سوال
نماز میں قرات سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
اس میں علماء کا اختلاف ہے بعض جہرا بسملہ مستحب قرار دیتے ہیں تو بعض اسے ناپسند کرتے ہیں لیکن سرا ہی زیادہ پسندیدہ ہے اور یہی راحج اور افضل ہے ، کیونکہ آپ ﷺ جب بھی سورہ فاتحہ کی تلاوت شروع کرتے تو الحمد للہ رب العالمین سے ہی شروع کرتے تھے ، اور یہی راحج اور افضل ہے کیونکہ انس سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں :(صليت خلف رسول الله ، وخلف أبي بكر وعمر؛ وكانوا لا يجهرون ببسم الله الرحمن الرحيم) (مسلم) ترجمہ : میں نے نبی ﷺ ، ابوبکراور عمر کے پیچھے نماز پڑھی وہ لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا نہیں پڑھتے تھے ۔ ( ).
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل تفصیل سےسمجھنا ہوگا۔
اولاً: سب سے پہلے یہ جاننا ضرورى ہے کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) سورہ فاتحہ کا حصہ ہے یانہیں ہے۔یا وہ قرآن مجید کى ایک مستقل آیت ہے۔ اس لئے سورہ توبہ کے علاوہ تمام سورتوں سے پہلے اسے پڑھنا مستحب ہے۔ یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ ( )۔
حضرت ابو ہریرۃ کى مشہور حدیث اسى بات کى طرف اشارہ کرتى ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
" سَمِعْتُ رَسولَ اللهِ يقولُ: قالَ اللَّهُ تَعالَى: قَسَمْتُ الصَّلاةَ بَيْنِي وبيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، ولِعَبْدِي ما سَأَلَ، فإذا قالَ العَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العالَمِينَ}، قالَ اللَّهُ تَعالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي، وإذا قالَ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قالَ اللَّهُ تَعالَى: أثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وإذا قالَ: {مالِكِ يَومِ الدِّينِ}، قالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، وقالَ مَرَّةً فَوَّضَ إلَيَّ عَبْدِي، فإذا قالَ: {إيَّاكَ نَعْبُدُ وإيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قالَ: هذا بَيْنِي وبيْنَ عَبْدِي، ولِعَبْدِي ما سَأَلَ، فإذا قالَ: {اهْدِنا الصِّراطَ المُسْتَقِيمَ صِراطَ الَّذينَ أنْعَمْتَ عليهم غيرِ المَغْضُوبِ عليهم ولا الضَّالِّينَ} قالَ: هذا لِعَبْدِي ولِعَبْدِي ما سَأَلَ". ( ).
ترجمہ : حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : میں نے نماز (یعنی سورۃ الفاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے ۔ پس اس کا نصف حصہ میرا ہے اور نصف میرے بندے کا ہے ۔ اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے ملے گا۔ "(پھربات جاری رکھتے ہوئے ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"(سورۃ فاتحہ) پڑھو، جب بندہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ عز و جل فرماتا ہے " میرے بندے نے میری حمد بیان کی"جب(بندہ) کہتا ہے الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ،تو اللہ عز و جل فرماتا ہے "میرے بندے نے میری ثنا بیان کی"۔جب بندہ کہتا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ،تو اللہ عز و جل فرماتا ہے "میرے بندے نے میری عظمت بیان کی"جب بندہ کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ،تو اللہ فرماتا ہے "یہ (حصہ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے ملے گا"جب بندہ کہتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ،تو اللہ فرماتا ہے "یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو وہ ملے گا جس کا اس نے سوال کیا"۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِسورہ فاتحہ کا حصہ نہیں ہے۔
ثانیاً: نماز میں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ كوکسى بھى سورہ کے شروع میں -جہرى نماز میں بھى -خاموشى سے پڑھا جائے گا، ناکہ بلند آواز سے۔
مندرجہ ذیل حدیثیں اس پر دلالت کرتى ہیں:
پہلى حدیث: عن أنس قال: صَلَّيْتُ مع رَسولِ اللهِ وأَبِي بَكْرٍ، وعُمَرَ، وعُثْمَانَ، فَلَمْ أسْمَعْ أحَدًا منهمْ يَقْرَأُ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}. ( ).
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضي الله عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ: میں نے نبی اکرم ﷺ ابو بکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اور ان میں سے کسی کو بسم الله الرحمن الرحيم پڑھتے نہیں سنا ہے۔
دوسرى حدیث: عن أنس أنَّ النبيَّ وأَبَا بَكْرٍ، وعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ نْهما كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ بـ)الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ( ( ).
