سوال
امام سے آگے کھڑا ہونا کیسا ہے بالخصوص حرمین میں؟
جواب
جواب مختصر
اختصار :
چونکہ مقتدی امام کے تابع ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے ہی نماز پڑھے اور اس کی متابعت کرے ۔
اگر مسجد تنگ ہو یا بھیڑ بھاڑ اتنی ہو کہ آگے پیچھے کا کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا ہو تو نماز میں امام کے آگے ہوجانے سے بھی دُرُست ہو جائیگی لیکن بحالت مجبوری ۔ اور رہی بات یہ کہ امام کے آگے نماز نہیں ہوتی تو یہ عام حالالت کی بات ہے جو بالکل صحیح ہے کہ اگرکسی نے بلا مجبوری کے عام حالت میں امام سے آگے نماز پڑھ لی تو اس کی نماز نہیں ہوگی ۔ اور اگر کوئی عُذر ہو تو عُذر کی بنا پر واجب ساقط ہو جائے گا ، اور بھیڑ کا ہونا ایک عُذر ہے بالخصوص حرمین شریفین میں ، لہذا اگر یہاں کوئی آگے پیچھے ہو جائے تو ان شاء اللہ اس کی نماز ہو جائیگی ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
تفصیل :
نبى ﷺ کا ارشاد ہے: «إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ» ([1])۔
ترجمہ: امام بنایا ہى اسی لئے گیا ہے کہ اس کى اقتداء کى جائے۔
اس حدیث کى روشنى میں پتہ چلا کہ امام کی مکمل پیروی کرنا نماز باجماعت کے اہم اصول وضوابط میں سے ہے۔ امام سے آگے نماز پڑھنا منع ہے۔ امام سے آگے نماز پڑھنے والا ا مام کے تابع شمار نہیں ہوگا۔ ([2])۔
لیکن امام سے آگے نماز پڑھنے والے شخص کى نماز درست ہوگى یا نہیں؟ اس سلسلے میں علماء کا اختلاف ہے۔
1- بعض کے نزدیک نماز درست نہیں ہوگى۔ یہ بعض احناف وشوافع کا مسلک ہے۔
2- بعض کے نزدیک اگر کوئى مجبورى ہو تو نماز درست ہوگى۔ جیسے بھیڑ ہو، مسجد تنگ ہو وغیرہ۔ اس صورت میں تنہا نماز ادا کرنے سے بہتر ہے کہ امام کے ساتھ ادا ہو۔ یہ امام احمد کى ایک رائے ہے۔
جہاں تک رہى یہ بات کہ امام کے آگے نمازنہیں ہوتى۔ عام حالات میں بغیر کسى مجبورى کے یہ بات درست ہے۔ واضح رہے کہ امام کے پیچھے نماز ادا کرنا نماز کے واجبات میں سے ہے۔ اور کسى عذر کى بنا پر واجب ساقط ہوسکتا ہے۔ اور بھیڑ کا زیادہ ہونا ایک عذر ہے۔بالخصوص حرمین میں؛ جہاں بھیڑبہت ہوتى ہے۔ اس صورت میں اگر خواتین بھى مردوں کى صف سے آگے نماز پڑھیں تو ان کى نماز بھى درست ہوگى۔

