سوال
رکوع سے اٹھنے کے بعد ہاتھ باندھنا کیسا ہے؟
جواب
جواب مختصر
زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق نبى ﷺ سے کوئى صریح اور صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔ نہ صحابہ کرام اور تابعین سے اس سلسلہ میں کوئى بات منقول ہے۔اس مسئلہ پر فقہاء نے بعض دلیلوں کے الفاظ سے استدلال کیا ہے۔ لیکن تمام دلائل اور شرعى اور فقہى قواعد کى روشنى میں یہ بات زیادہ درست نظر آتى ہے نماز میں رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ نہ باندھا جائے بلکہ اسے چھوڑ دیا جائے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
رکوع کے بعد قومہ میں ہاتھ باندھنا نبى ﷺسے ثابت نہیں۔ نہ ہى کسى صحابى یا تابعى سے ثابت ہے۔اس لئے کوئی ایسا طریقہ جسے سلف صالحین نے اختیار نہ کیا ہو اور دلائل سے واضح طور پر ثابت نہ ہو، اس میں ضد اور شدت کرنا درست نہیں ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں اس سلسلے میں مذاہب اربعہ اور دیگر علمائے کرام کا کیا نظریہ ہے؟
اہل علم کے یہاں رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کے سلسلے میں تین اقوال ہیں:
پہلا قول: رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا مسنون ہے، یہ قول بعض فقہاء احناف وشوافع ، امام ابن حزم، شيخ ابن باز اور شيخ ابن عثيمين رحمهم الله سے منقول ہے۔ ([1])۔
انہوں نے مندرجہ ذیل احاديث سے استدلال کیا ہے:
۱۔ حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
«كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ» ([2])۔
" لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھیں"
۲۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
«كان رسولُ اللهِ ﷺ إذا قال: سمِعَ اللهُ لِمَن حمِدَه قام حتَّى نقولَ: إنَّه قد أوهَمَ» ([3]).
" اللہ کے رسول ﷺجب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو اتنا لمبا قیام کرتے کہ ہمیں لگتا کہ آپ ﷺ سے بھول ہو گئی ہے ۔
وجہ استدلال: اس حدیث کے الفاظ ( قد أوھم) میں اس بات کا اشارہ ہے کہ رکوع کے بعد آپ ﷺکا قیام اسی طرح رہتا جیسے رکوع سے پہلے ہوتا تھا، اور رکوع سے پہلے آپ ﷺہاتھ باندھ کے کھڑے ہوتے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو لگتا کہ آپ کو وہم ہوگیا ۔ اور اگر ان دونوں میں فرق ہوتا تو صحابہ کرام کو بھول جانے کا گمان نہ ہوتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ نبی ﷺسے کسی حدیث میں ثابت نہیں ہے کہ آپ نے قیام میں ہاتھ کو یوں ہی چھوڑ دیا ہو اور بغل میں لٹکا کے رکھا ہو۔ ([4])۔
دوسرا قول: اس مسئلہ میں دوسرى رائے یہ ہے کہ رکوع کے بعد قیام میں ہاتھ باندھنا مسنون نہیں ہے، یہ جمہور فقہائے احناف، جمہور فقہائے مالکیہ ، جمہور فقہائے شافعیہ اور جمہور فقہائے حنابلہ اور معاصرین میں سے مشہور محدث شیخ البانی رحمہ اللہ کا قول ہے۔([5])۔
ان فقہائے کرام کى دلیل یہ ہے کہ نماز سے متعلق کسى بھى حدیث میں اس طرح کى روایت نہیں جس سے رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنا ثابت ہو۔ نہ ہى یہ صحابہ کرام اور تابعین سے منقول ہے۔
تیسرا قول: اگر مصلی چاہے تو رکوع کے بعد ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو اور اگر چاہے تو نہ باندھے، اور یہ حنابلہ کا مذہب ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ باندھنے اور نہ باندھنے کے سلسلے میں کوئی صریح دلیل موجود نہیں ہے۔ ([6])۔
راجح قول:
اس مسئلہ میں دلائل پر غور وخوض کے بعد یہ بات زیادہ درست لگتى ہے کہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنا مسنون نہیں ہے، اس کى تفصیل درج ذیل ہے:
1- نماز ایک عبادت ہے اس کى ادائیگى کا طریقہ بھى عبادت ہے۔ اور عبادت اور اسے ادا کرنے سے متعلق کسى بھى بات کو ثابت کرنے کے لئے دلیل کى ضرورت ہوتى ہے۔اور رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق نبی ﷺسے کوئی صریح حدیث ثابت نہیں ہے۔
2- حضرت وائل بن حجر سے روایت ہے:
" أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ. كَبَّرَ (وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ) ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ. ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى. فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ. ثُمَّ رَفَعَهُمَا. ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ. فَلَمَّا قَالَ "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" رَفَعَ يَدَيْهِ. فَلَمَّا سَجَدَ، سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ"([7]).
