سوال
مسجد عائشہ سے بار بار عمرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
اختصار:
عموماً حج اور عمرہ پر آنے والے زائرین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ حج یا عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد مسجد عائشہ سے دوبارہ عمرہ کرتے ہیں۔
جمہور اہل علم نے اپنے سفر میں ایک عمرہ کرنے والے کے لیے دوسرا عمرہ کرنے کی رخصت دی ہے، خصوصی طور پر اگر عمرہ کے لیے آنے والا دور سے سفر کر کے آیا ہو اور اس کے لیے دوبارہ مکہ پہنچنا مشکل ہو، تو ایسی صورت میں اس شخص کو قریب ترین حِل کی طرف جانا ہوگا اور وہیں سے دوسرے عمرے کا احرام باندھنا ہوگا۔
جبکہ بعض دوسرے اہل علم ایک سفر کے دوران دوبارہ اپنے لیے یا کسی کی طرف سے عمرہ کرنے کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ چیز نبی ﷺ کی سنت سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی یہ طریقہ صحابہ کرام سے ثابت ہے، ایسے ہی سلف صالحین سے بھی اس کی کوئی تائید نہیں ملتی؛ کیونکہ اصولی طور پر ایک سفر میں ایک ہی عمرہ ہے۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
اولاً: جواز کے قائلین اور ان کے دلائل
جمہور اس کے جواز کے قائل ہیں۔ ان کے قول کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص مکہ میں ہو اور عمرہ کرنا چاہے تو اس کے لیے حدود حرم سے نکلنا ضروری ہے، اور حدود حرم مختلف مقامات کی طرف مختلف ہیں جیسے تنعیم یعنی مسجد عائشہ، صلح حدیبیہ، عرفات، جعرانہ وغیرہ۔ لہذا اگر کوئی شخص ان مقامات میں سے کسی طرف بھی نکل جائے اور احرام باندھ لے تو اس کا احرام درست ہوگا۔
حدیث سے دلیل:
نبی ﷺ کے سفر حج میں مکہ کے قریب پہنچنے کے وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض آگیا۔ نیت حج تمتع کی تھی۔ حج تمتع میں پہلے عمرہ ادا کیا جاتا ہے، پھر ایک وقفے کے بعد حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔ اور حائضہ عورت عمرہ نہیں کر سکتی کیونکہ طواف کے لیے خانہ کعبہ جانا ہوتا ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے انہیں براہ راست حج کرنے کو کہا — یعنی نیت حج تمتع سے حج قران میں منتقل کرنے کو کہا — اور حج سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
قَالَتْ عَائِشَةُ رضي الله عنها: «يَا رَسُولَ اللهِ، يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ؟ فَقِيلَ لَهَا: انْتَظِرِي، فَإِذَا طَهُرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي» ([1])
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے کہا: لوگ دو عبادتیں کر رہے ہیں اور میں ایک کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انتظار کرو۔ جب پاک ہو جاؤ تو تنعیم جاکر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لینا۔
اس روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْتَمَرْتُمْ وَلَمْ أَعْتَمِرْ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، اذْهَبْ بِأُخْتِكَ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ» ([2])
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے کہا: آپ لوگوں نے تو عمرہ ادا کر لیا اور میں نے نہیں کیا۔ تو آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کے بھائی عبد الرحمن سے فرمایا: اپنی بہن کو تنعیم لے جاکر وہاں سے عمرہ کا احرام بندھواؤ۔
ایک اور روایت میں ہے:
قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: «اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ»
یعنی: اپنی بہن کو حدود حرم سے باہر لے جاؤ تاکہ وہ عمرہ کا احرام باندھ لے۔
امام نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں: "نبی ﷺ کا فرمان: اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ اور پھر وہ عمرہ کا تلبیہ کہے — علمائے کرام کی اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص مکہ میں ہو اور عمرہ کرنا چاہے تو اس کے لیے میقات قریب ترین حِل ہے، لہذا ایسے شخص کے لیے حرم سے احرام باندھنے کی اجازت نہیں ہے۔" ([3])
