سوال
عورت کا بحالت حیض زبانی یا مصحف سے تلاوت کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
تمام قائلین کے دلائل جمع کرنے اور ان پر غور و خوض کرنے سے یہی نتیجہ نکل کر سامنے آتا ہے کہ بحالت حیض و جنابت قرآن پڑھنے اور چھونے سے اجتناب بہتر ہے،تاہم پڑھ اور چھو لیا جائے تو جائز ہے۔ اور یہی رائے مناسب اور راجح نظر آتی ہے۔ جمہور علماء کرام جو مطلقا ممانعت کے قائل ہیں، ان کے پاس اپنے موقف کے اثبات کے لیے کوئی صحیح حدیث اور واضح نص نہیں ہے۔ جن احادیث سے استدلال کیا گیا ہے وہ سب ضعیف ہیں ۔اور جو حدیث صحیح ہے، محتمل المعنی ہے، اس لیے وہ بھی نص صریح یا دلیل قاطع نہیں بن سکتی۔
اسی طرح امام بخاری، امام ابن حزم اور دیگر ائمہ، جو مطلقاً جواز کے قائل ہیں، ان کے پاس بھی کوئی واضح دلیل نہیں ہے، ان کا استدلال صرف عمو می الفاظ پر مبنی ہیں، اس لیے اس سے مطلقاً جواز کا مفہوم محل نظر ہے۔ نیز آج کل ہر جگہ مدرسۃ البنات (بچیوں کے تعلیمی مدارس) عام ہو گئے ہیں، حفظِ قرآن کے بھی اور دینی علوم کی تدریس کے بھی۔ مطلقاً ممانعت اور عدم جواز کے فتویٰ پر عمل سے ان مدارس میں پڑھنے والی طالبات اور پڑھانے والی استانیوں کو جو مشکلات پیش آسکتی ہیں وہ محتاج وضاحت نہیں۔ یہ فقہی اصطلاح میں گویا عموم بلویٰ کی صورت پیدا ہو گئی ہے جس میں فقہاء جواز کا فتویٰ دیتے ہیں۔ ([1])۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
کسی خاتون کا بحالت حیض(ایام مخصوصہ) زبانی یا مصحف ہاتھ میں لے کر تلاوت کرنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، کوئی جائز قرار دیتا ہے تو کوئی عدمِ جواز کا قائل ہے۔ ہر ایک کے دلائل کا تجزیہ کرنے کے بعد جو خلاصہ نکلتا ہے اور جو بات راجح معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ حالت حیض میں قرآن کریم پڑھنے اور چھونے سے بچنا بہتر ہے تاہم اگر ضرورت ہو تو جنبی مرد اور حائضہ عورت کے لیے قرآن پڑھنا اور اسے چھونا جائز ہے۔
عدم جواز کے قائلین کے دلائل درج ذیل ہیں۔
1- نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
«لاَ تَقْرَأِ الحَائِضُ، وَلاَ الجُنُبُ شَيْئًا مِنَ القُرْآنِ» ([2]).
امام ترمذي رحمہ اللہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’صحابہ و تابعین اور مابعد کے اکثر اہل علم کا، جیسے: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا قول ہے کہ حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں، البتہ کوئی حرف یا آیت کا کوئی حصہ پڑھ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے ان کو صرف تسبیح و تہلیل کی اجازت دی ہے۔
2- نبی ﷺنے حضرت عمرو بن حزم کے نام فرمان لکھا تھا، اس میں فرائض وسنن، دیات اور صدقات وغیرہ کی تفصیل تھی، اس میں ایک بات یہ بھی تھی۔« أن لا يمسُّ القرآن إلا طاهر» ([3])۔
ترجمہ: قرآن کو وہی چھوئے جو پاک ہو۔
3- تیسری دلیل جس سے استدلال کیا جاتا ہے،وه قرآن کریم کی آیت لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ الوَاقِعَة : 79
ہے، یعنی ’’پاک لوگ ہی اسے چھوتے ہیں»۔
دوسرا موقف جواز کا ہے کہ حائضہ کا قرآن پڑھنا اور چھونا جائز ہے۔ ان مجوزین میں امام مالک،شافعی،ابن حزم الظاہری،احمد،امام طبری،بخاری، ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے حضرات و جلیل القدر ائمہ شامل ہیں،ان کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
1- نبی ﷺ کے زمانے میں حائضہ عورتوں کو تلاوت قرآن سے منع نہیں کیا جاتا تھا،اگر ایسا ہوتا تو ضرور ممانعت کی کوئی صحیح صریح روایت موجود ہوتی،جس طرح صوم و صلاۃ سے رک جانے کی ممانعت وارد ہے۔ ([4]).
