سوال
روزہ کے حالت میں اگر انسان اپنے بیوی سے بوس وکنار کرلے اور انزال منی ہو جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں اگر روزہ ٹوٹ جائے تو اسکا کفارہ کیا ہے؟
جواب
جواب مختصر
روزه كى حالت میں بیوى سے بوس وکنار سے بچنا چاہیئےیہ شہوتى کام روزہ کے منافى ہے ، اگر کسی نے بوس و کنار کیا اور میاں بیوی میں کسی کا منی خارج ہو گیا تو اس دن کا روزہ باطل ہو جائے گا ،احترام رمضان کی وجہ سےآدمی کو چاہیئے کہ اب اس دن میں سورج ڈوبنے تک کچھ بھی نہ کھائيں نہ پئيں اوراس کے بدلے میں روزہ کی قضاء کریں گے ۔اورکوئى کفارہ نہیں ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
روزه شهوت کو ختم کردیتاہے۔نبى ﷺ ارشاد فرماتے ہیں كہ الله تعالى فرماتے ہیں:
«الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَأَكْلَهُ وَشُرْبَهُ مِنْ أَجْلِي »( ۱)۔
ترجمہ: روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا جزا دوں گا اس لئے کہ وہ اپنی خواہشات اور کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
انزال منى کى صورت میں شوہر/بیوى پر واجب ہے کہ اس فعل پر افسوس اوراظہار ندامت کریں اور اللہ تعالى سےتوبہ کریں،کیونکہ روزہ اور رمضان کے عظیم مہینے کى حرمت کى پامالى جرم عظیم ہے۔
اظہار ندامت توبہ کى ایک شکل ہے نبى ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:«"النَّدَمُ تَوْبَةٌ »( ۲)۔ ترجمہ:ندامت توبہ ہے۔
روزه كى حالت میں بیوى سے بوس وکنار سے بچنا چاہیئےیہ شہوتى کام روزہ کے منافى ہے۔اگر بیوى سے بوس وکنار کے نتیجے میں شوہر یا بیوى یا دونوں کى منى نکل جائے تویہ جرم عظیم ہےاس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔رمضان کے مبارک مہینے کى حرمت پامال ہوتى ہے۔اوراس دن کے روزے کے اجروثواب سےبھی محرومى ہوجاتى ہے۔
بوس وکنار کے نتیجے میں منى نکل جائے تواس دن کا روزہ باطل ہو جاتا ہے ،احترام رمضان کی وجہ سےآدمی کو چاہیئے کہ اب اس دن میں سورج ڈوبنے تک کچھ بھی نہ کھائيں نہ پئيں اوراس کے بدلے میں روزہ کی قضاء کریں گے ۔اورکوئى کفارہ نہیں ۔
واضح ہوکہ روزہ کى حالت میں بیوى کو بوسہ دینا جائز ہے۔ لیکن اگر مرد کو اپنے آپ پر کنٹرول نہ ہوتو بوس و کنار سے دور رہنا چاہیئے،روزے کی حالت میں بیوی کو بوسہ دینے یا اس کے ساتھ سونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتى ہیں:
« كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ »( ۳)۔
ترجمہ: نبی کریمﷺروزہ سے ہوتے ہوئے بوسہ لیتے اور جسم سے جسم بھى لگاتے،لیکن نبى ﷺ تم میں اپنے نفس پہ سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔
بیوى كو بوسہ یا چھونے کى صورت میں اگر کچھ نہ نکلے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اگر مذى (مذی ایک پتلا، چپکدار، بے رنگ یا سفید مادہ ہوتا ہے جو انسان کو شہوت کے وقت (یعنی مباشرت کا خیال آنے پر یا کسی محرک کے بغیر بھی بعض اوقات) خارج ہوتا ہے لیکن انزال (منی کے اخراج) سے کم درجے کا ہوتا ہے۔)بھى نکل جائے تب بھى صحیح قول کے مطابق روزہ نہیں ٹوٹتا،لیکن منى نکلنے کى صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اگر بیوى کو بوسہ دینے یا چھونے کى صورت میں اگر شوہر کومنى خارج ہونے کا اندیشہ ہوتو اس سے بچنا چاہیئے۔ حضرت ابو ہریرۃ رضى اللہ عنہ سے روایت ہے :
أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ، «فَرَخَّصَ لَهُ»، وَأَتَاهُ آخَرُ، فَسَأَلَهُ، «فَنَهَاهُ»، فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ، وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. (۴ ).
ترجمہ: ایک شخص نے نبی اکرمﷺسے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپﷺکے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپﷺنے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔
ہوسکتا ہے اس میں حکمت یہ رہى ہوکہ جوان شخص کبھى اپنے آپ پر کنٹرول کھوسکتا ہے اس لئے اسے منع فرمایا گیا ۔
واللہ اعلم
( ۱) صحيح بخارى، حديث نمبر (1761)۔
(۲ ) مسند احمد، حديث نمبر (3558)۔ سنن ابن ماجه، حديث نمبر (4252)۔ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابن ماجہ ( 3429 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
( ۳) صحيح بخارى، حديث نمبر (1927)۔صحيح مسلم، حديث نمبر (1106)۔
(۴ ) سنن ابى داود، حديث نمبر (2387)۔ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