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ اللہ نے نبى ﷺ کى نماز کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :اللہ کے نبى ﷺ نے نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا اور اللہ اکبر کہا۔ (ہمام کے مطابق آپ ﷺ نے ہاتھوں کو کانوں کى لو تک اٹھایا) پھر آپ ﷺ نے کپڑا لپیٹ لیا۔ پھر آپ ﷺ نے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا۔رکوع کرتے وقت آپ ﷺنے ہاتھوں کو کپڑے سے نکالا اور رفع یدین فرمایا پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں گئے۔ جب سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو رفع یدین فرمایا اور سجدہ کرتے وقت دونوں ہاتھوں کى ہتھیلیوں پر سجدہ فرمایا۔
اس حدیث میں قابل غور بات یہ ہے کہ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبى ﷺ کى نماز کى کیفیت بیان کرتے ہوئے رکوع سے پہلے رفع یدین کا ذکر کیا ہے اور داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر باندھنے کا تذکرہ کیا ہے۔ لیکن رکوع کے بعد صرف رفع یدین کا تذکرہ کیا ہے ہاتھ باندھنے کا تذکرہ نہیں کیا نہ ہى ہاتھوں کو پکڑنے کا تذکرہ کیا۔ اگر نبى ﷺ رکوع کے بعد بھى ہاتھ باندھتے تو حضرت وائل بن حجر اس کا تذکرہ ضرورکرتے۔ اس سے پتہ چلتا ہے آپ ﷺ نے رکوع کے بعد ہاتھوں کو باندھا نہیں بلکہ چھوڑ دیا۔
3- حضرت ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ اللہ کے بنى ﷺنماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
«ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا» ([8])۔
ترجمہ: " ... پھر مکمل اطمینان کے ساتھ رکوع کرو۔پھر رکوع سے اٹھ کر بالکل سیدھے کھڑے ہوجاؤ"۔
اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ نبى ﷺ نے رکوع کے بعد بالکل سیدھے کھڑے ہونےکا حکم دیا ہے۔ہاتھ باندھنے کا حکم نہیں دیا۔ جس بات کا آپ ﷺ نے تذکرہ بھى نہیں کیا وہ نماز کا حصہ کیسے ہوسکتى ہے؟
4- سلف صالحین میں سے کسی سے یہ چیز منقول نہیں ہے۔
5- سہل بن سعد الساعدی کی حدیث جس سے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کو ثابت کیا جاتا ہے وہ حدیث مجمل ہے۔ اس کی تفصیل حدیث وائل بن حجر سے ہوتی ہے کہ اس سے مراد رکوع سے پہلے کا قیام ہے نہ کہ رکوع کے بعد کا۔
6- رکوع کے بعد کا قیام رکوع سے پہلے والے قیام سے مختلف ہے کیونکہ پہلے والے قیام میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے، جبکہ دوسرے میں جائز نہیں ہے۔ اسی وجہ سے علمائے کرام اسے رفع یا اعتدال سے تعبیر کرتے ہیں نہ کہ قیام سے۔ اور یہ اعتدال رکوع اور سجدے ان دونوں ارکان میں فصل کرنے کے لئے مشروع کیا گیا ہے۔
7- حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق مفصل روایتوں میں اس کا تذکرہ نہیں ہے۔اور محض نبی ﷺکے طول قیام سے ہاتھ باندھنا ثابت نہیں ہوتا ۔ ([9])۔
خلاصہ یہ کہ رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے سے متعلق نبى ﷺ سے کوئى صریح اور صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔ نہ صحابہ کرام اور تابعین سے اس سلسلہ میں کوئى بات منقول ہے۔اس مسئلہ پر فقہاء نے بعض دلیلوں کے الفاظ سے استدلال کیا ہے۔ لیکن تمام دلائل اور شرعى اور فقہى قواعد کى روشنى میں یہ بات زیادہ درست نظر آتى ہے نماز میں رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ نہ باندھا جائے بلکہ اسے چھوڑ دیا جائے ۔
واللہ اعلم

