سوال
نماز میں قرات سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
اس میں علماء کا اختلاف ہے؛ بعض جہرا بسملہ مستحب قرار دیتے ہیں تو بعض اسے ناپسند کرتے ہیں، لیکن سرا ہی زیادہ پسندیدہ ہے اور یہی راجح اور افضل ہے، کیونکہ آپ ﷺ جب بھی سورہ فاتحہ کی تلاوت شروع کرتے تو الحمد للہ رب العالمین سے ہی شروع کرتے تھے۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، وہ کہتے ہیں: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ، وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ؛ وَكَانُوا لَا يَجْهَرُونَ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (مسلم) ترجمہ: میں نے نبی ﷺ، ابوبکر اور عمر کے پیچھے نماز پڑھی، وہ لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا نہیں پڑھتے تھے۔ ([1])
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل تفصیل سے سمجھنا ہوگا۔
اولاً: سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ فاتحہ کا حصہ ہے یا نہیں، یا وہ قرآن مجید کی ایک مستقل آیت ہے۔ سورہ توبہ کے علاوہ تمام سورتوں سے پہلے اسے پڑھنا مستحب ہے، یہ جمہور اہل علم کا قول ہے۔ ([2])
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، قَالَ اللهُ تَعَالَى: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قَالَ اللهُ تَعَالَى: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}، قَالَ: مَجَّدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قَالَ: هَذَا بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، فَإِذَا قَالَ: {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} قَالَ: هَذَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. ([3])
ترجمہ: اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے نماز یعنی سورۃ الفاتحہ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، اس کا نصف میرا ہے اور نصف میرے بندے کا۔ جب بندہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔ جب الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہتا ہے تو فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ جب مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ کہتا ہے تو فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت بیان کی۔ جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے تو فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ جب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتا ہے تو فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم سورہ فاتحہ کا حصہ نہیں ہے۔
ثانیاً: نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو کسی بھی سورہ کے شروع میں، جہری نماز میں بھی، خاموشی سے پڑھا جائے گا، نہ کہ بلند آواز سے۔ مندرجہ ذیل احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں:
پہلی حدیث: عَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. ([4])
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی ﷺ، ابوبکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی اور ان میں سے کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہیں سنا۔
دوسری حدیث: عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. ([5])
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نماز کی ابتداء الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے۔
تیسری حدیث: وَكَانُوا لَا يَجْهَرُونَ بِبِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. ([6])
یعنی وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا نہیں پڑھتے تھے۔
ان روایتوں سے پتہ چلا کہ نبی ﷺ سورہ فاتحہ کی قرات کرتے اور بسم اللہ بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔
مشہور محدث امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی روایتوں کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ حدیث واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حضرت انس کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بسم اللہ خاموشی سے پڑھا کرتے تھے، بلند آواز سے نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بسم اللہ سرے سے پڑھتے ہی نہیں تھے۔ ([7])
علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حق یہی ہے کہ جہرا بسم اللہ پڑھنے کے سلسلے میں کوئی صریح اور صحیح حدیث نہیں ہے، بلکہ آپ ﷺ سے حدیث انس سے سرا ثابت ہے۔ ([8])
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ نماز میں فاتحہ و دیگر سورت کی قرات پر جہرا بسم اللہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ شیخ نے جواب دیا: اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعض جہرا بسملہ مستحب قرار دیتے ہیں تو بعض اسے ناپسند کرتے ہیں، لیکن سرا ہی زیادہ پسندیدہ ہے اور یہی راجح اور افضل ہے۔ ([9])
سعودی عرب کی دائمی افتاء کمیٹی کا فتوی ہے کہ: ثابت شدہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت توبہ کے علاوہ سورت فاتحہ یا کسی اور سورت سے قبل بسم اللہ پڑھنا ثابت ہے، تاہم جہری نماز میں رسول اللہ ﷺ تسمیہ بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔ ([10]) ایک اور مقام پر فتوی ہے کہ: اگر سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ پڑھے تو تسمیہ آہستہ آواز میں پڑھے، اور اگر فاتحہ کے بعد کسی سورہ کے درمیان یا آخر سے تلاوت کرنی ہو تو تسمیہ پڑھنا شرعی عمل نہیں ہے۔ ([11])
واللہ اعلم

