سوال
ممبئی اور دوسرے شہروں میں جو دعوہ سنٹرس اور ٹی وی چینلز چل رہے ہیں ،کیا یہ دعوہ سنٹرس اور ٹی وی چینلز والے حقیقی طور پر زکاۃ کے مستحق ہیں ؟اب تو کچھ اسلامک اسکول والے بھی زکاۃ وصول کررہے ہیں ۔جبکہ ان اسکول میں اچھی خاصی فیس وصول کی جاتی ہےکیا ان سب میں زکاۃ دینا صحیح ہے؟
جواب
جواب مختصر
زکاۃ اسلام کا ایک اہم رکن ہے ،زکاۃ کا مُنکِر اسلام سے خارج ہے ، جس پر اُس سے جنگ کی جائیگی جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین زکاۃ سے جنگ کی ،زکاۃ کے مستحقین کی تعداد و تفصیل اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ آيت نمبر 60 میں بیان کردی ہے ۔
البتہ اسلامک اسکولز والے اگر امانت دار ہوں اور زکاۃ صرف مستحق اور غریب طلباء ہى کو دیں، اسکول کے کسى اور کام میں زکاۃ استعمال نہ کریں تو انہیں زکاۃ کے مستحقین کا وکیل بنانے میں کوئى حرج نہیں۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اول: زکاۃ اسلام کے اہم ترین اقتصادی احکام میں سے ہے۔اس کا ایک مقصد غریبوں کی مدد بھى ہے۔ اور اللہ تعالى نے قرآن مجید میں زکاۃ کے جوآٹھ مصارف (یعنى زکاۃ کے مستحقین) بیان کئے ہیں ان میں مسکین بھی شامل ہے۔ " اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ " ([1])
ترجمہ: زکاة تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلب مقصود ہو اور غلاموں کو آزاد کرانے میں اور قرضداروں( کے قرض ادا کرنے میں) اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں ۔
زکاۃ کے حقیقى مستحق وہى لوگ ہیں جن کا تذکرہ اس آیت میں کیا گیا ہے۔
دوم: دعوہ سنٹرس اپنے دعوتى کاموں کى بنا پر زکاۃ کے مستحق نہیں، البتہ اگر وہ غریبوں یا ضرورت مندوں کى مدد کرتے ہوں تو وہ مستحقین زکاۃ کےوکیل شمار ہوں گے۔ انہیں اس شرط کے ساتھ زکاۃ دینا جائز ہوگا کہ وہ امانت دار ہوں اور زکاۃ اس کے مستحقین ہى کو دیں اور دعوۃ سینٹرس کےکسى اور کام میں زکاۃ استعمال نہ کریں۔
اگر دعوہ سینٹرس دعوتى اور خیراتى کاموں کو واضح کئے بغیر زکاۃ وصول کر رہے ہوں تو یہ غلط ہوگا،بلكہ يہ ان کےلئےجائز ہى نہیں ہے۔
سوم: فیس وصول کرنے والے تعلیمى اداروں کو زکاۃ دینا:
فیس وصول کر نے والے اسلامک اسکولس صرف تعلیم کى بنیاد پر زکاۃ کے مستحق نہیں ہوتے ، بلكہ اگر ان اسکولس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء غریب اور مسکین ہوں تو ان کا شمار زکاۃ کى قسم (الْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ ) میں ہوگا اس لحاظ سے بطور فقراء ومساکین زکاۃ کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں چند باتوں کا خیال رکھنا انتہائى ضرورى ہے۔
1- امت کى خدمت کے لئے مختلف دینى اور دنیوى علوم وفنون کے ماہرین کى سخت ضرورت ہو۔ متعدد صحابہ کرام و صحابیات مختلف دنیوى علوم وفنون کے ماہر تھے۔اس لئے قوم کى خدمت کى خاطر ایسے غریب طلبا جو جائز و مباح تعلیم حاصل کر رہے ہوں انہیں زکاۃ دینا جائز ہے ۔ بلکہ ان پر توجہ کى ضرورت ہے۔
2- تعلیم بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔لیکن اگر کوئى ایسى تعلیم حاصل کررہا ہو جو اسلام میں حرام ہو، جیسے موسیقى، ناچ گانے، جادو وغیرہ تو اسے زکاۃ دینا حرام ہوگاکیونکہ یہ حرام کام پر تعاون ہوگا۔
3- چونکہ زکاۃ غریبوں کی ملکیت کا تقاضا کرتی ہے، اس لئے یہاں یہ شرط ہے کہ رقم غریبوں کے حوالے کر دی جائے تاکہ وہ خود ادارہ کو ادا کریں، یا یہ کہ غریب اپنی طرف سے ادا کرنے کی اجازت طلب کرے۔
4- فیس ادا کرتے وقت اس بات کی تصدیق کرنی چاہیئے کہ طالب علم غربت کی شرط پر پورا اترے، اور اس کی یا اس کے والدین کى آمدنی ان کی بنیادی ضروریات کے لئے کافی نہیں ہے۔
اگر اسلامک اسکولز والے امانت دار ہوں اور زکاۃ صرف مستحق اور غریب طلباء ہى کو دیں، اسکول کے کسى اور کام میں زکاۃ استعمال نہ کریں تو انہیں زکاۃ کے مستحقین کا وکیل بنانے میں کوئى حرج نہیں۔
نوٹ : میرا نقطئہ نظر اس بارے میں یہ ہے کہ دین کی تعلیم و تبلیغ وغیرہ میں زکاۃ کا مال خرچ کیا جا سکتا ہے ، خاص کر موجودہ دور میں جب کہ حکومتیں اور سرمایہ دار حضرات دین سے متعلق اپنی ذمہ داریاں نِبھانے سے لا پرواہ ہیں ۔
اور یہاں پر یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ قدیم و جدید ہر دور میں بہت سے علماء نے اِن مصارف میں زکاۃ کے مال کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔ المجمع الفقھی کی قرار داد یہی ہے ، نیز ہندوستان کے متعدد علمائے اہلحدیث نے بھی اس کی اجازت دی ہے ، جیسے علامہ امرتسری اور حافظ عبد اللہ روپڑی رحمھما اللہ وغیرہ ، واللہ اعلم ( شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ ) واللہ اعلم

