سوال
گوگل پے کى جانب سے دئیے جانے والےکیش بیک کا حکم؟ جب ہم پیسہ بھیجتے ہیں کسی دوسرے شخص کو جیسے ١٠٠٠₹ روپئے کسی ایپ سے جیسے Google pay یا Phone Pay سےتو ہزار روپئے میرے اکاؤنٹ سے کاٹ دیا جاتا ہے اور وہ اس شخص کے اکاؤنٹ میں چلا جاتا ہے مگر پھر ایپ کى جانب سے ہم کو دس روپئے پانچ روپئے ،کچھ رقم cashback کے طور پر ملتى ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
گوگل پہ یا فون پہ سے لین دین کرتے ہوئے جائز و نا جائز کے سلسلے میں دو باتوں پہ دھیان رکھیں :
(1) اگر ان کے ذریعہ سے جمع کئے گئے بِل یا ٹرانسفر کئے گئے پیسے کی بِناپر رقم کا کچھ حصہ واپس کر دیا جائے تو یہ عمل جائز ہے۔ اس طرح واپس آئی ہوئی رقوم قبول اور استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ ایک ترغیبى انعام کى طرح ہے جو اس ایپ کو استعمال کرنے اور اسکى تشہیر کى وجہ سے ملا ہے ۔
(2) گوگل پے در اصل مختلف کمپنى اور تجارتى اداروں سے رعایتیں وصول کرکے ان کے بدلے صارفین کو فائدہ پہنچاتا ہے۔اس صورت میں اگر گوگل پے کى جانب سے دیئے جانے والاکیش بیک کسى مخصوص کمپنى یا تجارتى ادارہ سے خریدارى کى بنا پرہو تو حکم اس کمپنى پہ معلق ہوگا۔ اگر اس کى تجارت حلال ہو تو یہ کیش بیک جائز ہوگا۔ اگر حرام ہو تو نا جائز۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
گوگل ايك بڑا ادراہ ہے۔ اس کى متنوع ٹیکنیکل سرگرمیاں ہیں، ان ہى میں سے ایک یہ ہے کہ یہ مختلف کمپنى اور تجارتى اداروں کے درمیان رقم کے لین دین میں رابطہ کا کام بھی کرتا ہے۔
گوگل پے کى جانب سے دئیے جانے والےکیش بیک عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں:
1- اگر pay Google (گوگل پے)یا Phone Pay (فون پے) کے ذریعہ سے مختلف محکمات کے بل جمع کرانے، دوسرے اکاؤنٹس میں پیسے منتقل کرنےپر رقم کا کچھ حصہ واپس کر دیا جائے تو یہ عمل جائز ہے۔ اس طرح واپس آئی ہوئی رقوم قبول کرنے اور استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ ایک ترغیبى انعام کى طرح ہے جو اس ایپ کو استعمال کرنے اور اسکى تشہیر کى وجہ سے ملا ہے ۔
اس صورت میں اس کا شمار (ہبہ) میں ہوگا۔ اور ہبہ شریعت میں مشروع ہے۔ باسم احمد حسن محمد عامر اپنى کتاب (الجائزۃ أحکامها الفقهیۃ وتطبیقاتها المعاصرۃ) میں فرماتے ہیں:
" لو تأملنا في مقصد الهبة لوجدنا أن من مقاصدها التودد إلى الآخر واكتسابه والظفر برضاه، وهذا المقصد يقصده بعض واضعي الجوائز في المحلات التجارة على سبيل المثال، فهم يقصدون جذب الناس إلى محلاتهم والتودد إليهم والحصول على رضاهم من خلال إعطائهم الجوائز؛ لتكون الجائزة وسيلة إلى ترويج البضائع واستقطاب الزبائن". ([1]).
ترجمہ: اگر ہم تحفے کے مقصد پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس کا ایک مقصد سامنے والے کا دل جیتنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پرکچھ تجارتی اسٹورز میں خریداروں کو اپنى طرف راغب کرنے اور انہیں خوش کرنےکے لئےانعامات دیئے جاتے ہیں تاکہ خريدارزياده آئیں اوردوکان کو شہرت ملے۔
2- گوگل پے در اصل مختلف کمپنى اور تجارتى اداروں سے رعایتیں وصول کرکے ان کے بدلے صارفین کو فائدہ پہنچاتا ہے۔اس صورت میں اگر گوگل پے کى جانب سے دیئے جانے والاکیش بیک کسى مخصوص کمپنى یا تجارتى ادارہ سے خریدارى کى بنا پرہو تو حکم اس کمپنى پہ معلق ہوگا۔ اگر اس کى تجارت حلال ہو تو یہ کیش بیک جائز ہوگا۔ اگر حرام ہو تو نا جائز۔
اللہ تعالى نے مسلمانوں کو کسى بھى طرح کے معصیت ، نافرمانى اور غیر شرعى کاموں میں تعاون سے منع فرمایا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ " المَائـِدَة : 2
ترجمہ: " اور نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو اور تم گناہ و ظلم وزيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون نہ كرو، اور اللہ تعالى سے ڈرتے رہو اس كا تقوى اختيار كرو يقينا اللہ تعالى شديد سزا دينے والا ہے"۔
واللہ اعلم

