سوال
شوہر اور بیوى کا ناپاکى کى حالت میں روزہ رکھنے کا کیا حکم؟
جواب
جواب مختصر
میاں بیوى رات کے وقت تعلقات کى بنا پر ناپاک ہوجائیں یا احتلام کی وجہ سے غسل کی ضرورت ہو تو اس حالت میں دونوں پر واجب ہے کہ غسل بروقت کریں تاکہ نماز وقت پر ادا کی جا سکے، اور مرد جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھ سکے۔ البتہ اگر آنکھ دیر سے کُھلے اور دونوں ناپاکى کى حالت میں سحرى كريں، تو روزه صحیح ہوگا ، غسل میں تاخیر ہو جانے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
میاں بیوى رات کے وقت تعلقات کى بنا پر ناپاک ہوجائیں ، اور صبح ناپاکى کى حالت میں سحرى كريں، تو روزه صحیح ہوگا۔ البتہ ضرورى ہے کہ فجر كى نماز كا وقت رهتے ہوئے غسل کرلیں۔
اس پر بہت سی احادیث دلالت کرتی ہیں:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺسے پوچھا:
« تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ، فَقَالَ: لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي » ([1])۔
’’یا رسول اللہ! مجھ پر نماز کا وقت آ جاتا ہے جبکہ میں جنبی ہوتا ہوں، تو کیا میں روزہ رکھ سکتا ہوں؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے بھی نماز کا وقت حالت جنابت میں پا لیتا ہے اور میں روزہ رکھتا ہوں۔‘‘ اس شخص نے کہا: ’’یا رسول اللہ! آپ ہم جیسے نہیں، اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔‘‘ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! امید کرتا ہوں کہ میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور سب سے زیادہ پرہیزگار، ہوں۔‘‘
1- حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما فرماتى ہيں :
« أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا، مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُهُ» ([2])۔
’’نمیں گواہی دیتی ہوں کہ الہہ کے رسول ﷺ حالتِ جنابت میں غسل کرتے ، (جماع کی وجہ سے، نہ کہ احتلام کی وجہ سے) پھر اس دن روزہ رکھتے۔‘‘
2- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
«كَانَ رَسُولُ اللهِ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ لَا مِنْ حُلُمٍ، ثُمَّ لَا يُفْطِرُ، وَلَا يَقْضِي » ([3])۔
’’ رسول اللہﷺ جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے (جماع کی وجہ سے، نہ کہ احتلام کی وجہ سے)، پھر نہ روزہ توڑتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے۔‘‘
امام شوکانی رحمہ اللہ ان احادیث پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"هذه الأحاديث استدل بها من قال: إن من أصبح جنبًا فصومه صحيح ولا قضاء عليه من غير فرق أن تكون الجنابة عن جماع أو غيره، وإليه ذهب الجمهور، وجزم النووي بأنه استقر الإجماع على ذلك" ([4])۔
’’ ان احادیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جس شخص کو صبح اس حال میں پالے کہ وہ جنبی ہو، تو اس کا روزہ صحیح ہے اور اس پر قضا لازم نہیں، خواہ جنابت جماع سے ہو یا کسی اور سبب سے۔ جمہور علماء کا یہی موقف ہے اور امام نووی نے یہ بات تاکیداً کہی ہے کہ اِس پر علماء کا اجماع ہو گیا ہے ۔‘‘
یہ حکم فرض روزوں، قضا اور نفل روزوں سب کے لئے یکساں ہے۔ ([5])۔
لہٰذا فجر کے بعد غسل میں تاخیر کرنے میں کوئی حرج نہیں، نہ مرد کے لیے اور نہ عورت کے لئے، بشرطیکہ ہمبستری رات کو ہوئی ہو۔
لیکن اگر کوئی شخص غسل کو سورج نکلنے تک مؤخر کر دے تو یہ جائز نہیں، کیونکہ اس سے نماز قضا ہو جائے گی۔
واجب یہ ہے کہ غسل بروقت کیا جائے تاکہ نماز وقت پر ادا کی جا سکے، اور مرد جماعت کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھ سکے۔ البتہ روزہ بہرحال صحیح ہوگا، شرط یہ ہے کہ ہمبستری رات میں ہوئی ہو اور صرف غسل میں تاخیر ہوئی ہو، تو روزے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ واللہ اعلم

