سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته میرا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک کمپنی میں 10 لاکھ روپے انویسٹ کیے وہ مجھے ماہانہ 25 ہزار روپیہ بطور پرافٹ دیتی ہے تو یہ جائز ہے یہ حرام ہے اگر یہ حرام ہے۔تو کیوں حرام ہے اس کا سبب بھی بتائیں ۔ مجھے تفصیلی طور پر جواب دے جزاكم الله خيرا
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
جواب : الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اسلام نے مال کمانے کے جائز طریقوں کی حوصلہ افزائی کی ہے، جن میں تجارت، شراکت اور مضاربت شامل ہیں۔ ان کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ نفع کا حق دار وہی ہے جو نقصان کا خطرہ بھی اٹھائے۔ اس کے برعکس سود کی بنیاد اس پر ہے کہ مال دینے والا ہر حال میں اپنے مال پر اضافہ پائے، چاہے کاروبار چلے یا ڈوبے۔
آج کل بہت سی کمپنیاں "سرمایہ کاری" اور "پرافٹ" کے نام پر ہر ماہ مقررہ رقم دیتی ہیں۔ نام "پرافٹ" ہو، تب بھی شریعت میں اعتبار حقیقت اور معاہدے کی ساخت کا ہے: "العبرة للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني"۔ اس لیے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ معاملہ حقیقت میں شراکت و مضاربت ہے یا قرض پر مقررہ اضافہ۔
سوال میں جو صورت بیان ہوا ہے، یعنی 10 لاکھ روپے کے بدلے ہر ماہ 25,000 روپے کی مقررہ رقم، چاہے کمپنی کو نفع ہو یا نقصان، یہ شرعاً ناجائز اور سود (ربا) ہے۔
اس معاملے میں حرمت اور فساد کى متعدد بنیادی وجوہات ہیں:
۱- نفع کی ضمانت ایک مقررہ رقم کی صورت میں: شریعت اسلامیہ مضاربت اور شراکت کے عقود میں یہ شرط لگاتی ہے کہ نفع حقیقی کمائے ہوئے منافع کا فیصدی حصہ ہو (مثلاً صافی نفع کا 50% یا 30%)، نہ کہ کوئی طے شدہ اور ثابت رقم۔ 25,000 روپے کی رقم مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو یہ مال ملے گا چاہے کمپنی کو نفع ہو یا نقصان۔ یہ بات تجارت میں خطرے اور شراکت کے اصول کو ختم کر دیتی ہے۔
۲- معاملے کی حیثیت سودی قرض کی ہے: جب رقم مقرر ہو اور ساتھ میں اصل سرمایہ بھی محفوظ ہو تو یہ عقد فقہی طور پر "سرمایہ کاری" سے بدل کر "ایسا قرض بن جاتا ہے جو نفع کھینچ لائے"۔ اس صورت میں کمپنی نے آپ سے دس لاکھ روپے قرض لیے ہیں اور آپ کا مال اپنے پاس رکھنے کے بدلے ہر ماہ مقررہ سود دے رہی ہے، اور یہ صریح سود ہے۔کیونکہ سودى اور حرام قرض كى حقيقت يہ ہے كہ اس میں مال دے کر نفع یا اس کا بدل حاصل کیا جاتا ہے۔
مشہور عالم اور فقیہ ابن قدامہ رحمہ اللہ " المغنى" ميں كہتے ہيں:
"وكلُّ قَرْضٍ شَرَطَ فيه أن يَزيدَهُ، فهو حَرَامٌ، بغير خلَافٍ. قال ابنُ المُنْذر: أجْمَعُوا على أن المُسْلفَ إذا شَرَطَ على المُسْتَسْلف زيَادَةً أو هَديَّةً، فأَسْلَفَ على ذلك، أنَّ أخْذَ الزّيَادَة على ذلك ربًا. وقد رُوىَ عن أُبَىّ بن كَعْبٍ، وابن عَبّاسٍ، وابن مَسْعُودٍ، أنَّهم نَهَوْا عن قَرْضٍ جَرَّ مَنْفعَةً." اهـ ( 1)۔
