سوال
کسی کی بیوی انتقال کر گئی ،پر وہ شخص اپنے بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا ،وہ شخص مالدار بھى ہے اور دو بیٹے بھى ہیں؟ اب اس کی ادائیگی کا کیا طریقہ ہوگا اور کسے ادا کرنا ہوگا؟
جواب
جواب مختصر
یہ مہر شوہر پر قرض شمار کیا جائے گا، شوہر کو چاہیئے کی اسے ضرور ادا کر ے ۔ اب یہ مہر عورت کى جائداد کا حصہ بن جائے گا، اسے اس کے وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔
اس کے برعکس ، اگر شوہر بلا مہر کی ادائیگی کے فوت ہو جائے تو یہ اس کے بھی ذمہ قرض شمار کیا جائے گا ، اب اگر بیوی با حیات ہو تو ہو معاف بھی کر سکتی ہے ، اور اگر نا معاف کرے تو ترکہ تقسیم ہونے سے قبل اس کی مہر نکال کر بیوی کو ادا کر دیا جائے گا پھر ترکہ تقسیم ہوگا۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اول: بیوى کا انتقال ہوگیا لیکن شوہر نے اس کا مہر ادانہیں کیا تو یہ شوہر پر قرض شمار کیا جائے گا، شوہر کو چاہیئے کی اسے ضرور ادا کر ے ۔ اب یہ مہر عورت کى جائداد کا حصہ بن جائے گا، اسے اس کے وارثین میں تقسیم کیا جائے گا۔ شوہر بھى چونکہ وارثین میں سے ہے اس لئے اسے اس میں سے ربع (ایک چوتھائى) ملے گا۔ اللہ تعالى کا ارشاد ہے:
" فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٞ فَلَكُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۚ " ([1])
ترجمہ: اور اگر ان کی اولاد ہو تو تمہارے لیے اس کا چوتھائی حصہ ہے جو وہ پیچھے چھوڑیں، ان کی وصیت کے بعد یا قرض کے بعد۔
خيال رهے کہ مہر کہیں صدقہ نہیں کیا جائے گا۔ يہ وارثین کا حق ہے، انہى میں تقسیم کیا جائے گا۔
دوم: اگر شوہر اپنى بیوى کا بغیر مہر ادا کئے انتقال کرجائے تو یہ اس کے ذمہ قرض شمار کیا جائے گا۔ اگر بیوى زندہ ہو تو یا تو معاف کردے ورنہ وراثت تقسیم ہونے سے پہلے مہر کى رقم نکال کر الگ کى جائے گى۔
واللہ اعلم

