سوال
كيا حضرت امير معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں آنا بغاوت شمار ہوگا؟ کیا حضرت عمار کو حضرت امیر معاویہ کے لشکر نے قتل کیا تھا؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
بغاوت ایک گناہ ہے، یہ جان بوجھ کر ہو تو گناہ عظیم ہے۔ لیکن بطور اجتہاد ہو اور بغاوت کى نیت نہ ہو تو ایسا فریق ان شاء اللہ معذور ہوگا۔ اور صحابہ کرام عموماً اور حضرت امیر معاویہ رضى اللہ عنہ خصوصاً مجتہد تھے۔ حضرت على رضى اللہ عنہ کے خلاف بغاوت ان کا مقصد نہ تھا۔
اس لئے علماء صحابہ کرام کے آپسى اختلاف اور لڑائیوں کو اجتہادى غلطیاں شمار کرتے ہیں۔ ان میں جو بر حق ہوگا اسے اللہ کے پاس دو اجر اور جو غلط ہوگا اسے ایک اجر ان شاء اللہ ملے گا۔
لیکن عام مسلمانوں کو چاہئیے وہ صحابہ کرام کے آپسى اختلافات میں خاموش رہیں۔ اور اپنى زبان محفوظ رکھیں۔ تمام صحابہ قابل احترام ہیں۔ ان کا برے انداز میں تذکرہ کرنا زندیق ہونے کى نشانى ہے۔ اللہ تمام صحابہ سے راضى ہو اور ہم سب کى مغفرت فرمائے۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضى اللہ عنہ کو خوارج نے شہید کیا تھا۔ حضرت عثمان رضى اللہ عنہ کى شہادت کے بعد حضرت على رضى اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا گیا۔
جن لوگوں نے حضرت عثمان کو شہید کیا تھا وہ حضرت على رضى اللہ عنہ کے لشکر میں جا کر مل گئے تھے۔ اور حضرت معاویہ رضى اللہ عنہ حضرت عثمان کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اور حضرت على رضى اللہ عنہ تھوڑى مہلت کے بعد ایسا کرنے کى سوچ رہے تھے۔ حضرت على اور معاویہ رضى اللہ عنہما کے درمیان اس بات پر اختلاف ہوا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے درمیان جنگ ہوئى۔ دونوں اپنے مطالبہ کو یا اپنے نقطہ نظر کو درست سمجھ رہے تھے۔
جہاں تک بات حضرت عمار بن یاسر رضى اللہ عنہ کى ہے تو آپ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا:
«وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ» ([1])
"افسوس ہے عمار پر! اسے باغى گروہ قتل کرے گا۔ عمار انہیں اللہ کى طرف بلا رہے ہوں گے اور وہ لوگ عمار کو جہنم کى طرف۔"
اس حدیث کى روشنى میں بعض اہل علم نے حضرت معاویہ رضى اللہ عنہ کے لشکر پر باغى ہونے کا حکم لگایا ہے۔ کیونکہ عمار رضى اللہ عنہ حضرت على کے لشکر میں تھے۔ اور معاویہ رضى اللہ عنہ کے لشکر کى جانب سے ان کا قتل ہوا تھا۔
یہاں یہ بات دھیان میں رہے کہ باغى ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اسلام سے خارج ہوگئے بلکہ وہ مسلمان ہى رہے۔ اللہ تعالى قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱقۡتَتَلُواْ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَهُمَاۖ فَإِنۢ بَغَتۡ إِحۡدَىٰهُمَا عَلَى ٱلۡأُخۡرَىٰ فَقَٰتِلُواْ ٱلَّتِي تَبۡغِي حَتَّىٰ تَفِيٓءَ إِلَىٰٓ أَمۡرِ ٱللَّهِۚ فَإِن فَآءَتۡ فَأَصۡلِحُواْ بَيۡنَهُمَا بِٱلۡعَدۡلِ وَأَقۡسِطُوٓاْۖ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ [الحجرات: 9]
"اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کرواو۔ اگر ایک گروہ دوسرے پر زیادتى کرے تو زیادتى کرنے والے گروہ سے اس وقت تک لڑو جب تک وہ حق کى طرف نہ لوٹ آئے۔ اگر وہ لوٹ آئے تو دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواو۔"
اس آیت میں آپس میں لڑنے والے دونوں گروہ کو مومن کہا گیا ہے۔
محمد بن نصر نے مشہور تابعى مکحول سے روایت کیا ہے: حضرت على رضى اللہ عنہ کے لشکر والوں نے حضرت معاویہ کى جانب سے مارے جانے والے افراد سے متعلق ان سے سوال کیا کہ ان کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا: وہ مومن ہیں۔ ([2])
اس لئے علماء صحابہ کرام کے آپسى اختلاف اور لڑائیوں کو اجتہادى غلطیاں شمار کرتے ہیں۔ ان میں جو بر حق ہوگا اسے اللہ کے پاس دو اجر اور جو غلط ہوگا اسے ایک اجر ان شاء اللہ ملے گا۔
واللہ اعلم