"اور ہر وہ قرض جس ميں زيادہ كى شرط ہو وہ بغير كسى اختلاف كے حرام ہے، ابن منذر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اس پر سب کا اجماع ہے كہ قرض دينے والے نے جب قرض لينے والے كے ليے زيادہ يا ہديہ كى شرط ركھى اور اس شرط پر قرض ديا تو اس پر حاصل كردہ زيادہ سود ہو گا۔اور ابى بن كعب، اور ابن عباس ، ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہم سے مروى ہے كہ انہوں نے نفع لانے والے قرض سے منع كيا ہے"۔
۳- سرمایے کی ضمانت اور نقصان میں شرکت نہ ہونا۔ جائز سرمایہ کاری میں سرمایہ کار نفع کے ساتھ نقصان کا خطرہ بھی اٹھاتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دس لاکھ کی ضمانت دے اور نقصان کی صورت میں بھی آپ کو رقم ملے، تو یہ شرعی شراکت نہیں رہی۔ شریعت کا اصول ہے: "الغنم بالغرم" یعنی نفع اسی کو ملے گا جو نقصان کا خطرہ بھی اٹھائے۔
۴- غرر اور دھوکے کا خدشہ۔ ماہانہ 2.5% منافع سالانہ تقریباً 30% بنتا ہے، جو عام کاروباری نفع سے بہت زیادہ ہے۔ ایسی اسکیمیں اکثر پونزی (فراڈ) اسکیم ہوتی ہیں جن میں پرانے سرمایہ کاروں کو نئے لوگوں کے پیسوں سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہ ظلم، دھوکہ اور باطل طریقے سے مال کھانا ہے۔ اللہ تعالى کا ارشاد ہے:
ﵟ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بٱلۡبَٰطل ﵞ ﵝالبَقَرَة : ﵘﵘﵑﵜ
"اپنا مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ"
اگر آپ اس کمپنی کے ساتھ قانونی طور پر اور شریعت اسلامیہ کے مطابق چلنا چاہتے ہیں تو عقد کی صورت اس طرح بدلنی ہو گی:
۱- نفع میں فیصدی حصے پر اتفاق: حقیقی طور پر حاصل ہونے والے منافع میں سے ایک متعین فیصد طے کیا جائے، نہ کہ سرمائے میں سے (مثال: آپ کے لیے کمپنی کے ماہانہ صافی منافع کا 20% اور باقی ان کا)۔
نقصان برداشت کرنا: آپ کو سرمائے میں مالی نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا، اگر ایسا ہو جائے (اللہ نہ کرے)، بشرطیکہ کمپنی کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی کوتاہی یا جان بوجھ کر لاپروائی نہ ہو۔
۲- ماہانہ پیشگی رقم اور سال کے آخر میں حساب: آپ کے لیے ان کے ساتھ یہ طے کرنا جائز ہے کہ آپ منافع کے حساب میں سے ہر ماہ 25,000 روپے نکالیں، بشرطیکہ وقتاً فوقتاً (مثلاً سال کے آخر میں) حساب اور جائزہ ہو کر رقوم کی تصفیہ کی جائے؛ پس اگر آپ کا حقیقی نفع زیادہ نکلے تو باقی آپ لے لیں، اور اگر کم نکلے تو زائد رقم کمپنی کو لوٹا دیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ دس لاکھ روپے لگا کر ہر ماہ 25,000 روپے کی مقررہ رقم لینا، چاہے کمپنی کو نفع ہو یا نقصان، سود کے حکم میں ہے۔ شراکت اور مضاربت میں نفع کل منافع کے فیصدی حصے کی صورت میں طے ہوتا ہے، اور نفع اسی کا حق ہے جو نقصان کا خطرہ بھی اٹھائے۔ جائز صورت یہ ہے کہ فیصدی نفع طے ہو اور ماہانہ رقم صرف پیشگی ہو، جس کا سال کے آخر میں حساب ہو۔ (2 ).
واللہ اعلم
( 1) المغنى لابن قدامہ المقدسى، 6/436۔
( 2) تفصیل کے لئے دیکھیں: ابن قدامہ "المغنی" (5/22) ۔ "انسائیکلوپیڈیا آف فقہ" (38/63-64)

