سوال
قسطوں میں خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
قسطوں پر خرید وفروخت کا مفہوم یہ ہے کہ خریدار سامان ادھار لے کر قیمت ایک مخصوص مدت میں ادا کرے۔
تاخیر سے قسطوں پر قیمت ادا کرنے کى صورت میں سامان کى قیمت نقد ادائیگى کے مقابلے میں زیادہ ہوتى ہے۔ اور اسى بات پر علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ مدت میں اضافہ کى صورت میں قیمت میں اضافہ جائز ہے یا نہیں؟ اور کیایہ سود ہوگا؟
اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل تفصیل سے سمجھنے کى کوشش کرتے ہیں:
اولاً: قسطوں پر خریداری کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً :
۱ - نقد اور ادھار دونوں صورتوں میں ایک ہی قیمت ہو ۔ یہ صورت اسلامى معاشرے میں تسہیل اور رحمت کا تصور پیش کرتى ہے۔ اس لئےاس کے جواز میں کوئی کلام نہیں ، البتہ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔
۲- ادھار میں نقد سے زیادہ قیمت وصول کی جائے ۔ مثلا یوں کہا جائے کہ یہ چیز نقد سو روپے کی اور ادھار ایک سودس کی ہوگى۔
دوم: قسطوں پر خریداری کا حکم
قسطوں پہ خریداری کادوسرانام Instalment یا ایک اور تیسرا نام EMIبھی ہے ۔
قسطوں پر خرید وفرخت در اصل (بیع النسیئۃ یا بیع مؤجل) ہی کی ایک شکل ہے ۔ جس میں چیز کی قیمت نقد ادا کرنے کی بجائے بعد میں ایک خاص مدت میں قسطوں پر ادا کى جاتی ہیں ۔ اس لئے فقہاء نے اس پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے جواز پر متعدد دلائل پیش فرمائے ہیں، ذيل میں دلائل پیش خدمت ہیں:
1- عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.<span lang="ar"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ نبى كريم ﷺنے ايك يہودى سے ادھار غلہ خريدا اور اس كےپاس اپنى لوہے كى درعہ رہن ركھى۔ ( )۔
یہ حدیث ادھار خرید وفروخت پر دلالت کرتى۔ قسطوں پر خریدارى در اصل ادھار خرید وفروخت کى ایک شکل ہے۔ بس اس میں ادائیگى کى مدت اور قسطیں طے ہوتى ہیں۔
2- عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ فَقَالَتْ كَاتَبْتُ أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ عَامٍ وَقِيَّةٌ . . .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابيان كرتى ہيں كہ ميرے پاس بريرہ رضى اللہ تعالى عنھا آئيں اور كہنےلگى: ميں نےاپنےمالكوں سے نو اوقيہ ميں كتابت كى ہے۔ اور ہر برس ايك اوقيہ دينا ہے۔ ( )۔
يہ حديث قسطوں ميں قیمت کى ادائیگى کے جواز پر دلالت کرتى ہے۔
قسطوں پہ خریداری کی چند شرطیں ہیں ، جو درج ذیل ہیں :
پہلی شرط: سونا (Gold) چاندی (Silver) یا کرنسی (Currency) ان تینوں چیزوں کو انسٹالمینٹ /قسط پہ نہیں خرید سکتے؛ کیونکہ کتب احادیث میں ان تینوں چیزوں کا ایک ہی مجلس میں قبضے میں لینا اور دینا شرط ہے یعنی ایک ہی مجلس میں مکمل ڈیل کرنی ہے جسے عربی میں یداً بیدٍ کہا جاتا ہے۔
