سوال
آج کل AI کا استمال کرکے ویڈیوز یا تسویر بنائے جا رہے ہیں، جس میں انسان اور دوسرے جاندار کے جسم یا تسویر بن رہی ہے،چاہے کوئی دینی پیغام پہنچانے کے لیے، کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟ کیا یہ تسویر کشی کی دوسری شکل تو نہیں ہے؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
جواب : الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اس سوال کا جواب منددرجہ ذیل پوائنٹ کى شکل میں درج ذیل ہے۔
تصویر چاہے انسان اپنے ہاتھوں سے بنائے یا اے آئی(AI)سے، اس مسئلے میں اصولى طور پر دو چیزیں جاننا ضرورى ہیں۔
اول: اے آئی(AI) یا مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے ذریعے تصویر بنوانا، یعنی انسان مشین یا پروگرام کو کسی چیز کی تصویر بنانے کا حکم دے اور وہ حکم کے مطابق بنا دے، تصویر کشی ہی کے حکم میں ہے؛ کیونکہ اس میں کوئی فرق نہیں کہ انسان قلم سے تصویر بنائے یا کمپیوٹر کے ذریعے، خود بنائے یا کسی دوسرے سے بنوائے۔چنانچہ:
۱- اگر تصویر یا امیج مکمل جاندار کی ہوتو اسے بنانا حرام ہے۔جاندار چیزوں سے مراد : انسان، حیوان ، پرندے یا جنات اور فرشتوں کى خیالى تصویریں۔ان کى ایسی تصویر جس میں مکمل جسم یا دیگر اعضاء مثلا : چہرہ ، آنکھیں، ناک اور منہ واضح ہوں، تو ایسى تصوير بنانا حرام ہوگا؛ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت پائی جاتی ہے، جس پر احادیث میں وعید آئی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللهِ» (1 ).
"قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔"
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تصویر بنانےکی ممانعت کی ایک اہم علت مضاهاة خلق الله یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے مشابہت پیدا کرنا ہے۔ چاہے انسان اسے اپنے ہاتھوں سے بنائے یا مشین یا پروگرام کے ذریعہ۔ اسلام میں جانداروں کی تصویر بنانےکى سخت وعید آئى ہے۔ عبد الله بن مسعود رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ»( 2).
"قیامت کے دن سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو دیا جائے گا"۔
۲- نامکمل تصویر یا غیر واضح خاکہ:
اگر تصویر پورى نہ بنائى گئى ہو، یعنى اس میں سے اتنا حصہ کاٹ دیا گیا ہے جس کے بعد زندگی باقی نہیں رہتی، جیسے آدھی تصویر (نصف دھڑ)، یا اس کے اعضاء غیر واضح ہوں جیسے چہرہ، ناک، کان اور آنکھیں صاف نہ ہوں ،یا تصویر بغیر اعضاء کے صرف خاکہ ہو تو یہ تصویر شمار نہیں ہوگى ؛ کیونکہ اس میں ممانعت کى بنیادى وجہ موجود نہیں ہے اور وہ ہے : اللہ تعالى کى تخلیق کى مشابہت۔ اللہ تعالى نے تو جانداروں کو مکمل اعضاء کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ اور مکمل اعضاء کے بغیر تصویر میں نقص رہتا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
«إِنَّ الَّذِينَ يَصْنَعُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ»( 3).
"جو لوگ یہ تصویریں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا: جو تم نے بنایا ہے اسے زندہ کرو۔"
یہ بات اس شخص سے کہی جائے گی جس نے جاندار کى مکمل تصویر بنائی یا کھینچی ہو، البتہ ناقص تصویر بنانے پر یہ وعید نہى ہے۔
اسے اس واقعہ کى روشنى میں بھى سمجھا جاسکتا ہے۔حضرت ابوہریرۃ رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:
«أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ البَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ عَلَيْكَ البَيْتَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي بَابِ البَيْتِ تِمْثَالُ الرِّجَالِ، وَكَانَ فِي البَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، وَكَانَ فِي البَيْتِ كَلْبٌ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي بِالبَابِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُصَيَّرْ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ وَيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مُنْتَبَذَتَيْنِ تُوطَآنِ، وَمُرْ بِالكَلْبِ فَيُخْرَجْ "، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ »(4 ).
"جبریل میرے پاس آئے اور کہا: میں گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا، مجھے اندر آنے سے صرف اس بات نے روکا کہ دروازے پر مجسمے تھے، گھر میں ایک پردہ تھا جس پر تصویریں تھیں، اور گھر میں ایک کتا تھا۔ لہٰذا حکم دیجیے کہ دروازے پر موجود مجسمے کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی شکل کا ہو جائے، پردے کے دو تکیے کاٹ کر بنا لیے جائیں جو پھینکے ہوئے ہوں اور پاؤں تلے روندے جائیں، اور کتے کو نکال دیا جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔"
اسى بنا پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«الصُّورَةُ الرّأسُ، فإِذا قُطِعَ الرّأسُ فلَيسَ بصورَةٍ»( 5).
