سوال
غیر مسلموں (کفار و مشرکین) کے تہواروں میں شرکت اور ان کے تحفے قبول کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
اختصار:
مسلمان کے لیے کفار و مشرکین کے میلوں، تہواروں اور ان کی تقاریب و خوشی کے دنوں میں شریک ہونا، انہیں مبارکباد دینا، تحائف کا تبادلہ کرنا بالاتفاق حرام ہے۔
کفار و مشرکین کی عیدوں میں شرکت گویا دین الٰہی میں نرمی سے کام لینا، ان کے لیے نفسیاتی قوت اور دینی فخر کا باعث بننا اور ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے جس پر بڑی وعید آئی ہے:
«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» ([1])
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔"
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ چلتے پھرتے غیر مسلم کو گالی دیں، فحش گوئی و بداخلاقی کا مظاہرہ کریں یا ظلم و نا انصافی سے کام لیں۔ بلکہ دین کے معاملات میں تساہل نہ برتیں اور رہا حقوق تو اس کی ادائیگی ہر کسی کے لیے ضروری ہے۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
اس سوال کے دو حصے ہیں: ایک غیر مسلموں کے تہواروں میں شریک ہونا، دوسرا اس موقع پر ان کے تحائف قبول کرنا۔
اول: غیر مسلموں کے تہواروں میں شریک ہونے کا حکم
دین اسلام میں عیدالفطر و عیدالاضحی کے علاوہ کوئی عید نہیں ہے۔ صحیح حدیث میں جمعہ کے دن کو بھی ہفتے کی عید کہا گیا ہے۔ ان کے علاوہ کوئی بھی عید، جشن یا تہوار اسلام میں حرام ہے۔
مسلمان کے لیے کفار و مشرکین کے میلوں، تہواروں اور ان کی تقاریب و خوشی کے دنوں میں شریک ہونا، انہیں مبارکباد دینا، تحائف کا تبادلہ کرنا بالاتفاق حرام ہے۔
دلیل نمبر 1: کفار و مشرکین کی عیدوں میں شرکت گویا دین الٰہی میں نرمی سے کام لینا، ان کے لیے نفسیاتی قوت اور دینی فخر کا باعث بننا اور ان کی مشابہت اختیار کرنا ہے:
«مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» ([1])
"جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے۔"
دلیل نمبر 2: غیر مسلموں یا کفار کے تہوار میں شریک ہونا گویا ان سے محبت و مودت ظاہر کرنا ہے۔ اور مسلمانوں کو اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے:
﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ﴾ [المُمۡتَحَنَة: 1]
"اے ایمان والو! تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہو حالانکہ وہ اس دین برحق کا انکار کرتے ہیں جو تمہیں ملا ہے۔"
دلیل نمبر 3: کفار و مشرکین کے تہواروں میں شرکت کرنا مومنانہ روش کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَٱلَّذِينَ لَا يَشۡهَدُونَ ٱلزُّورَ﴾ [الفُرۡقَان: 72]
"مومن وہ ہیں جو جھوٹ کی محفلوں میں شرکت نہیں کرتے۔"
اس کی تفسیر میں متعدد سلف صالحین نے کہا ہے کہ یہاں "زُوْر" سے مراد کفار کے تہوار اور ان کی مجلسیں ہیں۔ ([2])
دلیل نمبر 4: حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ذکر ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے زمانے میں یہ نذر مانی کہ وہ مقام "بوانہ" میں اونٹ ذبح کرے گا، تو نبی ﷺ نے اس سے پوچھا:
«فَهَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ؟» ([3])
"کیا وہاں کوئی ان کا تہوار تو نہیں لگتا تھا؟" اس نے کہا: نہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اپنی نذر پوری کرو۔
چنانچہ کفار و مشرکین کے عید و تہوار والی جگہ پر اللہ کے لیے ذبح کرنا بھی معصیت ہے تو بنفس نفیس شریک ہونا کتنا بڑا گناہ ہوگا؟
دلیل نمبر 5: امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "عجمیوں کی زبان مت سیکھو اور مشرکوں کے عبادت خانوں میں ان کے تہوار کے دن مت جاؤ کیونکہ ان پر اللہ کی ناراضگی نازل ہوتی ہے۔" ([4])
فتاویٰ نذیریہ (صفحہ 275) میں ہے کہ: "ہنود کے میلوں میں جانا منع ہے، ہرگز شامل نہیں ہونا چاہیے، خواہ بغرض تجارت ہی کیوں نہ ہو، بلکہ اس قسم کے تمام منکرات کو ہاتھ اور زبان سے مٹانا چاہیے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دل سے ضرور برا جاننا چاہیے۔"
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "کوئی بھی مسلمان شخص جو کفار و مشرکین کے میلوں، تہواروں اور ان کی تقاریب و خوشی کے دنوں میں شریک ہو، انہیں مبارکباد دے یا تحائف کا تبادلہ کرے تو یہ باتفاق علماء حرام ہے، اور یہی ائمہ اربعہ کا بھی مذہب ہے۔" ([5])
دوم: کفار و مشرکین کے تہواروں کے موقع پر ان سے تحائف قبول کرنا
عام طور پر غیر مسلمین سے تالیف قلب اور انہیں اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے تحفہ لیا جا سکتا ہے، جیسے نبی ﷺ نے بعض کفار مثلاً مقوقس وغیرہ سے تحائف قبول فرمائے تھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح بخاری میں ایک باب قائم کیا ہے: "باب: قبول الهدية من المشركين" — اور اس ضمن میں متعدد ایسی احادیث ذکر کی ہیں جن میں صاف طور پر یہ بیان ہے کہ آپ ﷺ نے کفار و مشرکین کا تحفہ و ہدیہ قبول کیا ہے:
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ ﷺ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ» ([6])
"نبی ﷺ کو ایک یہودی عورت کی طرف سے زہر آلود بکری پیش کی گئی۔" (یعنی آپ نے تحفہ قبول فرمایا۔)
ابو حمید بیان کرتے ہیں:
«أَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ ﷺ بَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَكَسَاهُ بُرْدًا، وَكَتَبَ لَهُ بِبَحْرِهِمْ» ([7])
"نبی ﷺ کو ایلہ کے بادشاہ نے سفید مؤنث خچر اور ایک کپڑے کا جوڑا تحفے میں دیا۔"
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ ﷺ جُبَّةُ سُنْدُسٍ» ([8])
"نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دبیز قسم کے ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا۔" یہ تحفہ دومۃ الجندل کے حاکم اکیدر نے نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ ([9])
البتہ یہ واضح رہے کہ غیر مسلموں کے تہوار کے مواقع پر ان کے تحائف قبول کرنے سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو بھی روایات ملتی ہیں ان میں سے کوئی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔
خلاصہ: کسی بھی مسلمان کے لیے کفار و مشرکین کے تہواروں میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ ان کے تحفے تحائف قبول کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کے تہواروں کے دنوں میں قبول نہیں کیے جائیں گے۔ بلکہ انہیں بہتر اور عمدہ انداز میں سمجھایا جائے کہ ہمارے دین میں یہ جائز نہیں ہے اور آپ کی عید میں ایسے نظریات پائے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں درست نہیں — اس انداز سے بات کی جائے کہ وہ اسلام کا پیغام سمجھ سکیں۔
واللہ اعلم

