابت نہیں ہوتے۔اگر کوئى شخص یہ دعوى کرے کہ نبی ﷺ نے خواب میں آکر اسے یہ کام کرنے کا حکم دیا ہے تو اس بات کو شریعت کے اصول وقواعد کى روشنى میں دیکھا جائے گا۔ کیونکہ شریعت تو قرآن مجید یا سنت رسول سے ثابت ہوتى ہے، خواب سے نہیں،خواب کى بنیاد پر دین میں کسى بات کا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہہمارا دین نبی ﷺ کی وفات سے پہلے ہی مکمل ہوچکاہے۔اور آپ نے صحابہ کرام سے حجۃ الوداع کے موقع پر اتمام رسالت کی گواہی بھی لے لی تھی جو خطبہ حجۃ الوداع میں مذکور ہے ۔ ( ([3]))۔
واللہ اعلم