امام مالک رحمہ اللہ الموطا میں فرماتے ہیں: "تنعیم سے عمرہ کے بارے میں یہ ہے کہ جو شخص حرم سے نکل کر حِل میں آئے اور عمرے کا احرام باندھے تو ان شاء اللہ یہ عمل اس کے لیے کافی ہوگا، لیکن افضل یہی ہے کہ انہیں جگہوں سے عمرے کے لیے احرام باندھے جنہیں آپ ﷺ نے میقات مقرر فرمایا ہے یا تنعیم سے بھی دور کسی جگہ سے احرام باندھے۔" ([4])
امام شافعی رحمہ اللہ الأم میں فرماتے ہیں: "مکہ میں موجود لوگوں کے لیے عمرے کا میقات قریب ترین حِل ہے، تاہم افضل یہ ہے کہ جعرانہ یا تنعیم سے احرام باندھے۔" ([5])
ابن قدامہ رحمہ اللہ المغنی میں فرماتے ہیں: "اہل مکہ عمرہ کرنا چاہیں تو حِل سے احرام باندھیں گے، اور جب حج کرنا چاہیں تو مکہ سے ہی احرام باندھیں گے۔ یہ حکم اہل مکہ کے لیے ہے چاہے وہ مکہ کے رہائشی ہوں یا باہر سے سفر کر کے مکہ آئے ہوں؛ کیونکہ جو آفاقی کسی بھی میقات پر آئے تو وہیں سے احرام باندھتا ہے، بالکل اسی طرح جو شخص مکہ میں ہو اس کے لیے حج کی میقات مکہ ہے، تاہم جو شخص مکہ میں ہو اور عمرہ کرنا چاہے تو قریب ترین حِل سے احرام باندھے گا — اس بارے میں ہمیں کسی کا اختلاف معلوم نہیں ہے، اسی لیے نبی ﷺ نے بھی عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کروائے۔" ([6])
سعودی مجلس کبار العلماء کا فتوی:
سعودی عرب کے سب سے بڑے دارالافتاء سے یہ فتوی جاری ہوا ہے کہ تنعیم یعنی مسجد عائشہ سے عمرہ کرنا بالکل درست ہے:
السؤال: مَا حُكْمُ مَنْ أَخَذَ عُمْرَةً لِوَالِدِهِ بَعْدَ أَنْ أَخَذَ عُمْرَةً لِنَفْسِهِ، وَأَعَادَ عُمْرَةَ أَبِيهِ مِنْ مَكَانِ الإِحْرَامِ بِمَكَّةَ المُكَرَّمَةِ (التَّنْعِيمِ)، هَلْ عُمْرَتُهُ صَحِيحَةٌ أَمْ عَلَيْهِ أَنْ يُحْرِمَ مِنَ المِيقَاتِ الأَصْلِيِّ؟
الجواب: إِذَا أَخَذْتَ عُمْرَةً لِنَفْسِكَ ثُمَّ تَحَلَّلْتَ مِنْهَا وَأَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ عُمْرَةً لِأَبِيكَ إِذَا كَانَ مَيِّتًا أَوْ عَاجِزًا؛ فَإِنَّكَ تَخْرُجُ إِلَى الحِلِّ كَالتَّنْعِيمِ، وَتُحْرِمُ بِالعُمْرَةِ مِنْهُ وَلَا يَجِبُ عَلَيْكَ السَّفَرُ إِلَى المِيقَاتِ. ([7])
سوال: اس شخص کا کیا حکم ہے جو اپنی طرف سے عمرہ ادا کرنے کے بعد اپنے والد کی جانب سے عمرہ کرنا چاہے اور مکہ میں تنعیم (مسجد عائشہ) سے احرام باندھے — کیا اس کا عمرہ صحیح ہوگا یا اسے میقات جاکر احرام باندھنا ہوگا؟
جواب: اپنی طرف سے عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد اگر آپ کا ارادہ اپنے فوت شدہ یا معذور والد کی طرف سے عمرہ کرنے کا ہو تو آپ قریب ترین حِل تک جائیں جیسے تنعیم، پھر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھیں — میقات جانا آپ کے لیے ضروری نہیں ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف ہے۔ ان سے سوال کیا گیا: "جب کوئی شخص مکہ میں حج یا عمرے کی نیت سے آئے، تو کیا ایسا شخص اپنے حج یا عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد ایک اور عمرہ اسی سفر میں اپنے لیے یا کسی کی طرف سے کر سکتا ہے؟"
تو انہوں نے جواب دیا: "الحمد للہ، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لہذا کوئی شخص عمرہ یا حج کے لیے آئے اور اپنی طرف سے یا کسی کی طرف سے حج یا عمرہ کرے، پھر فراغت کے بعد اپنے لیے یا کسی اور کے لیے عمرہ کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے — تاہم اس عمرے کی ابتدا حِل سے ہوگی، مکہ سے باہر قریب ترین حِل میں جائے، مثلاً تنعیم یا جعرانہ یا کسی بھی قریب ترین حل سے احرام باندھے، پھر مکہ میں آکر طواف وسعی کے بعد بال کٹوا دے۔ ایسا شخص یہ عمرہ اپنے لیے، فوت شدہ کسی بھی رشتہ دار کی طرف سے، یا دوست کی طرف سے، یا کسی معذور، انتہائی بوڑھے، یا عمرے کی سکت نہ رکھنے والے لوگوں کی طرف سے کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہی عمل عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے حکم سے کیا تھا..." ([8])
