سوال
کیا غائبانہ جنازہ کى نماز ادا کى جاسکتى ہے؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
اختصار:
اس شخص کى غائبانہ نماز جنازہ ادا کى جائے گى جو ایسى جگہ انتقال کیا ہو جہاں اس کى نماز جنازہ نہ ادا کى گئى ہو، یا اس شخص کى غائبانہ نماز جنازہ ادا کى جائے گى جس نے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا ہو۔ مثلاً: عالم دین، صاحب حیثیت و منصب، مجاہد، یا مالدار شخص جس نے اسلام کى خدمت کى ہو۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
جنازہ کى نماز در اصل موجودہ میت کے لئے ادا کى جاتى ہے۔ لیکن اگر کسى شخص کا انتقال دوسرے علاقہ میں ہوا ہو تو کیا اس پر دوسرى جگہ نماز جنازہ ادا کى جائے گى؟ اس مسئلہ میں علماء کے ما بین اختلاف ہے۔
صحیح بخارى اور صحیح مسلم میں ہے کہ جس دن حبشہ کا بادشاہ نجاشى فوت ہوا نبى کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس کى موت کى خبر دى اور جنازہ گاہ جاکر اپنے صحابہ کرام کے ساتھ صفیں بنا کر غائبانہ نماز جنازہ پڑھائى:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «نَعَى النَّبِيُّ ﷺ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، خَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَفَّ بِهِمْ، وَكَبَّرَ أَرْبَعًا»
ابوہریرہ رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجاشى کے فوت ہونے کے دن نبى ﷺ نے ان کى موت کى خبر دى۔ آپ ﷺ باہر جنازہ گاہ کى طرف گئے، لوگوں کے ساتھ صف بندى کى اور چار تکبیرات کہیں۔
نجاشى حبشہ کا بادشاہ تھا۔ اس کا نام اَصحمہ تھا۔ جب مکہ میں مسلمانوں کو تنگ کیا گیا تو کئى صحابہ نے حبشہ کى جانب ہجرت کى۔ وہاں نجاشى نے ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ مرنے سے پہلے اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔
یہ حدیث غائبانہ نماز جنازہ کى مشروعیت کى دلیل ہے۔
علماء کے اقوال:
پہلا قول: بعض علماء احناف اور مالکیہ کا کہنا ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ رسول کریم ﷺ کى خصوصیات میں شامل ہے۔ ([1])
بعض علماء اس کا جواب دیتے ہیں کہ خصوصیت دلیل کے ساتھ ثابت ہوتى ہے، اور اس مسئلہ میں خصوصیت کى کوئى دلیل نہیں۔
دوسرا قول: بعض شافعى اور حنبلى علماء کے مطابق دوسرے علاقے میں انتقال کرنے والے ہر شخص کى نماز جنازہ ادا کى جائے گى، چاہے وہاں اس کى نماز جنازہ ادا کى گئى ہو یا نہ کى گئى ہو۔ ([2])
تیسرا قول: اس شخص کى غائبانہ نماز جنازہ ادا کى جائے گى جس نے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا ہو۔ یہ قول امام احمد رحمہ اللہ کى طرف منسوب ہے اور سعودى عرب کى فتوى کمیٹى اور شیخ ابن باز کا یہى موقف ہے۔ ([3])
چوتھا قول: غائبانہ نماز جنازہ اس شرط پر جائز ہے کہ جہاں وہ فوت ہوا ہو وہاں اس کى نماز جنازہ ادا نہ ہوئى ہو۔ یہ قول بھى امام احمد رحمہ اللہ کى طرف منسوب ہے، اور ابن تیمیہ، ابن قیم اور شیخ ابن عثیمین بھى اسى کے قائل ہیں۔ ([4])
سعودى عرب کى مستقل فتوى کمیٹى کا جواب تھا:
«نبى كريم ﷺ كے فعل كى بنا پر غائبانہ نماز جنازہ ادا كرنا جائز ہے، اور نبى كريم ﷺ كى خصوصيات ميں شامل نہيں ... ليكن يہ اس شخص کے ساتھ خاص كرنا چاہيے جس كو اسلام ميں كوئى عظمت اور مرتبہ حاصل ہو، نہ كہ ہر شخص كا حق ہے» ([5])
خلاصہ: اس مسئلہ میں دو قول سب سے مناسب معلوم ہوتے ہیں:
پہلا: اس شخص کى غائبانہ نماز جنازہ ادا کى جائے جس کى نماز جنازہ ادا نہ ہوئى ہو۔
دوسرا: اس شخص کى غائبانہ نماز جنازہ ادا کى جائے گى جس نے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا ہو۔
فائدہ: غائبانہ جنازہ کى نماز کیسے ادا کى جائے گى:
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کسى دوسرے علاقے میں فوت شدہ شخص کى غائبانہ نماز جنازہ کى نیت کى جائے، قبلہ رخ ہوکر اسى طرح نماز جنازہ ادا کرے گا جس طرح حاضر میت پر نماز جنازہ ادا ہوتى ہے، چاہے میت قبلہ والے رخ میں ہو یا نہ ہو۔ امام شافعى رحمہ اللہ کا یہى قول ہے۔" ([6])
واللہ اعلم

