سوال
باپ کى کمائى حرام ہے، وه انڈیا میں بينك میں کام کرتے ہیں، اب ریٹائر ہونے والے ہیں،کیا ہم ان کى کمائى میں سے کھاسکتے ہیں اور کیا جائداد میں حصہ لے سکتے ہیں؟z
جواب
جواب مختصر
آپ کا اپنےوالدکى کمائى سےکھاناپینا خرچہ لینا حلال ہے، والد صاحب کا مال ان کے لئے حرام ہے، لیکن آپ کے لئے حلال ہے، حرام کمائى کا گناہ والد پر ہوگا، نا کہ آپ پر۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہودی سے تحفہ قبول کرتے ہیں، یہودیوں کا کھانا بھی کھاتے ہیں، ایسے ہی یہودی کے ساتھ لین دین بھی کرتے ہیں، حالانکہ یہودی سودی لین دین اور حرام کھانے میں مشہور تھے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے حلال طریقے سے لیا ہے، لہذا جب صحیح طریقے سے کوئی کسی چیز کا مالک بن جائے تو اس کو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ایک ہى چیز کا حکم دو لوگوں کے لئے الگ الگ ہوسکتا ہے، ایک کے لئے حلال تو دوسرے کے لئے حرام۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اول: سود اسلام میں حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد مبارک ہے۔
«لَعَنَ رَسولُ اللهِ ﷺ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقالَ: هُمْ سَوَاءٌ »([1])۔
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور یہ فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔
ہندوستان کے بینک سودى کاروبار کرتے ہیں،ان میں كسى بھى طرح کى ملازمت بالکل جائز نہیں۔ سودى بینک میں کسى بھى طرح کا کام برائى پر تعاون میں داخل ہے۔ فرمان الہی ہے: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ "
ترجمہ: "نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و زیادتی میں کسی کا بھی ساتھ نہ دو"۔
سود کى حرمت و قباحت کى بنا پر متعدد اہل علم نےسودى بینكوں ميں ملازمت كى حرمت كا فتوى دیا ہے۔ ([2])۔
دوم: والد نے بینک سے جو دولت کمائى ہے وہ بلا شبہ حرام ہے۔ لیکن والد پر اپنے اہل وعیال کى کفالت لازم ہے۔ اس صورت میں وضاحت یہ ہے کہ اگر حرام کمانے والا شخص اپنی حرام کمائی سے بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے تو ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ، حرام کمانے کا گناہ صرف اسی شخص پر ہو گا جس نے حرام کمایا ہے کسی اور پر کچھ نہیں ہو گا۔ یہود سودى لین دین کرتے تھے، حرام طریقوں سے کمائى کرتے تھے؛ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے ان کى دعوت قبول فرمائى اور ان كا كھانا بھى کھایا۔حضرت انس بن مالك رضي الله عنہ سے روایت ہے:
«أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا، فَقِيلَ: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا. فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ ﷺ » ([3]).
ترجمہ: " ایک یہو دی عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپﷺ نے اس میں سے کچھ کھایا ،پھر اسے پکڑ کر حاضر کیا گیا۔ لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے حلق مبارک (گلے کے اندرونی حصے) میں اس زہر کے اثرات کو پہچانتا رہا۔”
حضرت انس بن مالك رضي الله عنہ سے روایت ہے:
«أُتِيَ النَّبِيُّ ﷺ بِلَحْمٍ، فَقِيلَ: تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، قَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ.»([4]).
ترجمہ:" رسول اللہ ﷺکی خدمت میں ایک مرتبہ گوشت پیش کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے بطور صدقہ کے دیا ہے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ ان کے لیے یہ صدقہ ہے اور ہمارے لیے ( جب ان کے یہاں سے پہنچا تو ) ہد یہ ہے۔"
اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک ہى چیز کا حکم دو لوگوں کے لئے الگ الگ ہوسکتا ہے، ایک کے لئے حلال تو دوسرے کے لئے حرام۔
حضرت بریرۃ کوگوشت بطور صدقہ دیا گیا اور ان کے لئے صدقہ قبول کرنا جائز ہے،لیکن اہل بیت کے لئے صدقہ کھانا جائز نہیں۔ جب یہى گوشت حضرت بریرۃ نے بطور ہدیہ نبى ﷺ کو پیش کیا تو آپ ﷺ نے کھایاكیونکہ اہل بیت کے لئے ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے ایک سوال پوچھا گیا:
میرے والد کو اللہ تعالی معاف فرمائے، وہ ایک سودی بینک میں ملازم ہیں، اب ہمارے لیے کیا حکم ہے کہ ہم اپنے والد کی کمائی کھا پی سکتے ہیں؟
اس کے جواب میں انہوں نے کہا:
" میں سمجھتا ہوں کی آپ کا اپنےوالدکى کمائى سےکھاناپینا خرچہ لینا حلال ہے۔ والد صاحب کا مال ان کے لئے حرام ہے، لیکن آپ کے لئے حلال ہے۔ حرام کمائى کا گناہ والد پر ہوگا، لیکن اس گناہ کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ دیکھیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک یہودی سے تحفہ قبول کرتے ہیں، یہودیوں کا کھانا بھی کھاتے ہیں، ایسے ہی یہودی کے ساتھ لین دین بھی کرتے ہیں، حالانکہ یہودی سودی لین دین اور حرام کھانے میں مشہور تھے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے حلال طریقے سے لیا ہے، لہذا جب صحیح طریقے سے کوئی کسی چیز کا مالک بن جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دیکھیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی بریرہ، اُنہیں صدقے میں گوشت دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و سلم اسی وقت گھر آئے تو ہنڈیا میں گوشت پکتا ہوا پایا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھانا طلب کیا، تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا لیکن اس میں گوشت نہیں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کیا مجھے چولہے پر ہنڈیا نظر نہیں آئی تھی؟! تو اہل خانہ نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! لیکن اس ہنڈیا میں موجود گوشت بریرہ کو صدقے میں ملا تھا، اور آپ صدقے کی چیز نہیں کھاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور [بریرہ کی طرف سے] ہمارے لیے ہدیہ ہے)تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ گوشت تناول فرمایا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر صدقے کا مال کھانا حرام ہے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے بطور صدقہ نہیں لیا بلکہ بطور تحفہ اور ہدیہ لیا ہے۔
تو ان بہن بھائیوں کے لیے ہم کہیں گےتم اپنے والد کی کمائی کھل کر کھا پی سکتے ہو، سودی کمائی کا وبال تمہارے والد پر ہی ہو گا، الا کہ اللہ تعالی اسے ہدایت دے دے، اور وہ توبہ کر لے، کیونکہ توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ تعالی قبول فرماتا ہے۔" ([5]).
سعودى عرب کى دائمی فتوی کمیٹی کے علماء کا فتوى ہے:
"والد کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ بچوں کی پرورش حرام مال سے کرے جبکہ بچوں کے بارے میں یہ ہے کہ اس حرام مال کی کمائی میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے اس کا گناہ صرف ان کے والد پر ہے ([6])۔
اوپر ذکرکى گئى تفصیل سے پتہ چلا کہ والد کى کمائى ان کے لئے حرام ہے لیکن ان کے بچوں کے لئے حلال ہے۔ وہ اس میں سے کھا بھى سکتے ہیں، خرچ بھى کرسکتے ہیں، اور والد کى وفات کے بعد ان کى جائیداد میں وارث بھى بن سکتے ہیں۔
واللہ اعلم

