سوال
حدود حرم میں غیر مسلموں کے داخل ہونے کا کیاحکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
مکہ مکرمہ سے متعلق اکثر فقہاء کرام کا فیصلہ ہے کہ کافر یا غیر مسلم حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکتے، ہر طرح کے کافر کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ چاہے وہ وہاں سے گزر رہا ہو یا رہائش کے لئے آیا ہویہى جمہور کا مذہب ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ حرم مکی کی طرح حرم مدنی میں بھی غیر مسلم داخل نہیں ہو سکتے۔ جبکہ دلائل کى روشنى میں مدینہ منورہ میں داخلے کے لیے مذہب کی کوئی قید نہیں اور غیر مسلموں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
سب سے پہلے یہ جاننا ضرورى ہے کہ حدود حرم دو ہیں: ایک مکہ مکرمہ کا اور دوسرا مدینہ منورہ کا۔ حرم مکی اور حرم مدنی کے احکام علمائے کرام کے نزدیک الگ الگ ہیں۔ مندرجہ ذیل سطروں میں اس مسئلہ کو دلائل کى روشنى میں واضح کیا گیا ہے۔
اول: مکہ مکرمہ کے حدود حرم میں غیر مسلموں کے داخلے کا حکم :
مکہ مکرمہ سے متعلق اکثر فقہاء کرام کا فیصلہ ہے کہ کافر یا غیر مسلم حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکتے۔ اس کى دلیل قرآن مجید کى سورۃ توبہ کى آیت نمبر (28) ہے۔ جس میں واضح طور سے غیر مسلموں کو حدود حرم میں آنے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
"يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٢٨" التَّوۡبَة : 28
ترجمہ: اے ایمان والو! بے شک مشرک بالکل ہی نجس ہیں، وه اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں، اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے اللہ علم وحکمت واﻻ ہے.
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ہر طرح کے کافر کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے روکا جائے گا۔ چاہے وہ وہاں سے گزر رہا ہو یا رہائش کے لئے آیا ہو۔ یہى ہمارا مذہب ہے اور یہى جمہور کا مذہب ہے۔ ( ).
دوم: مدینہ منورہ کے حدود حرم میں غیر مسلموں کے داخلہ:
عام تاثر یہ ہے کہ حرم مکی کی طرح حرم مدنی میں بھی غیر مسلم داخل نہیں ہو سکتے۔ جبکہ دلائل کى روشنى میں مدینہ منورہ میں داخلے کے لیے مذہب کی کوئی قید نہیں۔ اور غیر مسلموں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں۔ مگر علماء کے درمیان صرف مسجد نبوى میں غیر مسلموں کے داخلے سے متعلق اختلاف ہے۔ مدینہ منورہ سے متعلق اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل نقاط کى روشنى میں سمجھنے کى کوشش کرتے ہیں۔
پہلا مسئلہ:مدینہ منورہ کے حدود حرم میں غیر مسلموں کے داخلہ کا حکم:
مکہ مکرمہ کے حدودِ حرم کے علاوہ مثلاً مدینہ منورہ وغیرہ میں غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی غیرمسلموں کا داخلہ منع ہے۔ جبکہ ان کا تجارتی، تعمیراتی اور حکومتی کام کاج وغیرہ کے لیے عارضی طور پر یہاں آنا جائز ہے، البتہ ان کا یہاں مستقل آباد اور رہائش اختیار کرنا منع ہے۔
سنن أبو داود میں حضرت عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے۔
أنَّ رسولَ اللَّهِ أوصى بِثَلاثةٍ فقالَ أخرِجوا المشرِكينَ من جزيرةِ العربِ... ( ).
ترجمہ: حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: " نبی کریم ﷺ نے اپنے انتقال سے قبل تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی۔ جس میں پہلی وصیت یہ تھی کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دیا جائے۔
یہاں مشرکین سے مراد تمام غیرمسلم مثلاً یہود، نصاریٰ اور ہندو سب شامل ہیں۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں:
" لأخرجنَّ اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع إلا مسلماً "( ).
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مکہ سے ضرور یہود ونصارى کو جزیرۃ العرب سے نکال دوں گا۔ یہاں تک کہ یہاں صرف مسلمان رہ جائیں۔
مطلب یہ ہے کہ (جزیرہ عرب)اسلام کا مرکز اور خاص قلعہ ہے۔ اس میں صرف اہل اسلام کی آبادی ہونی چاہیے۔ اہل کفر کو آبادی کی اجازت نہ دی جائے اور جو ابھی تک آباد ہیں ان کو اس علاقہ سے باہر بسا دیا جائے، آپ ﷺ کے اس حکم اور وصیت کی تعمیل کی سعادت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئی، انہوں نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کی تکمیل فرمائی اور تمام غیرمسلموں کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کیا۔ ( ).
