سوال
سود کھانے والے یا حرام کمائى والے کى دعوت قبول کرنا کیسا ہے؟
جواب
جواب مختصر
سود کھانے والے یا حرام کمائى والے کى دعوت قبول کرنا جائز ہے۔کیونکہ حرام کمانے کا گناہ یا سودی کاروبار کرنے کا گناہ اس کے کرنے والے پر ہوگا
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
سود کھانے والے یا حرام کمائى والے کى دعوت قبول کرنا جائز ہے۔کیونکہ حرام کمانے کا گناہ یا سودی کاروبار کرنے کا گناہ اس کے کرنے والے پر ہوگا نا کہ اس کے ما تحت زندگی گزارنے والوں پر ، یہود سودى لین دین کرتے تھے، حرام طریقوں سے کمائى کرتے تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے ان کى دعوت قبول فرمائى اور ان كا كھانا بھى کھایا۔حضرت انس بن مالك رضي الله عنہ سے روایت ہے:
«أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ بِشَاةٍ مَسْمُومَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا، فَجِيءَ بِهَا، فَقِيلَ: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ قَالَ: لَا. فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللهِ ﷺ » ([1]).
ترجمہ: " ایک یہو دی عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں زہر ملا ہوا بکری کا گوشت لائی، آپﷺ نے اس میں سے کچھ کھایا"۔
اس حدیث سے واضح ہوا کہ سود کھانے والے یا حرام کمائى والے کى دعوت قبول کرنى جائز ہے، البتہ راجح یہ ہے کہ اس بارے میں ان باتوں کو مد نظر رکھیں :
1 - اگر ایسے شخص کی دعوت قبول کرنے میں کوئی مصلحت ہو تو اس کی دعوت قبول کی جائے ۔
2- اور اگر کوئى مصلحت نہیں ہے تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے ، بلکہ بسا اوقات پرہیز واجب ہوگا ،کیونکہ بہت سے لوگ اس بات کو اپنی حرام کمائی کے لیے دلیل بنا لیتے ہیں ۔
واللہ اعلم

