سوال
میں ایک دین دار مسلمان ہوں اور مختلف جگہوں کى سیر کرنا مجھے بے حد پسند ہے۔ کبھى کبھى میں مندروں میں جاکر وہاں کى ویڈیوگرافى کرتا ہوں ،وہاں غیر مسلموں کے بت اور مورتیاں ہوتى ہیں۔ کیا میرا وہاں جانا جائز ہے؟ اور اگر ایسے ویڈیوز سوشل میڈیا پر نشر کروں تو کیا مجھے گناہ ملے گا؟
جواب
جواب مختصر
مندروں میں جاکر وہاں کى ویڈیوز بناکر نشر کرنا ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔ مسلمان کو اس سے بچنا چاہیئے،غیر اللہ کى تعظیم اورعبادت اللہ تعالى کى ناراضگى، آفتوں اور مصیبتوں کو دعوت دینے کا سبب ہے۔
اس لئے غیر مسلموں کى مندروں میں جانا، کفار کی عبادات کا مشاہدہ کرنا، ان کی رسومات میں شرکت کرنا یا ان کے تہواروں میں شرکت کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ مندروں میں جانا کفار کی خصوصیات میں سے ہے، اور اس میں ان کی مشابہت کرنا حرام ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
غیر مسلموں کى مندروں میں جانا، کفار کی عبادات کا مشاہدہ کرنا، ان کی رسومات میں شرکت کرنا یا ان کے تہواروں میں شرکت کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ مندروں میں جانا کفار کی خصوصیات میں سے ہے، اور اس میں ان کی مشابہت کرنا حرام ہے، رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:
مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ«( ([1]))۔
ترجمہ: جو کسى قوم کى مشابہت اختیار کرے وہ ان ہى میں سے ہے۔
ان کے مندروں میں غیر اللہ کى تعظیم اور عبادت کى جاتى ہے۔اس لئےوہاں حاضر ہونا غیراللہ کى تعظیم اور عبادت کرنے والوں کى تعداد میں اضافہ شمار ہوگا۔
غیر اللہ کى تعظیم اورعبادت اللہ تعالى کى ناراضگى، آفتوں اور مصیبتوں کو دعوت دینے کا سبب ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اجْتَنِبُوا أَعْدَاءَ اللهِ -الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى- فِي عِيدِهِمْ يَوْمَ جَمْعِهِمْ؛ فَإِنَّ السَّخَطَ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ فَأَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ، وَلَا تَعَلَّمُوا رَطَانَتَهُمْ فَتَخَلَّقُوا بِخُلُقِهِمْ« ([2])( ).
ترجمہ: اللہ کے دشمنوں یعنی یہود و نصاریٰ کے تہوار کے موقع پران کے اجتماع کے دن ان سے بچو، بے شک ان پر غضب نازل ہوتا ہے، اور تم ان کی عجمی ( غیر عربی )زبان نہ سیکھو ؛ کیونکہ ایسا کرنے سے اندیشہ ہے کہ تم ان کے اخلاق اختیار کر لو گے ۔
مسلمان کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالى کى تعظیم اور اس کے شعائر کا احترام کریں۔گناہوں، اللہ تعالى کى حرام کردہ چیزوں اور اللہ کو ناراض کرنے والے امور سے بچیں۔
مومن ہمیشہ اللہ تعالى کى اور اس کے شعائر کى تعظیم کرنے والا ہوتا ہے، اللہ تعالى فرماتے ہیں:
وَمَن يُعَظِّمۡ حُرُمَٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيۡرٞ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦۗ
ترجمہ: جو شخص اللہ کی احترام والی چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ بات اس کے پروردگار کے یہاں اس کے لئے بہتر ہے۔
اللہ تعالى کا مزید ارشاد ہے:
وَمَن يُعَظِّمۡ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقۡوَى ٱلۡقُلُوبِ
ترجمہ: جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ بات دلوں کے تقویٰ سے تعلق رکھتی ہے۔
مندروں میں جانا، وہاں غير الله كى تعظيم ديکھنا مسلمان بندوں کا شیوہ نہیں۔ اللہ تعالى مسلمان بندوں کى امتیازى خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ
ترجمہ: اور رحمن کے نیک بندے وہ ہیں جو جھوٹے کام میں شامل نہیں ہوتے۔
یعنی: وہ شرک اور بت پرستی سمیت حرام قول و فعل میں شریک نہیں ہوتے۔ بعض مفسرین نے اس سے مشرکین کى عیدیں مراد لى ہیں۔ ( ([3]))۔
اس میں کوئى شک نہیں ہے کہ مندروں اور گرجا گھروں کی تصویریں سوشل میڈیا پر شائع کرنے سے لوگ خوش ہوتے ہیں، وہ ان جگہوں کو پسند کرنے لگتے ہیں اور تعظیم کے انداز میں ان کى تعریف وتوصیف بیان کریں گے ۔ اگر کوئى مسلمان آپ کےذریعہ نشر کى گئى تصاویر یا ویڈیوز سے متأثر ہوکر ان جگہوں پہ جائے تو اس کا گناہ آپ ہى پر ہوگا؛کیونکہ آپ ہى اس کا سبب بنے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ مندروں میں جاکر وہاں کى ویڈیوز بناکر نشر کرنا ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔ مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے۔ یہ اللہ تعالى کى ناراضگى کا سبب ہے۔
واللہ اعلم

