سوال
نماز جنازہ میں ایک جانب سلام پھیرا جائے گا یا دونوں جانب؟
جواب
جواب مختصر
نماز جنازہ میں دو یا ایک سلام پھیرنے کی بابت علماء میں اختلاف ہے، دونوں قول پر عمل کرنا جائز اور مستحب ہے، اس لئے کہ نبی ﷺ سے دونوں عمل ثابت ہے ،لہذا جس علاقے میں لوگ جس حدیث پر عمل پیرا ہوں اسے اُسی پہ باقی رہناچاہیے،تشدد اور سختی نہیں برتنی چاہیے۔
البتہ یہ یاد رہے کہ اگر کسى امام نے دو سلام پھیرے تو اس کى اقتداء کرتے ہوئے مقتدى کو دو سلام پھیرنے ہوں گے اور اگر کسی نے ایک سلام پھیرا ہے تو مقتدی کو بھی ایک ہی سلام پھیرنا ہوگا ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
نماز جنازہ میں سلام پھیرنے کی تعداد کے بارے میں علماء کرام کے دو اقوال ہیں۔
بعض صحابہ کرام ابوہریرۃ،علی،جابر بن عبداللہ، ابن عمر،ابن عباس،انس بن مالک رضی اللہ عنہم ایک جانب سلام پھیرنے کے قائل ہیں۔ اسی طرح سلف صالحین اور متعدد ائمہ کرام ابن سیرین، حسن بصری، سعید بن جبیر،سفیان ثوری،سفیان بن عیینہ،عبداللہ بن مبارک،عیسی بن یونس،اسحاق بن راہویہ، اور ابن المنذر وغیرہم رحمہم اللہ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ نیز مالکیہ و حنابلہ بھی اسى کے قائل ہیں۔ ان حضرات کے دلائل درج ذیل ہیں۔
1- عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ أنّ رسول الله ﷺ صلى على جنازة، فكبر عليها أربعا، وسلم تسليمة واحدة" ([1]).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے ایک شخص پر نماز جنازہ پڑھی، چار تکبیریں کہیں اور ایک طرف سلام پھیرا۔
2-عن أبي أمامة أنه قال: "السُّنَّةُ في الصلاةِ على الجنازةِ أن: تُكَبِّرَ، ثم تقرأَ بأمِّ القرآنِ، ثم تُصلِّيَ على النبيِّ ﷺ ثم تُخلِصَ الدعاءَ للميتِ، ولا تقرأَ إلا في التكبيرةِ الأُولَى، ثم تُسلِّمَ في نفسِكَ عن يمينِك" ([2]).
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: نماز جنازہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ اکبر کہو ،پھر سورہ فاتحہ پڑھو،پھر نبی ﷺ پر درود بھیجو،پھر خالص میت کے حق میں دعا کرو،اور پہلی تکبیر کے علاوہ میں قرآت نہ کرو،پھر آہستہ دائیں جانب سلام پھیرو۔
علامہ ابن المنذر رحمہ اللہ نے نماز جنازہ میں صرف ایک جانب سلام پھیرنے پر اکتفا کرنے والے کی نماز درست ہونے پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔ ([3]).
دوسرا قول یہ ہے کہ دونوں جانب سلام پھیرا جائے گا۔
علماء احناف،شافعیہ،امام احمد،مشہور تابعی عامر بن شراحیل،جابر بن زید،ابراہیم نخعی ([4]) اور امام ابن حزم الظاہری نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ اور یہ دلیل دی ہے کہ صحابی رسول عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ "ثلاث خلال كان رسول الله ﷺ يفعلهن، تركهن الناس، إحداهن: التسليم على الجنازة مثل التسليم في الصلاة" ([5])۔
تین عمل ایسے ہیں جسے نبی ﷺ کیا کرتے تھے مگر لوگوں نے اسے چھوڑ رکھا ہے،ان میں سے ایک یہ ہے کہ نماز جنازہ میں سلام پھیرنا عام نمازوں میں سلام پھیرنے کی طرح ہے۔
وجہ استدلال! مذکورہ حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ میں سلام پھیرنے کو فرض نمازوں میں سلام پھیرنے کے مشابہ قرار دیا ہے، جس طرح فرض نمازوں سے فارغ ہوتے وقت دونوں جانب سلام پھیرنا مشروع ہے اسی طرح نماز جنازه میں بھی دونوں جانب سلام پھیرنا مشروع ومسنون ہوگا۔ ([6])۔
امام ابن حزم الظاہری رحمہ اللہ نے اسی عموم نماز سے ہی استدلال کرتے ہوئے دونوں جانب سلام پھیرنے کو جائز اور مستحب قرار دیا ہے۔ ([7])۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نماز جنازہ میں دو یا ایک سلام پھیرنے کی بابت علماء میں اختلاف ہے، دونوں قول پر عمل کرنا جائز اور مستحب ہے۔مشہور فقیہ ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" تَسْلِيمَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ ...؛ لِأَنَّهُ الَّذِي عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ ﷺ وَهُمْ أَعْلَمُ بِالسُّنَّةِ مِنْ غَيْرِهِمْ ؛ وَلِأَنَّهُمُ الَّذِينَ حَضَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ ﷺ، وَحَفِظُوا عَنْهُ ، وَلَمْ يَخْتَلِفْ منْ رُوِّينَا ذَلِكَ عَنْهُ مِنْهُمْ : أنَّ التَّسْلِيمَ تَسْلِيمَةٌ وَاحِدَةٌ" ([8]).
ترجمہ: "نماز جنازہ میں ایک طرف سلام پھیرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ اس لئے کہ صحابہ کرام کا یہى طریقہ ہے۔ وہ آپ ﷺ کى سنت کے بارے میں دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔انہوں نے نبى ﷺکو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ان کے درمیان ایک سلام پھیرنے پر اختلاف منقول نہیں ہے"۔
لیکن اگر کسى امام نے دو سلام پھیرے تو اس کى اقتداء کرتے ہوئے مقتدى کو دو سلام پھیرنے ہوں گے۔
لہذا جس علاقے میں لوگ جس قول پر عمل پیرا ہوں اسے باقی رہنے دینا چاہیے،تشدد اور سختی نہیں برتنی چاہیے۔ یہى شیخ ابن عثیمین کى رائے ہے۔ ([9])
واللہ اعلم