سونا ،چاندی اور کرنسی ایڈوانس پیسے دیکر بھی نہیں خرید سکتے اور انھیں اپنے قبضے میں لے کر بعد میں پیمنٹ بھی نہیں کر سکتے ، ان تینوں کی خریداری کے لئے شریعت میں یداً بیدٍ لین دین کی شرط ہے ۔
حضرت عبادہ بن صامت رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلاً بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ» ( )۔
" سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے عوض گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے عوض نمک (کا لین دین) مثل بمثل، یکساں، برابر برابر اور نقد بنقد ہے۔ جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو بشرطیکہ وہ دست بدست ہو۔"
دوسری شرط: وقت سےقسط نا بھر نے کی صورت میں کوئی لیٹ فیس نہیں لگنی چاہیے ۔
کوئی بھی سامان اگر قسطوں پہ خرید ا گیا ہے تو اس کى قیمت قسطوں میں ادا کرنا جائز ہے؛ بشرطیکہ وقت سے عدم ادائیگی کی صورت میں اس پہ جرمانہ نا لگایا جائے ۔
مثلاً :کسی نے ایک کار 10 لاکھ کی خریدی اور اس کے 10 ماہ کے 10 انِسٹالمینٹ بنا دیئے گئے اگر کسی نے جنوری كى قسط وقت سے ایک لاکھ ادا كردى؛لیکن فروری كى قسط ادا كرنےمیں تاخیر کردی تو اس کے اوپر کچھ اضافی چارج لگا کر اس سے فروری کى قسط زیادہ لی جائے تو یہ سود کہلائے گا اور یہ نا جائز و حرام ہے ۔
تیسری شرط:
قسطوں پہ خریداری کی تیسری شرط یہ ہے کہ سامان ڈائرکٹ مالك سے خریدا گیا ہو، بیچ میں کوئی فائننسر یا تھرڈ پارتی یا فیسی لیٹر(سہولت كار/ ایجنٹ) نا ہو ، عموما وہ فائنسسر بینک ہوا کرتا ہے ، مثلا: اگر کسى نے ایک موبائل خرید لیا ، اور اس کى قیمت (ایک لاکھ) روپیے ہو۔ بینک موبائل کی قیمت خریدار کی طرف سے دوکاندار کو ادا کر دیتى ہے۔ اوراصل قیمت ایک لاکھ سے کچھ زیادہ لیتى ہے تو یہ اضافی چارج سود ہوتا ہے اس لئے قسطوں پہ خریداری کی یہ شکل بھی نا جائز وحرام ہے ۔
مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ادھار خرید وفروخت کے جواز پر دلیلوں میں اس بات کى وضاحت نہیں ملتى کہ ادھار کى وجہ سے قیمت میں بھى اضافہ کیا جائے۔
مثلاً میرےپاس کار ہے اس کی قیمت میں نے طے کردی ہے کہ نقد کی صورت میں اس کی قیمت دس لاک ہوگی جبکہ ادھار (قرض) کی صورت میں 11 لاکھ ہوگی ۔
اور اسى بات پر علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ مدت میں اضافہ کى صورت میں قیمت میں اضافہ جائز ہے یا نہیں؟ اور کیایہ سود ہوگا؟
جبکہ سوداور اس میں ایک بنیادی فرق ہے وہ یہ کہ سود وہ کہلاتا ہے کہ ایک آدمی کے ذمہ ایک متعین رقم تھی اور اس پہ وہ اضافى رقم مانگ رہا ہو تو وہ سود کہلاتی ہے ، جبکہ اس میں شکل مختلف ہے کی قیمت ہی نقد کے مقابلے قسط کی زیادہ پہلے سے متعین ہے اس لئے یہ جائز ہے ۔
بہت كم علماء اس کى حرمت كےقائل ہيں۔ ان کے نزدیک مذکورہ صورت سود ہے۔ البتہ جمہور علماء كرام جن ميں ائمہ اربعہ شامل ہيں اس كےجواز كے قائل ہیں۔ ( ).
چنانچہ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
" و قالت الشافعیة والحنفية وزيد بن علي والمؤيد بالله والجمهور إنه يجوز "( ).