ثانیاً: عدم جواز یا کراہت کے قائلین اور ان کی دلیلیں
اس مسئلے میں بعض اہل علم کا موقف یہ ہے کہ ایک سفر میں ایک ہی عمرہ ہوگا۔ ایک ہی سفر میں اپنی طرف سے یا کسی اور کی طرف سے مسجد عائشہ سے عمرہ کرنا نبی ﷺ یا صحابہ کرام یا سلف سے ثابت نہیں۔
عمرہ ایک عبادت ہے اور عبادت اسی وقت درست ہوتی ہے جب اسے نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:
«مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ» ([9])
"جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں، تو وہ مردود ہے۔"
آپ ﷺ نے کبھی زندگی میں حج یا عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد تنعیم سے عمرہ نہیں کیا، اور نہ کبھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا — جبکہ وہ ثواب حاصل کرنے میں ہم سے زیادہ حریص تھے۔ اگر یہ عمل مشروع ہوتا تو رسول ﷺ اسے بیان کرتے یا اس پر عمل کرتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مشہور شاگرد طاؤوس رحمہ اللہ سے مروی ہے: "جو لوگ تنعیم سے عمرہ کر رہے ہیں — پتہ نہیں ثواب ملے گا یا گناہ؟" سوال کیا گیا: گناہ کیوں؟ فرمایا: "کیونکہ وہ بیت اللہ کا طواف چھوڑ کر چار میل جا رہا ہے پھر چار میل سے واپس آئے گا — جب تک وہ واپس آئے اتنے وقت میں سو مرتبہ طواف کر سکتا تھا، اور جتنا طواف کرے گا اتنا اس کے لیے دوسرے عمل کے مقابلے میں بہتر ہے۔" ([10])
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«يُكْرَهُ الخُرُوجُ مِنْ مَكَّةَ لِعُمْرَةِ تَطَوُّعٍ، وَذَلِكَ بِدْعَةٌ لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ ﷺ وَلَا أَصْحَابُهُ عَلَى عَهْدِهِ، لَا فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ، وَلَمْ يَأْمُرْ عَائِشَةَ بِهَا، بَلْ أَذِنَ لَهَا بَعْدَ المُرَاجَعَةِ تَطْيِيبًا لِقَلْبِهَا، وَطَوَافُهُ بِالبَيْتِ أَفْضَلُ مِنَ الخُرُوجِ اتِّفَاقًا» ([11])
"نفل عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ سے باہر نکلنا مکروہ ہے، بلکہ یہ بدعت ہے کیونکہ نہ نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں ایسا کیا نہ صحابہ کرام نے — نہ رمضان میں نہ غیر رمضان میں۔ اور آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کو عمرہ کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ ان کی تسلی کی خاطر اجازت دی تھی۔ یہ متفق علیہ بات ہے کہ خانہ کعبہ کا طواف کرنا مکہ سے باہر جاکر نفل عمرہ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔"
ابن قیم رحمہ اللہ زاد المعاد میں فرماتے ہیں: "آپ ﷺ نے زندگی میں کبھی ایسا نہیں کیا کہ مکہ میں داخل ہونے کے بعد باہر نکل کر پھر دوبارہ عمرہ کیا ہو جیسا کہ آج کل بہت سے لوگ کرتے ہیں — بلکہ آپ ﷺ کے تمام عمرے مکہ میں داخل ہوتے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے وحی نازل ہونے کے بعد مکہ میں 13 سال قیام فرمایا اور اس دوران کسی نے آپ ﷺ کے بارے میں یہ نقل نہیں کیا کہ آپ نے مکہ سے باہر نکل کر عمرہ کے لیے احرام باندھا ہو۔ جو بھی عمرہ رسول اللہ ﷺ نے کیا وہ باہر سے مکہ میں داخل ہوتے ہوئے کیا جانے والا عمرہ تھا — آپ ﷺ کے زمانے میں کسی نے بھی ایسا عمل نہیں کیا، صرف عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حج کے تمام رفقاء میں سے ایسی تھیں جنہوں نے ایسا کیا اور وہ بھی ایک خاص سبب کی وجہ سے — انہوں نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا لیکن ماہواری شروع ہو گئی، تو آپ ﷺ نے انہیں حج قران کا حکم دیا، اور ان کے دل میں یہ بات آئی کہ دیگر خواتین حج و عمرہ الگ الگ کر کے جائیں گی اور میرا عمرہ حج کے ضمن میں ہوگا، تو آپ ﷺ نے ان کے بھائی کو حکم دیا کہ انہیں تنعیم سے عمرہ کروا دے تاکہ عائشہ کا دل مطمئن ہو جائے — پھر آپ ﷺ نے بھی اس حج کے دوران تنعیم سے عمرہ نہیں کیا اور نہ ہی آپ کے رفقاء میں سے کسی نے۔" ([12])