مختصر یہ کہ: بغرض مصلحت غیر مسلموں کے مدینہ منورہ میں داخل ہونے کے جواز پر فقہائے کرام کا اتفاق ہے. ( )۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
"غیر مسلموں کو مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا جائے گا، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے نجران سے آنے والے نصاریٰ کے وفد کو اپنی مسجد میں ٹھہرایا تھا، اور جس آیت میں مسجد حرام میں مشرکوں کے داخل ہونے کی ممانعت ہے اس میں مدینہ منورہ شامل نہیں ہے"۔ ( )۔
مزید فرماتے ہیں:
"جب مذکورہ بالا آیت (سورۃ توبہ کے آیت نمبر28)نازل ہوئی تو یہود خیبر میں اور اس کے ارد گرد رہتے تھے، انہیں مدینہ منورہ میں آنے سے نہیں روکا جاتا تھا، بلکہ نبی کریم ﷺ اپنی زندگی کے آخری ایام تک ان سے معاملات کرتے رہے، چنانچہ جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو چند صاع غلہ کے عوض آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی تھی..
نجران سے آنے والے نصاریٰ اور قبیلہ ثقیف کے مشرکین کو نبی کریم ﷺ نے اپنی مسجد میں ٹھہرایا تھا۔ (اور نبی کریم کی ﷺ کی مسجد میں ٹھہرنے کیلئے مدینہ میں داخل ہونا ضروری ہے)"۔ ( ).
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"آیت بالا (سورۃ توبہ کے آیت نمبر28)سے غیر مسلمین کے مدینہ منورہ میں داخل ہونے کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ نجران کے نصاریٰ اور قبیلہ ثقیف کا مشرک وفد نبی کریم ﷺ سے ملنے کیلئے مدینہ میں داخل ہوا تھا، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حرم مدنی کا حکم حرم مکی جیسا نہیں ہے.."
شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حرم مکی میں مشرکین داخل نہیں ہو سکتے جب کہ مدینہ منورہ میں داخل ہو سکتے ہیں"۔
[مجموع فتاوى ورسائل العثيمين: ٢٢؍٢٤٠]
دوسرا مسئلہ: مسجد نبوى میں غیر مسلموں کے داخلہ کا حکم:
کیا کفار و مشرکین مسجد نبوی میں داخل ہوسکتے ہیں یا نہیں؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ: كفار کسى ضرورت کى بنا پر اور حاکم وقت کی اجازت سے مسجد نبوى میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اس مسئلہ کى دلیلیں ملاحظہ فرمائیں:
❍ ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو اسلام لانے سے قبل آپ ﷺ نے مسجد نبوی کے کھمبے سے باندھ دیا تھا۔ ( )۔
❍ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ جب حالت شرک میں تھے تو مغرب کی نماز کے وقت مسجد نبوی میں داخل ہوئے تھے۔ ( )۔
شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"آیت بالا (سورۃ توبہ کے آیت نمبر28)میں خصوصیت کے ساتھ مسجد حرام کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ مسجد حرام کے علاوہ دیگر مساجد میں کفار و مشرکین داخل ہو سکتے ہیں، جس کی تائید مذکورہ بالا احادیث سے ہوتی ہے". ( ).
خلاصہ یہ کہ: بغرض مصلحت و ضرورت حاکم وقت کی اجازت سے غیر مسلمین مدینہ منورہ میں داخل ہو سکتے ہیں، اس بات پر علمائے کرام کا اتفاق ہے۔
واللہ اعلم
( ۱) المجموع، للنوي، 7/467۔
(۲ ) سنن ابوداود، حدیث نمبر 3029۔ اسے شیخ البانی نے صحیح کہا ہے۔
( ۳) صحیح مسلم، حدیث نمبر 1767۔
( ۴) المغنى، ابن قدامہ، 9/285-286۔
( ۵) الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، 17/205۔
(۶ ) احکام اہل الذمۃ، ابن القیم، 1/397۔
( ۷) احکام اہل الذمۃ، ابن القیم، 1/402۔
(۸ ) صحیح بخاری، حدیث نمبر 4372۔
( ۹) مسند احمد، حدیث نمبر 16966۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے (الثمر المستطاب، 2/772) میں صحیح قرار دیا ہے ۔
(۱۰ ) الثمر المستطاب، 2/772) ۔