"تصویر دراصل سر ہی ہے، لہٰذا جب سر کاٹ دیا جائے تو وہ تصویر نہیں رہتی"۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" فإنْ قَطَعَ رأسَ الصُّورةِ، ذهَبتِ الكَراهةُ. قال ابنُ عباسٍ... وحُكىَ ذلك عن عِكْرمَةَ. ... وإِنْ قطعَ منه ما لا يبْقَى الحيوانُ بعدَ ذَهابه، كصَدْرِه أو بَطْنِه، أو جُعِلَ له رأسٌ مُنْفصِلٌ عن بدَنِه، لم يدْخُلْ تحتَ النَّهْى؛ لأَنَّ الصُّورةَ لا تَبْقَى بعد ذَهابِه، فهو كقَطْعِ الرَّأْسِ. وإنْ كان الذَّاهبُ يَبْقَى الحيوانُ بعدَه، كالعَيْنِ واليَدِ والرِّجلِ، فهو صورةٌ داخلةٌ تحتَ النَّهْى. وكذلك إذا كان فى ابتداءِ التَّصوير صورةُ بدنٍ بلا رَأسٍ، أو رَأْسٍ بلا بَدَنٍ، أو جُعلَ له رأسٌ وسائرُ بدنِه صورةُ غيرِ حيوانٍ، لم يدخُلْ فى النَّهى؛ لأنَّ ذلك ليسَ بصُورةِ حيوانٍ". (6).
"اگر تصویر کا سر کاٹ دیا جائے تو کراہت ختم ہو جاتی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا... یہی بات عکرمہ سے بھی منقول ہے۔ . . . اور اگر تصویر سے ایسا حصہ کاٹ دیا جائے جس کے چلے جانے کے بعد جانور زندہ نہیں رہ سکتا، جیسے سینہ یا پیٹ، یا اس کا سر اس کے بدن سے الگ بنایا جائے، تو وہ ممانعت میں داخل نہیں، کیونکہ اس حصے کے جانے کے بعد تصویر باقی نہیں رہتی، لہٰذا یہ سر کاٹنے کی طرح ہے۔
اور اگر جو حصہ غائب ہے اس کے بعد بھی جانور زندہ رہ سکتا ہے، جیسے آنکھ، ہاتھ یا پاؤں، تو وہ ایسی تصویر ہے جو ممانعت میں داخل ہے۔
اسی طرح اگر تصویر بناتے وقت شروع ہی سے بغیر سر کے بدن کی تصویر ہو، یا بغیر بدن کے سر کی، یا اس کا سر بنایا جائے اور باقی بدن کسی غیر جاندار چیز کی شکل میں ہو، تو یہ ممانعت میں داخل نہیں؛ کیونکہ وہ کسی جانور کی تصویر نہیں۔"
دوم:اے آئی(AI) کے ذریعہ جاندار چیزوں کی ڈیجیٹل تصویر میں ترمیم کرنا، اگر تصویر مکمل ہو، تو اس کا شمار بھى حرام تصویر بنانے میں ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ: تصویر چاہے انسان اپنے ہاتھوں سے بنائے یا اے آئی(AI)سے، اگر وہ جاندار کى مکمل تصویر ہو تو اسے بنانا یا اس میں تبدیلى کرنا حرام ہے۔ البتہ اگر تصویر یا خخاکہ ناقص بنایا جائے تو یہ ممنوع نہ ہوگا۔
واللہ أعلم
(1 ) صحیح بخاری، حدیث نمبر (۵۹۵۴)۔صحیح مسلم، حدیث نمبر (۲۱۰۷)۔
( 2) صحیح بخارى، حديث نمبر (5950)۔ صحیح مسلم، حديث نمبر (2109)۔
( 3) صحیح بخارى، حديث نمبر (5607)۔ صحیح مسلم، حديث نمبر (2108)۔
(4 ) سنن ابو داود، حديث نمبر (۴۱۵۸)۔سنن الترمذى، حديث نمبر (۲۸۰۶)۔ شیخ البانی اسے السلسلۃ الصحیحۃ (۱۹۲۱) میں صحیح کہا ہے۔
( 5) السنن الکبرى، البیہقى، حديث نمبر (۱۴۶۹۵)۔ شیخ البانی اسے صحیح کہا ہے۔ دیکھیں: صحیح سنن ابى داود۔
(6 ) (ابن قدامہ کی "المغنی" 7/216 سے اقتباس ختم ہوا)

