سوال
کیا عقیقہ کرنا واجب ہے؟ عقیقہ سے متعلق تھوڑى تفصیل بتائیں؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اختصار:
عقیقہ کرنا مسنون و مستحب عمل ہے، کیونکہ نبى ﷺ نے فرمایا:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُودٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ» (سنن أبي داود 2842، سنن النسائي 4218)
حضرت بریدہ رضى اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبى اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کى طرف سے قربانى (عقیقہ) کرنا چاہے تو کرے۔"
اور دوسرى روایت میں ہے:
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ، وَيُسَمَّى» (سنن أبي داود 2838، سنن الترمذي 1522، سنن النسائي 4220، ابن ماجه 3165)
حضرت سمرہ بن جندب رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبى کریم ﷺ نے فرمایا: "ہر بچہ اپنے عقیقے کے بدلے رہن ہے، اس کى طرف سے ساتویں دن قربانى کى جاتى ہے، اس کا سر منڈایا جاتا ہے اور اس کا نام رکھا جاتا ہے۔"
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
عقیقہ کے لغوى معنى: کاٹنے کے ہیں۔ ([1])
شرعى اصطلاح میں: نومولود بچہ / بچى کى جانب سے اس کى پیدائش کے ساتویں دن جو خون بہایا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں۔ ([2])
عقیقہ کرنا سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضى اللہ عنہم سے صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
(1) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى» ([3])
"بچہ / بچى کیلئے عقیقہ ہے، اس کى جانب سے تم خون بہاؤ اور اس سے گندگى (سر کے بال) کو دور کرو۔" (صحیح بخارى)
(2) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«الغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُسَمَّى، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ» ([4])
"ہر بچہ / بچى اپنا عقیقہ ہونے تک گروى ہے۔ اس کى جانب سے ساتویں دن جانور ذبح کیا جائے، اس دن اس کا نام رکھا جائے اور سرمنڈوایا جائے۔" (ترمذى، ابن ماجہ، نسائى، مسند احمد)
نبى اکرم ﷺ کے اس فرمان کى شرح علماء نے بیان کى ہے کہ کل قیامت کے دن بچہ / بچى کو باپ کیلئے شفاعت کرنے سے روک دیا جائیگا اگر باپ نے استطاعت کے باوجود بچہ / بچى کا عقیقہ نہیں کیا۔ ([5])
(3) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«عَنِ الغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الجَارِيَةِ شَاةٌ» ([6])
"لڑکے کى جانب سے 2 بکریاں اور لڑکى کى جانب سے ایک بکرى ہے۔" (ترمذى، مسند احمد)
(4) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«عَنِ الغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الأُنْثَى وَاحِدَةٌ، وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا» ([7])
"لڑکے کى جانب سے 2 بکرے اور لڑکى کى جانب سے ایک بکرا ہے۔ عقیقہ کے جانور مذکر ہوں یا مؤنث، اس سے کوئى فرق نہیں پڑتا۔" (ترمذى، مسند احمد)
عقیقہ کے چند اہم فوائد:
- زندگى کى ابتدائى سانسوں میں نومولود بچہ / بچى کے نام سے خون بہاکر اللہ تعالى سے اس کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔
- یہ اسلامى Vaccination ہے، جس کے ذریعہ اللہ تعالى کے حکم سے بعض پریشانیوں، آفتوں اور بیماریوں سے راحت ملتى ہے۔
- بچہ / بچى کى پیدائش پر، جو اللہ تعالى کى ایک عظیم نعمت ہے، خوشى کا اظہار ہوجاتا ہے۔
- بچہ / بچى کا عقیقہ کرنے پر کل قیامت کے دن باپ بچہ / بچى کى شفاعت کا مستحق بن جائے گا۔
- عقیقہ کى دعوت سے رشتے دار، دوست واحباب اور دیگر متعلقین کے درمیان تعلق بڑھتا ہے جس سے محبت والفت پیدا ہوتى ہے۔ ([8])
عقیقہ سے متعلق چند مزید مسائل:
(1) کیا ساتویں دن عقیقہ کرنا شرط ہے؟
عقیقہ ساتویں دن ہى کر لینا چاہیے اور یہى افضل اور سنت رسول ﷺ کے مطابق ہے۔ اگر ساتویں دن ممکن نہ ہو تو ساتویں دن کى رعایت کرتے ہوئے چودھویں یا اکیسویں دن کرنا چاہئے۔ اگر کوئى شخص ساتویں دن کے بجائے چوتھے یا آٹھویں یا دسویں دن یا اس کے بعد کبھى بھى عقیقہ کرے تو یقیناً عقیقہ کى سنت ادا ہوجائیگى اور اس کے فوائد ان شاء اللہ حاصل ہوجائیں گے، اگرچہ مستحب وقت چھوٹ گیا۔
(2) کیا بچہ / بچى کے عقیقہ میں کوئى فرق ہے؟
بچہ / بچى دونوں کا عقیقہ کرنا سنت ہے، البتہ احادیث کى روشنى میں صرف ایک فرق ہے کہ بچہ کے عقیقہ کیلئے 2 اور بچى کے عقیقہ کیلئے ایک بکرا / بکرى ضرورى ہے۔ لیکن اگر کسى شخص کے پاس بچہ کے عقیقہ کے لئے 2 بکرے ذبح کرنے کى استطاعت نہیں تو وہ ایک بکرے سے بھى عقیقہ کرسکتا ہے۔
(3) کیا عقیقہ میں بکرا / بکرى کے علاوہ دیگر جانور کو ذبح کیا جاسکتا ہے؟
اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے مگر تحقیقى بات یہ ہے کہ عقیقہ میں جان کے بدلے جان دى جائے گى۔ اور بکرا یا بکرى کے علاوہ کسى اور جانور کا تذکرہ حدیث میں نہیں ملتا۔ اس لئے احتیاط اسى میں ہے کہ ہر بچہ / بچى کى طرف سے صرف بکرا یا بکرى ذبح کى جائے۔ ([9])
(4) عقیقہ کیلیے ماں اور بچے کا گھر میں موجود رہنا ضرورى نہیں ہے۔
(5) بچہ اور ماں کى بیمارى کى حالت میں بھى عقیقہ کر لینا چاہیے۔
(6) عقیقہ کسى بھى جگہ کیا جا سکتا ہے۔
(7) عقیقہ کے دو جانوروں کو دو الگ الگ جگہوں پر ذبح کرنے میں کوئى محظور شرعى نہیں ہے۔
واللہ اعلم

