سوال
سوال: ایک شخص ڈپریشن (ذہنی دباؤ اور بے چینی) کا مریض ہے اور اس کا ذہن معمول کے مطابق کام نہیں کرتا۔ وہ کبھی نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔ ذہن صاف نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ وضو کرتا رہتا ہے اور اسی میں اس کا پورا دن ضائع ہو جاتا ہے۔ کیا ایسے شخص کے لیے تیمم کرنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو اس کی کیا دلیل ہے؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
جواب : الحمد للہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ، أما بعد
شدید ڈپریشن کا ایسا مریض جس کا ذہن صاف نہیں رہتا اور جس کا وضو مسلسل تکرار میں بدل کر سارا دن کھا جاتا ہے، شرعی طور پر اس مریض کے حکم میں ہے جو پانی استعمال کرنے سے بیماری کے بڑھنے یا شفا میں تاخیر سے ڈرتا ہو، یا جو پانی استعمال کرنے سے حقیقتاً یا حکماً عاجز ہو۔ اسلامی شریعت آسانی دینے اور تنگی دور کرنے کے لیے آئی ہے ، اس لئے ایسے مریض کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: 43]
«اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو، پھر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو» (سورۃ النساء: 43)۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بیمار کو تیمم کی اجازت دی ہے ، اور فقہی نقطۂ نظر سے "مرض" صرف ظاہری جسمانی بیماری تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ نفسی یا جسمانی عارضہ اس میں شامل ہے جس کی وجہ سے پانی کا استعمال نقصان دہ ہو یا انسان معمول کے مطابق عبادت کرنے سے عاجز ہو جائے۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} [الحج: 78].
«اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی» (سورۃ الحج: 78)۔
وضو کا اتنا دہرایا جانا کہ پورا دن ضائع ہو جائے، یہی وہ تنگی اور مشقت ہے جسے دور کرنے کے لیے دین آیا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، اس شخص کے واقعے میں جس کے سر میں زخم آیا، پھر اس نے غسل کیا اور فوت ہو گیا۔
«قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ...» ( 1).
«انہوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے۔ جب انہیں معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھا کیوں نہیں؟ لاعلمی کا علاج پوچھ لینا ہے۔ اسے تو بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا...»
اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ مشقت، یا بیماری کے بڑھنے یا ہلاکت کا خوف پانی کے بجائے تیمم کو جائز کر دیتا ہے۔
اور فقہی قا عدہ ہے کہ " المشقة تجلب التيسير" "مشقت آسانی کو کھینچ لاتی ہے": جب معاملہ تنگ ہو جائے تو گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ وضو میں ذہن کے الجھے رہنے سے اس کا دن اور نمازیں ضائع ہو رہی ہیں، اس لیے شریعت اس کے لیے تیمم کا دروازہ کھولتی ہے تاکہ وہ سکون سے وقت پر نماز ادا کر سکے۔
اس لئے کی دین میں " لا ضرر ولا ضرار"نہ نقصان اٹھانا ہے نہ نقصان پہنچانا" ہے ، لہذا اس مریض کو پانی سے وضو کا پابند کرنا، جبکہ وہ ذہنی انتشار اور نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے، اسے شدید نقصان پہنچاتا ہے اور عبادت کا اصل مقصد یعنی خشوع بھی فوت کر دیتا ہے۔وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شدید ڈپریشن یا وسوسے کا ایسا مریض، جو بار بار وضو دہرانے کی وجہ سے حقیقتاً عاجز ہو جائے اور اس کا دن اور نماز کا وقت ضائع ہونے لگے، اس کے لیے "مرض" اور "رفعِ حرج" کی بنا پر تیمم جائز ہے۔ تاہم اصل ہدایت یہی ہے کہ ایک بار وضو کر کے شک کی پروا کیے بغیر نماز پڑھے، اور تیمم صرف حقیقی عجز کی صورت میں کرے۔
( 1) سنن ابی داود، حدیث نمبر (۳۳۶)۔ شیخ البانی نے صحیح کہا ہے۔