2- حیض پر عورت کا اختیار نہیں ہوتا وہ اس کو اپنی مرضی سے ختم نہیں کر سکتی،حیض کا وقت طویل ہوتا ہے ایسی صورت میں جتنا بھی اسے قرآن یاد ہے بھول سکتی ہے۔ ([5])۔
3- نبی ﷺکی مشہور و معروف صحیح حدیث: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ» ([6]).
ترجمہ: ’’نبیﷺہر حالت میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔‘‘
اسی سے یہ استدلال ہے کہ ذکر کا لفظ عام ہے جس میں قرآن بھی شامل ہے کیوں کہ قرآن کو بھی ذکر کہا گیا ہے۔
گویا ان علماء کرام کے نزدیک اس حدیث کے عموم سے جنابت سمیت ہر حال میں قرآن کا پڑھنا جائز ثابت ہوا۔ شیخ البانی نے بھی اس حدیث (ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے تھے) سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے:’’محْدِثْ (بے وضو)، جنبی اور حائضہ کے لیے قرآن پڑھنے سے ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے بلکہ حضرت عائشہ سے مروی حدیث سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔‘‘ ([7]).
جہاں تک رہی بات مصحف کو ہاتھ لگانے یا اس سے تلاوت کرنے کی۔ تو اس سلسلے میں مالکیہ کا مذھب یہ ہے کہ: مصحف کو ہاتھ لگانے کے لیے وضو شرط ہے۔ لیکن قرآن کی تعلیم کے لیے وہ استاد اور شاگرد دونوں کو اس سے مستثنیٰ کرتے ہیں۔ بلکہ حائضہ عورت کے لیے بھی وہ بغرض تعلیم مصحف کو ہاتھ لگانا جائز قرار دیتے ہیں۔ ابن قدامہ نے المغنی میں امام مالک کایہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جنابت کی حالت میں تو قرآن پڑھنا ممنوع ہے مگر حیض کی حالت میں عورت کو قرآن پڑھنے کی اجازت ہے کیوں کہ ایک طویل مدت تک اگر ہم اسے قرآن پڑھنے سے روکیں گے تو وہ بھول جائے گی۔
ظاہریہ کا مسلک یہ ہے کہ قرآن پڑھنا اور اس کو ہاتھ لگانا ہرحال میں جائز ہے خواہ آدمی بے وضو ہو یا جنابت کی حالت میں ہو، یا عورت حیض کی حالت میں ہو۔ علامہ ابن حزم نے میں اس مسئلے پر مفصل بحث کی ہے جس میں انہوں نے اس مسلک کی صحت کے دلائل دیے ہیں اور یہ بتایا ہے کہ فقہاء نے قرآن پڑھنے اور اس کو ہاتھ لگانے کے لیے جو شرائط بیان کی ہیں، ان میں سے کوئی بھی قرآن وسنت سے ثابت نہیں ہے۔‘‘ ([8])۔
محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی کا موقف اوپر گزر چکا ہے کہ مُحْدثْ (بے وضو) جنبی اور حائضہ کے قرآن پڑھنے سے ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔
نیز تفسیر ثنائی میں یہ ذکر ملتا ہے کہ سورہ واقعہ آیت نمبر'79' لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ کی بنا پر بعض اہل علم بغیر وضو کے قرآن کریم کو چھونا جائز نہیں جانتے مگر اکثر محققین یہاں مراد لیتے ہیں کہ قرآن پاک سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو پاک باطن ہیں۔ ([9])۔
واللہ اعلم