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال ہوا: آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ رمضان میں ایک کے بعد دوسرا عمرہ کرتے ہیں — کیا اس میں کچھ غلط ہے؟
شیخ نے جواب دیا: "ہاں یہ غلط ہے کیونکہ یہ نبی ﷺ اور صحابہ کرام کی سنت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ نے رمضان میں مکہ فتح کیا — 20 رمضان کو — فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ اور صحابہ کرام مکہ میں ہی رہے، نہ آپ ﷺ نہ آپ کے صحابہ میں سے کوئی مکہ سے باہر تنعیم گیا کہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لے — جبکہ رمضان کا مہینہ تھا اور فتح مکہ کا سال تھا۔ اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے ایسا ثابت ہے کہ انہوں نے تنعیم سے عمرہ کیا ہو — صرف حضرت عائشہ نے ایسا کیا وہ بھی ایک خاص سبب کی وجہ سے۔ آپ ﷺ نے انہیں ان کے بھائی کے ساتھ تنعیم بھیجا — حضرت عائشہ والا سبب ان کے بھائی حضرت عبد الرحمن کے ساتھ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے وہاں سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا۔" ([13])
شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ سے سوال ہوا: کیا تنعیم سے دوبارہ عمرہ کرنا جائز ہے؟ جواب دیا: "یہ سلف کے عمل کے خلاف ہے۔" ([14])
دوسری مرتبہ سوال ہوا: ایک سفر میں بار بار عمرہ کرنا کیسا ہے؟ جواب: "ایک سفر میں بار بار عمرہ کرنا بدعت ہے، البتہ انتہائی ضرورت کے وقت گنجائش نکل سکتی ہے۔" ([15])
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال ہوا: ایک شخص نے حج کیا، حج سے فارغ ہونے کے بعد تنعیم سے دوبارہ عمرہ کیا — ایسے بار بار عمرہ کرنے والوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
جواب: "اگر وہ فرض عمرہ نہ کیے ہوں تو حج کے بعد کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ عمرہ کر چکے ہیں تو یہ کافی ہے۔ انہیں چاہیے کہ بھیڑ زیادہ کر کے لوگوں کو پریشان نہ کریں۔ اس لیے کہ نبی ﷺ کے ساتھ جن صحابہ نے حج کیا انہوں نے حج سے فراغت کے بعد عمرہ نہیں کیا بلکہ مدینہ آگئے — وہ ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ صرف حضرت عائشہ نے ایسا کیا، انہوں نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی اور آپ نے اجازت دے دی۔" ([16])
خلاصہ:
دونوں طرف کے موقف کا خلاصہ یہ ہے کہ:
جن لوگوں نے حج یا عمرہ کے بعد تنعیم سے دوبارہ عمرہ کرنے کی اجازت دی ہے ان کے نزدیک حضرت عائشہ والی روایت کی بنا پر تمام امت کے لیے ایسا کرنے کی اجازت ہے، نیز مکہ والوں یا مکہ آنے والوں کے لیے اقرب حل تنعیم ہے۔
اور جن لوگوں نے اجازت نہیں دی ان کے نزدیک حضرت عائشہ والی روایت ان کے حالات کی بنا پر ان کے ساتھ خاص ہے — جب دوسری خواتین کو بھی یہ اجازت نہیں تو مردوں کو کیسے ہو سکتی ہے؟ نیز حج یا عمرہ کے بعد تنعیم سے دوبارہ عمرہ نہ رسول اللہ ﷺ نے کیا نہ صحابہ کرام نے، تو یہ بدعت ہوگا۔
ہماری نظر میں راجح مسئلہ یہ ہے کہ ایک سفر کے دوران کسی مسلمان کا اپنے لیے یا کسی اور کی طرف سے حج یا عمرہ کے بعد تنعیم سے دوبارہ عمرہ کرنا نبی ﷺ کی سنت سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی یہ طریقہ صحابہ کرام سے ثابت ہے، ایسے ہی سلف صالحین سے بھی اس کی کوئی تائید نہیں ملتی؛ کیونکہ اصولی طور پر ایک سفر میں ایک ہی عمرہ ہے۔ عمرے کے بارے میں راجح یہی ہے کہ میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا تنعیم سے عمرہ کرنا ایک استثنائی صورت ہے جسے عام سمجھ لینا صحیح نہیں ہے۔
واللہ اعلم

