سوال
کیا مسجد بنانے والے کے لیے اس کے بعض حصوں سے فائدہ اٹھانا جائز ہے؟ کیا مسجد بنانے والا اس کے بعض حصوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟ جیسے اپنے ڈرائیور یا خادم کے لئے مسجد کى ضرورت کى خاطر بنائے ہوئے کسى کمرہ کا استعمال کرے۔
جواب
جواب مختصر
مسجد بنانے والے نے جب اپنی جگہ مسلمانوں کو نماز اور عبادت کے لئے وقف کردیا تو اب وہ اس کى ملکیت نہیں رہى، چاہے وہ تعمیر شدہ حصہ ہو یا خالى جگہ، اسى طرح وہ کمرے بھى جو مسجد کے لئے بنائے گئی ہوں۔ اس کے لئے اب یہ جائز نہیں کہ اپنے ذاتى استعمال کے لئے مسجد کا کوئى حصہ استعمال کرے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
عرف عام یہى ہے کہ جس شخص نے مسجد بنائى گویا اس نے اسے اللہ تعالى کى رضا کى خاطر مسلمانوں کو نماز اور عبادت کے لئے وقف کردیا۔ اب وہ اس کى ملکیت نہیں رہى۔ عرف عام یہى ہے کہ مسجد کى پورى زمین وقف ہوتى ہے، چاہے وہ تعمیر شدہ حصہ ہو یا خالى جگہ۔ اسى طرح وہ کمرے بھى جو مسجد کے لئے بنائے جائیں۔
اب وقف کرنے والے کے لئے یہ جائز نہیں کہ اپنے ذاتى استعمال کے لئے مسجد کا کوئى حصہ استعمال کرے، کیوں کہ وہ اس کى ملکیت نہیں رہى۔ اب وہ مسجد کى ملکیت ہے اور عام مسلمانوں کا حق ہے۔ اس پر قبضہ کرنا یا ذاتى استعمال میں لانا کسى کے لئے جائز نہیں۔
واللہ اعلم

