سوال
بعض ہوٹلوں میں حرام کھانے پیش کئے جاتے ہیں ایسے ہوٹلوں میں صفائى ستھرائى کا کام کرنا کیسا ہے؟
جواب
جواب مختصر
ایسے ہوٹلس یا آفسیسز جہاں حرام کام ہوتے ہوں وہاں نوکری کرنا غلط اور حرام کام میں بلا واسطہ تعاون کرنا ہے ، اس لئے ایسے جاب و نوکری سے بچنا چاہیئے ۔ ہاں اگر اُس ہوٹل یا آفس میں شراب و کباب پیش کئے جاتے ہوں اور یہ اُس میں صفائى و ستھرائی کا کام کرتا ہے تو براہ راست تعاون نہیں ہے ، اس لئے یہ جائز سمجھ میں آتا ہے ، لیکن احوط اسی میں ہے کہ ایسی جگہوں پہ کام کرنے سے بچے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
صفائى ستھرائى کے کام کى وضاحت ضرورى ہے۔
ایسى ہوٹلیں جہاں حرام کھانے پیش کئے جاتے ہوں اس میں برتن کی صفائی یا پکائے جانے والى حرام وحلال غذائیں دھلنا در اصل حرام کام میں مدد کرنا ہے۔
فرمان الہی ہے: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ـ المَائـِدَة 2([1])
ترجمہ: "نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اور گناہ و زیادتی میں کسی کا بھی ساتھ نہ دو"۔
البتہ ایسے ہوٹلوں میں کھانے کے ٹیبل یا کرسى وغیرہ کى صفائى کى ملازمت کرنا بظاہر جائز نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہ حرام کام میں، مثلاً (شراب یا سور کا گوشت پیش كرنے میں) براہ راست یا جان بوجھ کر مدد نہیں ہے، اور اگر مدد براہ راست یا جان بوجھ کر نہیں ہے، تو یہ جائز ہے۔
ليكن اس جواز کے باوجود ہمارے نزدیک احتیاط کا تقاضہ ہے کہ آپ ایسے ہوٹلوں میں ملازمت نہ کریں۔ کوئى دوسرى شک وشبہ سے خالی ملازمت تلاش کریں۔ اللہ ضرور آپ کى مدد فرمائے گا۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
ﵟ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا ٢ﵞ ﵝالطَّلَاق : ﵒﵜ ([2])
ترجمہ: اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے کوئى راستہ نکال دیتا ہے۔
واللہ اعلم

