سوال
جس وقت بندے کا حساب وكتاب ہوگا کیا اس بندے اللہ کو دیکھیں گے
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
جواب :
اہلِ سنت و الجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ آخرت میں مؤمنین کا اپنے رب کا دیدار کرنا برحق ہے۔ اس سلسلے میں حساب و کتاب کے وقت دیدار کے حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے:
اول: حساب و کتاب کے وقت دیدار ہوگا :
مؤمنین حساب و کتاب کے وقت اپنے رب کو دیکھیں گے۔ یہ دیدار عظمت، ہیبت اور امتحان کی کیفیت میں ہوگا، جس میں اللہ تعالیٰ بندے سے کلام فرمائے گا ۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
« مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ وَلَا حِجَابٌ يَحْجُبُهُ». (1 ).
(تم میں سے ہر شخص اللہ سے قیامت کے دن بات کرے گا، اس کے اور اللہ کے درمیان نہ کوئی ترجمان ہوگا اور نہ کوئی پردہ جو اسے چھپائے۔
دوم: حساب کے وقت دیدار اور جنت میں دیدار کا فرق:
یاد ر ہے کہ قیامت کے دن دیدار کی دو کیفیتیں ہیں:
۱- حساب کے وقت دیدار: یہ دیدار ہیبت، کلام اور حساب کے عمل کے دوران ہوگا، جو ایمان والوں کے لیے اللہ کی عظمت کا مشاہدہ ہوگا۔
۲- جنت میں دیدار: یہ جنت میں دخول کے بعد ہوگا، جو "دیدارِ تَنعیم" (لطف و سرور کا دیدار) کہلاتا ہے، جس میں کوئی حجاب نہیں ہوگا اور یہ اہل جنت کے لیے سب سے بڑا انعام ہوگا۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے:
«إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ»( 2).
"تم عنقریب اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے چودہویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو، اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت نہ ہوگی"۔
خلاصہ یہ کہ مؤمنین حساب کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، لیکن جنت میں ہونے والا دیدار اپنی کیفیت، لذت اور دائمی سرور میں منفرد اور اعلیٰ ہوگا۔
واللہ اعلم۔
(1 ) صحیح بخاری، حدیث نمبر (۱۴۱۳)۔صحیح مسلم، حدیث نمبر (۱۰۱۶)۔
( 2) صحیح بخاری، حدیث نمبر (۵۵۴)۔صحیح مسلم، حدیث نمبر (۶۳۳)۔

