سوال
: آثار نبویؐ سے تبرک حاصل کرنا کیسا ہے؟ جیسا کہ صحابہ آپ کے وضو کے پانی،کپڑوں،خورد ونوش کی چیزوں اور بالوں وغیرہ سے برکت حاصل کرتے تھے،اور نبیؐ نے کبھی انھیں منع نہیں کیا ؟
جواب
جواب مختصر
آثار نبوى سے تبرک حاصل کرنا احادیث نبویہ کى روشنى میں بالکل جائز ہے۔ خود صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے سامنے اور آپ ﷺ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آپ کے آثار سے تبرک حاصل کیا ہے جب تک یقین تھا کہ یہ چیزیں نبی ﷺ ہی کی ہیں ۔ صحابہ کرام کے بعد، تابعین عظام اور تبع تابعین بھی آثار نبویہ سے تبرک حاصل کیا کرتے تھے، لیکن اس وقت موجودہ آثار کو جو نبى ﷺ کى طرف منسوب ہیں ان کى کوئى حقیقت نہیں بلکہ دھوکا ہیں ۔
لہذا جو شخص تبرک حاصل کرنا چاہتا ہو اور اسے رسول اللہ ﷺ کے حقیقی آثار شریفہ میں سے کوئی شے حاصل ہو تو وہ اسے استعمال کرے،صرف دیکھ لینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا، البتہ ہم حقائق کی روشنی میں علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ اب رسول ﷺ کے کپڑوں،بالوں اور اسی طرح کی دیگر اشیاء میں سے کچھ بھی باقی نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے بس میں ہے کہ وہ یقینی اور قطعی طور پر یہ ثابت کر سکے کہ فلاں چیز واقعی نبی ﷺ کی ہے۔" ۔
لہذا کسی ایسی چیز سے تبرک حاصل کرنا جو نبی ﷺ کی طرف منسوب ہو لیکن وہ غیر محقق ہو اس سےتبرّک حاصل کرنا بدعت ہوگا، بلکہ یہ عمل شرک کا دروزاہ ثابت ہوسکتا ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اول: سب سے پہلے آثار نبوى اور ان سے تبرک حاصل کرنے کا مطلب جان لیں۔
نبی ﷺ کے آثار یعنی کی ہر وہ چیز جس کا نبی اکرم ﷺ کی ذات بابرکات سے کسی قسم کا تعلق یا واسطہ رہا ہو، مثلا: آپ ﷺ کے بال، کپڑے، جوتے، پسینہ اور عصا وغیرہ ۔
اور تبرک کا مطلب یہ کہ آپ ﷺ سے متعلق اُن تمام چیزوں کو شفاء حاصل کرنے یا حصول خیر و برکت کے واسطے چھونا،پہننا اور استعمال میں لانا۔
دوم: آثار نبوى سے تبرک حاصل کرنے کا کیا حکم ہے؟
آثار نبوى سے تبرک حاصل کرنا احادیث نبویہ کى روشنى میں بالکل جائز ہے۔ خود صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے سامنے اور آپ ﷺ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آپ کے آثار سے تبرک حاصل کیا ہے۔ صحابہ کرام کے بعد، تابعین عظام اور تبع تابعین بھی آثار نبویہ سے تبرک حاصل کیا کرتے تھے۔
اس سلسلے میں بہت سى حدیثیں موجود ہیں۔ بطور نمونہ چند ذکر کى جارہى ہیں:
1-عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ". ( )۔
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حجام آپ کا سر مونڈ رہا تھا۔ صحابہ کرام آپ کے ارد گرد موجود تھے اور ان کی خواہش تھی کہ آپ کا ہر بال کسی کے ہاتھ ہی پر گِرے۔"
2- اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ایک جبہ نکال کر فرمایا: "هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ..وَکَانَ النَّبِيُّ ﷺ یَلْبَسُها، فَنَحْنُ نَغْسِلُها لِلْمَرْضٰی یُسْتَشْفٰی بِها." ( )۔
ترجمہ: یہ رسول اللہ ﷺ کا جبہ ہے،جو آپ کی وفات تک حضرت عائشہ کے پاس تھا،جب آپ کی وفات ہوئی تواسے میں نے حاصل کر لیا،نبی ﷺ اسے پہنا کرتے تھے اور اب ہم اسے دھو کر اس کا پانی مریضوں کو پلاتے ہیں،تاکہ وہ صحت یاب ہو سکیں۔
3-عیسیٰ بن طہمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: «أَخْرَجَ إِلَيْنَا أَنَسٌ نَعْلَيْنِ جَرْدَاوَيْنِ لَهُمَا قِبَالَانِ. فَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بَعْدُ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُمَا نَعْلَا النَّبِيِّ ﷺ» ( )۔
