سوال
نماز میں خشوع وخضوع کیسے پیدا ہو؟
جواب
جواب مختصر
قرآن وحدیث کی روشنی میں نماز میں خضوع و خشوع کے چند اسباب بیان کئے جا رہے ہیں ، نماز کی ادائیگی سے قبل انھیں اپنے ذہن میں رکھیں ۔
(1)ایمان و یقین کے ساتھ نماز پڑھنا (2) اللہ کی عظمت کے احساس سے خوف الہی اختیار کرنا (3) تلاوت قرآن کو سُننا یا تلاوت کرنا ، اور اس کے معنی و مفہوم پر غور و خوض کرنا (4) سُستی و کاہلی کو چھوڑ کر دِل کی حاضری کے ساتھ نماز پڑھنا اور سجدے کی جگہ کو دیکھنا(5) نماز کی ادائیگی کے وقت اپنے آپ کو مکمل تیار کرنا ، مسواک کرنا ، بھوک کا احساس ہو تو کھانا کھا لینا ، قضاء حاجت کی ضرورت ہو تو اسے پورا کر لینا (6) تصویر اور نقش و نگار والی چیزوں کو سامنے سے ہٹالینا ، (7) اگر نماز ایسی جگہ پڑھ رہے ہوں جہاں سے عوارت کے نظر آنے کا خدشہ ہو تو اس سے پردہ کر لینا ۔ وغیرہ
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
خشوع عربى زبان میں اللہ کے سامنے جھک جانے یا تذلل اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ اصل دل میں ہوتا ہے۔ اور اس کا اثر انسان کے اعضاء وجوارح پر دکھائى دیتا ہے۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں نماز میں خشوع حاصل کرنے کے چند اسباب ذکر کئے گئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ انسان اللہ تعالی کی عظمت کا احساس کرے، اور یہ خیال رکھے کہ وہ آسمان و زمین کے مالک کے سامنے کھڑا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦ وَٱلۡأَرۡضُ جَمِيعٗا قَبۡضَتُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ مَطۡوِيَّٰتُۢ بِيَمِينِهِۦۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ " الزُّمَر : 67
ترجمہ: اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ۔ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔
2۔ نماز میں سجدہ کی جگہ پر دیکھے ۔ اور ادھر اُدھر متوجہ نہ ہو، ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
«لا يزالُ اللهُ عز وجل مُقبلًا على العبدِ وهو في صلاته ما لم يلتفت، فإذا التَفَتَ انصَرَفَ عنه» ([1])۔
ترجمہ: " بندہ جب نماز میں ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کی طرف برابر متوجہ رہتا ہے جب تک کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے ۔ جب وہ ادھر ادھر دیکھنے لگ جائے تو اللہ بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے۔"
اسی طرح انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ؟. فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ، حَتَّى قَالَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ» ([2])۔
ترجمہ: لوگوں کا کیا حال ہے جو نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ آپ نے اس سے نہایت سختی سے روکا۔ یہاں تک آپ نے فرمایا کہ لوگ اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ ان کی بینائی اچک لی جائے گی۔
2۔ نماز میں پڑھے جانے والے اذکار اور قرآن میں غور وفکر کرے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ " مُحَمَّد : 24
ترجمہ: "کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں۔"
جب نمازى رکوع ،سجود اور ان کے علاوہ دیگر اذکار میں غور وفکر کرے گا تو اس کا دل بیدار ہوگا اور اس کے اندر خشوع پیدا ہوگا۔
4۔ آدمی نماز پڑھنے کے لئے اپنے آپ کو مکمل طور سے تیار کرے، کھانے کی موجودگی میں اور قضائے حاجت کی ضرورت کے وقت نماز نہ پڑھے۔ نبی ﷺنے فرمایا:
«لا صلاةَ بحضْرَةِ الطَّعامِ، ولا وهو يُدافعُه الأَخْبَثَانِ» ([3]).
ترجمہ: "جب کھانا حاضر ہو تو نماز نہ پڑھی جائے نیز ایسی حالت میں بھی کہ آدمی پیشاب پاخانے کو روک رہا ہو "۔
5۔ تصویر اور نقش و نگار کی ہر وہ چیز جو نماز سے غافل کردے اپنے سامنے سے ہٹالے، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:
قام رسول الله ﷺ يُصَلِّي في خَمِيصَةٍ ذاتِ أعلامٍ، فنظر إلى عَلَمِها، فلما قَضَى صلاته قال: «اذهَبوا بهذه الخميصة إلى أبي جَهْمِ بنِ حذيفةَ، وائتوني بأَنْبِجَانِيِّه؛ فإنها أَلْهَتْنِي آنفًا في صَلاتي» ([4])۔
ترجمہ: نبی ﷺنے ایک چادر میں نماز پڑھی۔ جس میں نقش و نگار تھے۔ تو آپ ﷺ کی نظر اس کے نقش ونگار پر پڑی ، تو جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم ( عامر بن حذیفہ ) کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ والی چادر لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا۔
نقش ونگار والى چیزوں میں ڈیزائن والے قالین اور مصلے بھى داخل ہیں۔
6۔ خشوع کے لئے مجاہدۂ نفس کرے، اور اس کے لئے جدوجہد کرے کیونکہ خشوع پیدا کرنا آسان کام نہیں، بلکہ اسکے لئے صبر اور مجاہدہ نفس بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: وَٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ فِينَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَاۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَمَعَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ " العَنكَبُوت : 69
ترجمہ: "اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ، ہم انھیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے، یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے"۔
صبر اور مجاہدہ نفس اور مسلسل جدوجہد سے نماز میں خشوع پیدا ہوسکتا ہے۔
7۔ انسان خشوع پر مرتب ہونے والے ثواب کو اپنے ذہن میں مستحضر رکھے ۔ عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:
«ما مِن امرئٍ مسلم تَحْضُره صلاةٌ مكتوبة، فيُحسِن وضوءها، وخشوعَها، وركوعَها، إلا كانتْ كفَّارةً لما قبْلها منَ الذنوب، ما لم يُؤت كبيرة، وذلك الدهرَ كلَّه» ([5])۔
ترجمہ: فرض نماز کا وقت ہوجائے تو جو مسلمان اچھى طرح وضو کرے ،اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور بہترین انداز سے رکوع کرے ، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ بات ہمیشہ کے لئے کی ۔
اوراسی طرح نبی ﷺنماز میں لوگوں میں سب سے زیادہ خشوع اختیار کرنے والے تھے، عبداللہ ابن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس حال میں کہ آپ کا سینہ رونےکی وجہ سے چکی چلنے کی طرح آواز کررہا تھا۔ ([6])۔
اسی طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی بہت زیادہ رونے والے شخص تھے، یہاں تک کہ جب وہ نماز پڑھاتے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو سنائی نہیں دیتا تھا۔([7])۔
واللہ اعلم

