سوال
كیا مرد کا مادہ توليد سيرينج کے ذریعہ اسکی عورت میں منتقل کرانا ڈاکٹر کے مشورے کے بعد شرعا جائز ہے؟
جواب
جواب مختصر
اولاد نہ ہونا یا اولاد ہونے میں تاخیر اللہ تعالى کى حکمت ہوتى ہے لیکن یقیناً یہ ایک آزمائش بھى ہے، میاں بیوى کو اس پر اجر وثواب کى نیت سے صبر کرنا چاہیئے اور زیادہ سے زیادہ دعا واستغفار کرنا چاہیئے اور علاج کے جائز طریقوں کو استعمال کرنا چاہیئے تعویذ گنڈہ یا جادو وغیرہ و دیگر ناجائز ذرائع علاج سے بچنا چاہیئے۔
ہاں اگر کسى وجہ سے میاں بیوى کے یہاں ولادت نہیں ہورہى ہے تو مرد کا مادہ منویہ اس کى بیوى کے بطن میں امانت دار ڈاکٹرس کى نگرانى میں تولید کے لئے منتقل کرنا جائز ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اولاً: یقیناً اولاد دنیا کی نعمتوں اور زینت میں سے ہے، اور نکاح کا ایک اہم مقصد اولاد پیدا کرنا ہے۔نیک اولاد اس کے والدین کے لیے صدقہ جاریہ ہوتى ہے۔
اولاد نہ ہونا یا اولاد ہونے میں تاخیر اللہ تعالى کى حکمت ہوتى ہے لیکن یقیناً یہ ایک آزمائش بھى ہے، میاں بیوى کو اس پر اجر وثواب کى نیت سے صبر کرنا چاہیئے اور زیادہ سے زیادہ دعا واستغفار کرنا چاہیئے اور علاج کے جائز طریقوں کو استعمال کرنا چاہیئے تعویذ گنڈہ یا جادو وغیرہ و دیگر ناجائز ذرائع علاج سے بچنا چاہیئے۔
دوم: شوہر یا بیوى میں کسى بیمارى یا میڈیکل کےسبب غیر طبیعى ولادت یعنى شوہر کا مادہ منویہ اسکى بیوى کے رحم میں ڈال کر تولید جائز ہے۔ لیکن اس کےجائز ہونے کى بعض شرائط ہیں:
یہ صرف شرعى شوہر اور بیوى کے درمیان ہو، یعنى شوہر کى منى اپنى ہى بیوى کے رحم میں ڈالى گئى ہو۔ کسى دوسرى عورت کے رحم میں نہ ڈالى گئى ہو۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
" وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَنفسکم أَزۡوَٰجٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةٗ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِۚ أَفَبِٱلۡبَٰطِلِ يُؤۡمِنُونَ وَبِنِعۡمَتِ ٱللَّهِ هُمۡ يَكۡفُرُونَ " النَّحۡل :72
ترجمہ: اور اللہ نے تمھارے لئے خود تمہیں میں سے بیویاں بنائیں اور تمھارے لئے تمھاری بیویوں سے بیٹے اور پوتے بنائے اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیاتو کیا وہ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا وہ انکار کرتے ہیں۔
یہاں اولاد اور پوتے کے لئے میاں بیوى کا ذکر کیا ہے۔
دوسرى جگہ اللہ تعالى ارشاد فرماتے ہیں:
" نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٞ لَّكُمۡ فَأۡتُواْ حَرۡثَكُمۡ أَنَّىٰ شِئۡتُمۡۖ وَقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُمۡۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّكُم مُّلَٰقُوهُۗ وَبَشِّرِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ " البَقَرَةِ : 223
تمھاری عورتیں تمھارے لئے کھیتی ہیں، سو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ اور اپنے لئےآگے (سامان) بھیجو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ یقیناً تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔
اس آیت میں بیوى کو کھیتى کہا گیا ہے اس کا مطلب بیوى کے علاوہ دوسرى عورت مرد کى کھیتى نہیں ہے۔ ( 1)
فقہ اکیڈمى جدہ کى قرار داد کے مطابق:
لا حرج من اللجوء إليها عند الحاجة، مع التأكيد على ضرورة أخذ كل الاحتياطات اللازمة " . ( 2)۔
ضرورت پڑنے پر اس کا سہارا لینے میں کوئی حرج نہیں ہےلیکن اس سلسلے میں تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائى ضرورى ہے۔
مذکورہ تفصیل کى روشنى میں اگر کسى وجہ سے میاں بیوى کے یہاں ولادت نہیں ہورہى ہے تو مرد کا مادہ منویہ اس کى بیوى کے بطن میں امانت دار ڈاکٹر کى نگرانى میں تولید کے لئے منتقل کرنا جائز ہوگا۔
واللہ اعلم
( 1) تفصیل کے لئے دیکھیں: فتاوى شیخ ابن عثیمین، 17/27-28۔
( 2) قرار داد نمبر (34- 7/5)۔ (16-4/3) تفصیل کے لئے دیکھیں: فقہ اکیڈمى میگزین، (1/423)۔

