سوال
کیا غیر مسلم کى عیادت کى جاسکتى ہے؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
نبى ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ غیر مسلم کى عیادت کے لئے جاتے تھے۔ حضرت انس رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ ﷺ، فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ: أَسْلِمْ. فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» ([1])۔
ترجمہ:
ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہوگیا تو آپ ﷺ اس کى عیادت کے لئے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہوجا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔باپ نے کہا : ابوالقاسم ﷺ کى بات مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب آنحضرت ﷺباہر نکلے تو آپ نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچالیا۔
اسى طرح صحابى رسول حضرت ابو الدرداء رضى اللہ عنہ اپنے یہودى پڑوسى کى عیادت کے لئے گئے تھے۔ ([2])۔
پتہ چلا کہ غیر مسلم کى عیادت کرنا جائز ہے۔اور اگر وہ رشتہ دار ہو تو اس کا حق زیادہ ہے۔مسلمان کى توجہ ہونى چاہیئے کہ عیادت کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر مسلم کودین کى دعوت پیش کرے۔اس کے جسم کى شفا سے زیادہ روح اور دل کى شفا کا خیال رکھے۔
واللہ اعلم

