سوال
ایک بالشت سے زیادہ داڑھى کاٹنے کا مسئلہ؟
جواب
جواب مختصر
رسول ﷺ نے داڑھى بڑھانے اور اسے اس کى حالت پر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور حکم کا مطلب یہ ہے کہ اسے کرنا واجب ہےد اڑھى كٹوانا نبى كريم ﷺكے حكم كے مخالفت ہے، آپ كا فرمان ہے: " داڑھى كو بڑھاؤ " اور " داڑھى کو لٹكاؤ " تو جو شخص نبى كريم ﷺ كى پيروى و اتباع كرنا چاہتا ہے وہ داڑھى كا كوئى بال نہ كاٹے، كيونكہ نبى كريم ﷺ كا یہی طريقہ ہے كہ داڑھى ميں سے كچھ بھى نہ كاٹا جائے۔
لہذا داڑھی منڈوانا حرام ہے ، اور داڑھی کو ایک بالشت سے زیادہ کو کاٹ دینا نا نبی ﷺ کا قولی سنت ہے نا فعلی ، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کا اپنا اجتہاد ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اللہ کے رسول ﷺ نے بہت تاکید سے داڑھى بڑھانے اور اسے اس کى اصل حالت پر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ خود رسول ﷺ نے بھى داڑھى بڑھائى ہےاور یہ رسول كريم ﷺكى فعلى اور قولى سنت بھی ہے۔
احادیث کے ذخیرہ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ رسول ﷺ نے داڑھى بڑھانے اور اسے اس کى حالت پر چھوڑنے کا حکم دینے کے لئے پانچ الفاظ استعمال کئے ہیں:
(أوفُوا)، و(أرخُوا)، و(أرجُوا)، و(وفِّروا)، و(أعفُوا)
ان تمام الفاظ کے معانى ملتے جلتے ہیں۔ یعنى: داڑھى بڑھاو اور اسے اس کى حالت پر چھوڑ دو۔ اس سلسلے میں چند حدیثیں ذکر کى جارہى ہیں:
1- حديث عبد الله بن عمرَ رضي الله عنهما مرفوعًا: «أحفُوا الشَّوارِبَ، وأوفُوا اللِّحَى» رواه مسلم. (۱ )۔
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضى اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول كريم ﷺنے فرمایا: مونچھوں خوکو مٹاو۔ اور داڑھى کو پورا کرو۔
2- حديث أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «جزُّوا الشَّواربَ، وأرخُوا اللِّحَى» رواه مسلم، (۲ )۔وجاء بلفظ (أرجُوا) بالجيم.
ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول كريم ﷺنے فرمایا: مونچھوں کو پست کرو۔ اور داڑھى کو لٹکاو۔ یعنى لمبا کرو۔
3- حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما مرفوعًا: «وفِّروا اللِّحَى، وأحفُوا الشوارِبَ» رواه البخاري.( ۳)۔
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضى اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول كريم ﷺنے فرمایا: داڑھى کو زیادہ کرو۔اور مونچھوں کو مٹاو۔
4- حديث عبد الله بن عمر رضي الله عنهما مرفوعًا: «أنهِكوا الشوارِبَ، وأعفُوا اللِّحَى» رواه البخاري، ومسلم بلفظ: «أحفُوا الشوارِبَ». ( ۴)۔
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضى اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول كريم ﷺنے فرمایا: مونچھیں خوب چھوٹى کرو۔ اور داڑھى کواپنى حالت پر چھوڑ دو۔
5- اور ايك روايت ميں ہے:
" مشركوں كى مخالفت كرو، اور مونچھيں كٹاؤ، اور داڑھياں اپنى حالت پر چھوڑ دو "( ۵)۔
6- اور امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" مونچھيں كاٹو، اور داڑھياں لمبى كرو، اور مجوسيوں كى مخالفت كرو "( ۶)۔