ترجمہ: انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمارے پاس بالوں کے بغیر چمڑے والے دو جوتے لائے،ان کے دو تسمے تھے۔ بعد میں مجھے ثابت بنانی رحمہ اللہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ وہ نعلین کریمین نبی کریم ﷺ کے تھے۔‘‘
آپ ﷺ کے آثار مبارکہ سے تبرک حاصل کرنے کا حکم صرف صحابہ کرام یا تابعین تک محدود نہیں ہے ۔ بلکہ یہ آج بھى باقى ہے۔ اور ہمیشہ رہے گا۔
لیکن آثار نبوى ﷺ کے معاملہ میں صحابى رسول حضرت عمرو بن الحارث رضی اللہ عنہما کى یہ حدیث دھیان میں رہے۔ وہ فرماتے ہیں:
«مَا تَرَكَ رَسُولُ اللهِ ﷺ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْهَمًا وَلَا دِينَارًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً» ( ).([1])( ) صحیح مسلم،حدیث نمبر 2325۔
ترجمہ: آپ ﷺ نے اپنى وفات کے بعد نہ درہم و دینار چھوڑا، نہ کوئی غلام، نہ کوئی لونڈی، نہ کوئی اور چیز چھوڑى۔بلکہ آپ نےصرف سفید خچر، آپ کے ہتھیار اور زمین کے جو آپ نے صدقہ کے طور پر دی تھی۔ یہ چیزیں چھوڑ یں۔
اس سے پتہ چلا کہ آپ کے زیر استعمال بہت کم چیزیں تھیں۔ اور یہ بہت کم بھى آج کے زمانے میں موجود نہیں ۔
لہذا جو شخص تبرک حاصل کرنا چاہتا ہو اور اسے رسول اللہ ﷺ کے حقیقی آثار شریفہ میں سے کوئی شے حاصل ہو تو وہ اسے استعمال کرے،صرف دیکھ لینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا، البتہ ہم حقائق کی روشنی میں علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ اب رسول ﷺ کے کپڑوں،بالوں اور اسی طرح کی دیگر اشیاء میں سے کچھ بھی باقی نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے بس میں ہے کہ وہ یقینی اور قطعی طور پر یہ ثابت کر سکے کہ فلاں چیز واقعی نبی ﷺ کی ہے۔" ( )۔
یہ بات واضح رہے کہ تبرّک صرف نبی ﷺکی باقیات سے حاصل کیا جا سکتا ہے، چنانچہ کسی امتی کو آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، صحابہ کرام نے حضرت ابو بکر یا حضرت عمر یا عثمان کے آثار سے تبرک حاصل نہیں کیا۔لہذا نیک صالح لوگوں کے باقی ماندہ آثار سے تبرّک حاصل کرنا بدعت ہوگا، بلکہ یہ عمل شرک کا دروزاہ ثابت ہوسکتا ہے۔
نبی ﷺ کی باقیات میں سے اس وقت کسی چیز کے موجود ہونے کے بارے میں ٹھوس ثبوت نہیں ہیں ، اور ایسی چیزوں کے بارے میں دعوی کرنے والوں کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ اشیاء نبی ﷺ کی ہیں، لہذا اس بنا پر کوئی بھی شخص اپنے قبضے میں موجود اشیاء کے بارے میں ٹھوس دلیل دئیے بغیر یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ چیزیں نبی ﷺ کی ہیں! لیکن اسے اس بارے میں ٹھوس شواہد کہاں ؟!
علامہ احمد پاشا تیمور عظیم مؤرخ ہیں، کہتے ہیں:
"آپکی وفات کے بعد لوگوں میں موجود موئے مبارک ان بالوں میں سے تھے جو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام میں تقسیم کیے تھے، لیکن اس وقت مشکل یہ ہے کہ صحیح اور غلط میں فرق کیسے کیا جائے؟" ( )۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے آثار سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے۔ لیکن اس وقت موجودہ آثار کو جو نبى ﷺ کى طرف منسوب ہیں ان کى کوئى حقیقت نہیں۔
واللہ اعلم
( 1) صحیح مسلم،حدیث نمبر 2325۔
(2 ) صحیح مسلم،حدیث نمبر 2069۔
(3 ) صحیح بخارى،حدیث نمبر 3107۔
( 4) صحیح بخارى،حدیث نمبر 2739۔
(5 ) فتاویٰ اصحاب الحدیث، 1/47۔
(6 ) الآثار النبویۃ، احمد پاشا تيمور، ص91۔