"شوافع، احناف ، زید بن على ، مؤید باللہ اور جمہور کہتے ہیں کہ یہ جائز ہے"۔
اہل حديث علماء میں سے سید نذیر حسین محدث دہلوی ، نواب صدیق حسن خان اور حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہم اللہ جمیعا بھی اس کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ ( )۔
سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ بھی اس کے جواز کے حامی ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں :
'' قسطوں کی بیع میں کوئی حرج نہیں جب کہ مدت اور قسطیں معلوم ہوں خواہ قسطوں کی صورت میں قیمت نقد قیمت سے زیادہ ہو کیونکہ قسطوں کی صورت میں بائع اور مشتری دونوں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ بائع زیادہ قیمت سے اور مشتری مہلت سے فائدہ اٹھاتا ہے" ( ) ۔
اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ نے بھی اپنے چھٹے اور ساتویں اجلاس میں جو بالترتیب سترہ تا تیس شعبان 1410 ھ اور سات سے بارہ ذیقعدہ 1412 ھ کو جدہ میں ہوئے ، اس کو جائز قرار دیا ہے ۔ چھٹے اجلاس کی قرار داد کے متعلقہ الفاظ یہ ہیں :
" تجوز الزيادة في الثمن المؤجل عن الثمن الحال كما يجوز ذكر ثمن المبيع نقدا و ثمنه بالأقساط بمدة معلومة " ( )۔
'' ادھار میں نقد سے زیادہ قیمت جائز ہے ۔ جس طرح چیز کی قیمت نقد اور متعینہ اقساط میں ذکر کرنا جائز ہے ۔ ''
ساتویں اجلاس کے الفاظ یوں ہیں :
"البيع بالتقسيط جائز شرعا و لو زاد فيه ثمن المؤجل على المعجل"
'' بیع قسط شرعا جائز ہے خواہ اس میں ادھار قیمت نقد سے زیادہ ہو ۔ ''
علماء کرام کے مذکورہ اقوال سے واضح ہوا کہ مدت کے مقابلہ میں قیمت میں اضافہ سود نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ:
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ یہ جواز صرف اس وقت ہے جب ادائیگی میں تاخیر پر اضافی رقم خواہ وہ جرمانہ کے نام پر ہو اوروہ وصول نہ کی جائے ۔
دونوں صورتوں میں فرق ہے ۔ پہلی صورت میں جب چیز ایک قیمت طے ہوجاتی ہے تو پھر اس میں اضافہ ممکن نہیں ہوتا خواہ ادائیگی مدت مقررہ پر کی جائے یاتاخیر کرکے۔
دوسری صورت میں فریقین کے درمیان طے ہونے کے بعد تاخیر پر جرمانہ وصول کیا جاتا ہے جو زمانہ جاھلیت کے سود (إما أن تقضي وإما أن تربي ) (یا ادا کرو یا اضافہ کرو ) میں داخل ہےجو سراسر ناجائز ہے۔
خلاصہ یہ کہ :
قسطوں پر خرید وفروخت جائز ہے۔ادھار یا قسطوں میں خرید وفروخت پرنقد سے زیادہ قیمت لگائی جاسکتی ہے ۔ اورادائیگی میں تأخیر پر جرمانہ عائد کرنا سود ہے ۔
واللہ أعلم
مزيد تفصيل كےليے ديكھيں:
1- بيع التقسيط۔ تاليف ڈاكٹر رفيق يونس المصري .
2- المعاملات المالية المعاصرة للدكتور وهبة الزحيلي
3- دور حاضر کے مالی معاملات کا شرعی حکم حافظ ذو الفقار
( 1) صحيح بخارى، حديث نمبر ( 2068 ) صحيح مسلم ،حديث نمبر ( 1603 )
(2 ) صحيح بخارى، حديث نمبر ( 2168 )
(3 ) صحيح مسلم، حديث نمبر 2970۔ سنن الترمذى، حديث نمبر ۱۲۵۲۔
( 4) فقہ حنفى کے لئے ملاحظہ کریں: بدائع الصنائع، 5/187. فقہ مالکى: بدایۃ المجتہد، 2/108. فقہ شافعی: الوجیز، للغزالى، 1/85. فقہ حنبلی: فتاوى ابن تیمیہ، 29/499.
( 5) نيل الأوطار، 8/102۔
(6 ) دیکھیں: فتاوی نذیریہ، 2/162۔الروضۃ الندیۃ، 2/89۔فتاوی اہل حدیث، 2/663-664۔
( 7) فتاوی اسلامیہ، 2/445۔
(8 ) مجمع الفقہ الاسلامى، صفحہ نمبر: 109۔