ان تمام احادیث میں قابل غور بات یہ کہ رسول ﷺ نے داڑھى بڑھانے اور اسے اس کى حالت پر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور حکم کا مطلب یہ ہے کہ اسے کرنا واجب ہے۔
خود رسول ﷺ کے بارے میں ذکر ہے کہ «وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ)( ۷)۔
آپ ﷺکى داڑھى کے بال بہت زیادہ تھے۔
ان احادیث سے پتہ چلا کہ داڑھى اگر کم ہو، گھنى نہ ہو تو کاٹنا یا چھوٹی کرنا جائز نہیں۔
در اصل علماء کا اختلاف اس مسئلہ میں ہے کہ اگر داڑھى بڑى ہو یا ایک مٹھى سے زیادہ ہو تو کیا اسے کانٹ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں دو قول ہیں:
پہلا قول یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ رسول ﷺ سے کہیں بھى داڑھى کانٹنے کا ثبوت نہیں ملتا۔ بلکہ رسول ﷺ نے داڑھى بڑھانے اور اسے اس کى حالت پر چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ قول متعدد اہل علم سے منقول ہے جس میں: امام طبرى، امام نووى، شیخ ابن عثیمین، شیخ ابن باز ، رحمہم اللہ وغیرہ شامل ہیں۔
دوسراقول یہ ہے کہ بعض اہل علم كى رائے میں مٹھى سے زائد داڑھى كاٹنا جائز ہے، انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كے فعل سے استدلال كيا ہے، بخارى نے روايت كيا ہے كہ:
" ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما جب حج يا عمرہ كرتے تو اپنى داڑھى كو مٹھى ميں پكڑتے اور جو اس سے زيادہ ہوتى اسے كاٹ ديتے"(۸)۔
یہ قول متعددقدیم اہل علم سے منقول ہے۔ جن میں حضرت عبد اللہ بن عمر، امام مالک، امام احمد، عطاء، ابن عبد البر،وغیرہ ہیں۔
دوسرے قول کے قائلین کى سب سے بڑى دلیل حضرت عبد اللہ بن عمر کا فعل ہے کہ وہ حج میں ایسا کرتے تھے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" عبد اللہ بن عمر کا عمل ان کا اجتہاد ہے۔اس لئے یہ قابل عمل نہیں۔ رسول ﷺ کا قول وعمل سب سے مقدم ہوگا۔ اس لئے کہ اصول ہے کہ کسى صحابى یا عالم کاقول اگر سنت کے خلاف ہو تو سنت پر عمل کیا جائے گا۔ اور رسول ﷺ نے داڑھى بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ اورکہیں بھى ایک مٹھى سے زیادہ داڑھى کانٹنے کا حکم نہیں دیا ہے۔ (۹ )۔
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
" داڑھى كٹوانا نبى كريم ﷺكے حكم كے مخالف ہے، آپ كا فرمان ہے: " داڑھى كو بڑھاؤ " اور " داڑھى لٹكاؤ " تو جو شخص نبى كريم ﷺ كى پيروى و اتباع كرنا چاہتا ہے وہ داڑھى كا كوئى بال نہ كاٹے، كيونكہ نبى كريم ﷺ كا طريقہ يہى ہے كہ داڑھى ميں سے كچھ بھى نہ كاٹا جائے، اور اسى طرح پہلے انبياء كا بھى يہى طريقہ تھا" (10 )۔
مندرجہ بالا تفصیل سے پتہ چلا کہ:
1- داڑھى منڈوانا حرام ہے۔
2- داڑھى اگر ایک بالشت سے کم ہو تو بالاتفاق اسے کانٹنا جائز نہیں۔
3- احتیاط کا تقاضا یہى ہے کہ رسول ﷺ کى اتباع کرتے ہوئےداڑھى کو اس کى اصل حالت پر چھوڑ دیا جائے۔اگر چہ وہ ایک بالشت سے بڑھ جائے پھر بھى اسے نہ کانٹا جائے۔
واللہ اعلم
( ۱) صحيح مسلم، حديث نمبر 259۔
( ۲) صحيح مسلم، حديث نمبر 260۔
(۳ ) صحيح بخارى، حديث نمبر 5892۔
( ۴) صحيح بخارى، حديث نمبر 5893۔
( ۵) صحيح مسلم، حديث نمبر 259۔
( ۶) صحيح مسلم، حديث نمبر 260۔
( ۷) صحيح مسلم، حديث نمبر 2344۔
( ۸) صحيح بخارى، حديث نمبر 5892۔
(۹ ) فتاوى و مقالات الشيخ ابن باز، 8/370۔
( 10) فتاوى ابن عثيمين، 11/126۔

