سوال
باپ کی ولایت ساقط کرکے کوئی دوسرا شخص لڑکی کا ولی بن کر لڑکی کا نکاح کرا سکتا ہے یا نہیں؟ ایک لڑکی کی شادی ایک لڑکے سے طے ہو گئی تھی، اسی درمیان لڑکی کا ایک اور رشتہ آگیا، باپ نے پہلے رشتے سے انکار کردیا۔ لیکن لڑکی وہیں شادی کرنا چاہتی ہے اور باپ ضد پر اڑ گیا ہے۔ کیا ایسے مسئلے میں باپ کی ولایت ساقط کرکے اس کا نکاح کوئی دوسرا شخص ولی بن کر کر سکتا ہے؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
اختصار:
عورت کے ولى کے ليے مناسب ہے کہ جب کفو و برابرى کا رشتہ جس پر عورت راضى بھى ہو مل جائے تو اس سے شادى کرنے سے نہ روکے۔
عورت کے نکاح میں عورت کا اذن بھى ضروری ہے اور اسکے ولی کا اذن بھى۔ لہذا اگر عورت کا نکاح بلا اس کى اذن کے کردیا جائے تو صحیح نہیں جب تک کہ وہ راضى نہ ہو، اسى طرح اگر عورت کا نکاح بلا ولى کے اذن کے کردیا جاوے تو صحیح نہیں جب تک ولى راضى نہ ہو۔ ہاں جس عورت کا کوئى ولى نہ ہو یا ولى ہو لیکن عورت کو معقول و صحیح العقیدۃ نکاح کرنے سے روکتا ہو تو ان دونوں صورتوں میں ولایت منتقل ہو جائے گى اور سلطان یعنى سردار جماعت مسلمین ہى اس عورت کا ولى ہوگا۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
ولى کے لئے ضروری ہے کہ اگر اس کى ولایت میں موجود لڑکى کا مناسب اور برابرى کا رشتہ آجائے جس سے وہ شادى کرنے پر راضى ہو تو وہ اس سے اس لڑکى کى شادى کر دے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو عاضل یعنى لڑکى کو شادى سے روکنے والا شمار ہوگا۔
عورت کو شادى سے روکنا حرام ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالى کا فرمان ہے:
وَإِذَا طَلَّقۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحۡنَ أَزۡوَٰجَهُنَّ إِذَا تَرَٰضَوۡاْ بَيۡنَهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ [البقرة: 232]
ترجمہ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنى عدت پورى کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے مت روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں۔
امام بخارى رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ:
أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ كَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ثُمَّ خَطَبَهَا فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ أَنَفًا ... فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَقَرَأَ عَلَيْهِ فَتَرَكَ الْحَمِيَّةَ وَاسْتَقَادَ لِأَمْرِ اللهِ ([1])
معقل بن یسار رضى اللہ عنہ کى بہن کى ایک شخص کے ساتھ شادى ہوئى، اس نے انہیں طلاق دى، پھر رشتہ مانگا تو معقل نے انکار کردیا۔ چنانچہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائى اور رسول اللہ ﷺ نے معقل کو بلا کر یہ آیت سنائى، تو انہوں نے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔
اس بنا پر عورت کے ولى کے لیے مناسب ہے کہ جب کفو و برابرى کا رشتہ جس پر عورت راضى بھى ہو مل جائے تو اس سے شادى کرنے سے نہ روکے۔
فتاوى نذیریہ (2/455) میں ایک سوال کے جواب میں مذکور ہے: "صورت مسئولہ میں جب کہ عورت عاقلہ بالغہ مذکورہ اپنے شوہر کے معین ہونے کے وقت یہ کہہ رہى تھى، مگر اس کے باپ نے نہ اس کى مرضى پر توجہ کى، اور بلا اس کى مرضى کے اس کا نکاح زید کے ساتھ کردیا، اور تا حال وہ راضى نہیں ہے، تو یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔"
ابن عباس رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبى ﷺ نے فرمایا:
الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ([2])
"بیوہ اپنے ولى کى نسبت اپنے نفس کى زیادہ حقدار ہے، اور کنواری سے اس کے نفس کے متعلق اجازت لى جائے گى اور اس کى خاموشى اس کى اجازت ہے۔"
نیز ابن عباس رضى اللہ عنہ سے روایت ہے:
أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتْ رَسُولَ اللهِ ﷺ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ ﷺ ([3])
"ایک کنواری لڑکی نے رسول اللہ ﷺ کى خدمت میں آکر کہا کہ میرے باپ نے میرى مرضى کے برخلاف میرا نکاح کردیا ہے تو آنحضرت ﷺ نے اسے اختیار دیا۔"
فتاوى نذیریہ (2/486) میں ہے: عورت کے نکاح میں عورت کا اذن بھى ضروری ہے اور اسکے ولى کا اذن بھى۔ جس عورت کا کوئى ولى نہ ہو یا ہو لیکن عورت کو نکاح کرنے سے روکتا ہو تو ان دونوں صورتوں میں سلطان یعنى سردار جماعت مسلمین ہى اس عورت کا ولى ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذا منع الولي تزويج امرأة بخاطب كفء في دينه وخلقه، فإن الولاية تنتقل إلى من بعده من الأقرباء العصبة، الأَوْلى فالأولى، فإن أبوا أن يزوجوا كما هو الغالب، فإن الولاية تنتقل إلى الحاكم الشرعي، ويزوج المرأة الحاكم الشرعي ([4])
"جب عورت کا ولى کسى مناسب اور دینى و اخلاقى کفو کا رشتہ آنے پر عورت کى شادى نہ کرے تو ولایت اس سے منتقل ہوکر قریب ترین عصبہ مرد میں چلى جائیگى، اور اگر سارے ولى ہى انکار کردیں تو پھر ولایت شرعى حاکم کو منتقل ہوجائیگى، اور شرعى حاکم اس عورت کى شادى کرائے گا۔"
ولى کى ترتیب شریعت اسلامیہ میں اس طرح ہے: باپ، دادا، سگا بھائى، بھتیجا، چچا، چچا کا بیٹا، اور پھر قاضى (اگر خاندان میں کوئى ولى موجود نہ ہو تو)۔
لہذا صورت مسئولہ میں باپ کى ولایت منتقل ہوکر قریبى عصبہ میں چلى جائے گى اور اگر قریبى عصبہ موجود نہ ہو یا وہ بھى انکار کردے تو ایسى صورت میں شرعى حاکم یا جو اس کے قائم مقام ہو وہى اس کا ولى ہوگا۔
واللہ اعلم