ترجمہ : حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ، حضرت ابوبکراور حضرت عمر نماز کی ابتداء الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے ۔
اس سے پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺ نے بلند آواز سے سورۃ فاتحہ پڑھی اور بسم اللہ بلند آواز سے نہیں پڑھی، اگر بسم اللہ سورۃ فاتحہ کا حصہ ہوتا تو آپ نے اس کو باقی آیات کی طرح بلند آواز سے پڑھا ہوتا۔
تیسری حدیث: حضرت انس ہى کى مذکورہ روایت کے دوسرے الفاظ امام احمد نے روایت کئے ہیں جس میں وضاحت ہے کہ: وكانوا لا يجَهرُوْنَ ببِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. ( ).
یعنی وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا نہیں پڑھتے تھے ۔
مذکورہ روایتوں سے پتہ چلا کہ نبی ﷺ سورہ فاتحہ کی قرات کرتے، بسم اللہ کی قرأت نہیں کرتے ۔
اس کے علاوہ مزید دلائل ہیں جن سے جہری نماز میں بسم اللہ سرا (خاموشى سے)پڑھنے کی دلیل ملتی ہے ۔ اس کے برخلاف جہری طور پہ بسم اللہ پڑھنے کی کوئی مرفوع صریح روایت نہیں ملتی ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جہری نماز میں قرات سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم سری طور پہ پڑھا جائے گا ، متعدد اہل علم کی بھى یہی رائے ہے ۔
مشہور محدث امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ حضرت انس کی حدیث کی روایتوں کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ حدیث واضح طور پر اس بات کى طرف اشارہ کرتى ہے کہ حضرت انس کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بسم اللہ خاموشى سے پڑھا کرتے تھے ۔ بلند آواز سے نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بسم اللہ سرے سے پڑھتے ہى نہیں تھے۔ جیسا کہ وہ لوگ کہتے ہیں جو علم میں مہارت نہیں رکھتے ۔ ( ).
مشہور محدث علامہ البانی ؒ کہتے ہیں کہ حق یہی ہے کہ جہرا بسم اللہ پڑھنے کے سلسلے میں کوئی صریح اور صحیح حدیث نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ سے حدیث انس سے سرا ثابت ہے ۔ اور میں اس کے دس طرق پہ مطلع ہوا جس کا ذکر صفۃ صلاۃ النبی ﷺ کی تخریج میں کیا ہے ۔ ( ).
شیخ ابن باز ؒ سے پوچھا گیا کہ نماز میں فاتحہ و دیگر سورت کی قرات پہ جہرا بسم اللہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
شیخ نے جواب دیا: اس میں علماء کا اختلاف ہے جہرا بسملہ مستحب قرار دیتے ہیں تو بعض اسے ناپسند کرتے ہیں لیکن سرا ہی زیادہ پسندیدہ ہے اور یہی راحج اور افضل ہے کیونکہ انس سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں :(صليت خلف رسول الله ، وخلف أبي بكر وعمر؛ وكانوا لا يجهرون ببسم الله الرحمن الرحيم) (مسلم)
ترجمہ : میں نے نبی ﷺ ، ابوبکراور عمر کے پیچھے نماز پڑھی وہ لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا نہیں پڑھتے تھے ۔ ( ).
سعودى عرب کى دائمى افتاء کمیٹى کا فتوی ہے کہ:
"ثابت شدہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت توبہ کے علاوہ سورت فاتحہ یا کسی اور سورت سے قبل بسم اللہ پڑھنا ثابت ہے، تاہم جہری نماز میں رسول اللہ ﷺتسمیہ بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔" ( ).
ایک اور مقام پر اس طرح کے سوال پر فتوی ہے کہ:
"اگر سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھے تو پھر تسمیہ آہستہ آواز میں پڑھے، اور اگر فاتحہ کے بعد کسی سورہ کے درمیان یا آخر سے تلاوت کرنی ہو تو پھر تسمیہ پڑھنا شرعی عمل نہیں ہے۔" ( ). واللہ أعلم
([1])( ) مجموع فتاوى ابن باز، 11/119۔
( ) مزید تفصیل کے لئےدیکھیں: المغني، ابن قدامہ، (2/ 147)، مجموع الفتاوى، ابن تیمیہ، 22/276و 436.
( ) صحیح مسلم حديث نمبر: 395۔
( ) صحیح مسلم ، حديث نمبر:399۔
( ) صحیح بخاري، حديث نمبر:710۔
( ) مسند احمد، حديث نمبر:12868۔
( )صحیح ابن خزیمہ، 1/250۔
( ) تمام المنۃ فی التعلیق على فقہ السنۃ، صفحہ نمبر:169۔
( ) مجموع فتاوى ابن باز، 11/119۔
( ) فتاوى اللجنۃ الدائمۃ، 6 / 378 ۔
( ) فتاوى اللجنۃ الدائمۃ ، 6 / 380 ۔

