سوال
خضر علیہ السلام کون ہیں؟ ان کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب
جواب مختصر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
اختصار:
خضر علیہ السلام حضرت موسى علیہ السلام کے زمانے کے ایک نیک اور صالح شخص گزرے ہیں، علماء کے نزدیک صحیح قول کے مطابق خضر علیہ السلام نبی تھے۔
حضرت خضر علیہ السلام نبى تھے۔ اور وہ زندہ نہیں ہیں۔ ان کا انتقال بہت پہلے ہوچکا ہے، عیسى علیہ السلام سے بھى پہلے۔ چونکہ وہ نبى تھے۔ اور محمد ﷺ اور عیسى علیہ السلام کے درمیان کوئى نبى نہیں آیا ورنا نبی ﷺ یہ نا کہتے کہ میں لوگوں میں ابن مریم سے سب سے زیادہ قریب ہوں، اور انہیں زندہ کہنا بغیر علم اور دلیل کى بات ہے۔ اور اگر کوئى ان سے ملاقات اور ملنے کا دعوى کرے تو وہ جھوٹا ہے۔
**
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
**
خضر علیہ السلام حضرت موسى علیہ السلام کے زمانے کے ایک نیک اور صالح شخص گزرے ہیں۔ ان کا واقعہ موسى علیہ السلام کے ساتھ قرآن مجید کى سورۃالکہف میں ذکر ہے۔
ایک دن موسى علیہ السلام بنى اسرائیل سے مخاطب تھے۔ کسى نے ان سے پوچھا: کیا آپ سے زیادہ علم والا اس زمین پر کوئى اور ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں! اللہ تعالى نے موسى علیہ السلام کو بذریعہ وحى خبر دى کہ اس زمین پر آپ سے بھى زیادہ ایک صاحب علم موجود ہیں۔ اللہ کى بتائى ہوئى جگہ پر ان کى ملاقات خضر علیہ السلام سے ہوئى۔
صحیح بخارى کى روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إنَّما سُمِّيَ الخَضِرُ أنَّه جلس على فَرْوَة بيضاء، فإذا هي تهتزُّ مِنْ خَلْفِه خَضْراء» ([1])
"ان کا نام خضر اس لیے رکھا گیا کہ وہ ایک خشک زمین پر بیٹھے تھے، جب اٹھے تو وہ سر سبز و شاداب ہوگئى۔"
خضر علیہ السلام نبى تھے یا ولى؟
علماء کے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ خضر علیہ السلام نبی ہیں، جیسا کہ قرآن کریم کے ظاہری معنی سے ظاہر ہوتا ہے، اللہ تعالى سورہ الکہف میں فرماتے ہیں:
فَوَجَدَا عَبۡدٗا مِّنۡ عِبَادِنَآ ءَاتَيۡنَٰهُ رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَا وَعَلَّمۡنَٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلۡمٗا [الکہف: 65]
"اور ان دونوں (موسى علیہ السلام اور ان کے ساتھى) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنی طرف سے رحمت عطا فرمائی اور جسے ہم نے اپنے پاس سے علم سکھایا۔"
دھیان رہے کہ بعض لوگ انہیں نبى نہیں بلکہ ولى مانتے ہیں۔ اور چونکہ ان کا علم بعض امور میں حضرت موسى علیہ السلام سے زیادہ تھا اس سے بعض اہل بدعت یہ استدلال کرتے ہیں کہ ولى کا درجہ نبى سے افضل ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ کیونکہ ہر نبى ولى ہى ہوتا ہے۔
کیا خضر علیہ السلام اب تک زندہ ہیں؟
صحیح بات یہ ہے کہ ان کا انتقال بہت پہلے ہوچکا ہے۔ عیسى علیہ السلام سے بھى پہلے۔ چونکہ وہ نبى تھے۔ اور محمد ﷺ اور عیسى علیہ السلام کے درمیان کوئى نبى نہیں آیا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں:
«أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بابْنِ مَرْيَمَ، وَالأنْبِيَاءُ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ، ليسَ بَيْنِي وبيْنَهُ نَبِيٌّ» ([2])
"میں لوگوں میں ابن مریم سے سب سے زیادہ قریب ہوں۔ انبیاء اولاد علات ہیں (یعنى ایسى اولاد جن کا باپ ایک ہو۔ ماں الگ الگ ہو) اور میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خضر علیہ السلام عیسى علیہ السلام سے پہلے فوت ہو چکے تھے، اگر وہ عیسى علیہ السلام کے بعد زندہ رہتے تو نبى ﷺ ان کا تذکرہ کرتے۔ کیونکہ محمد ﷺ اور عیسى علیہ السلام کے درمیان کوئى نبى نہیں آیا۔
اگر ہم یہ مان لیں کہ وہ نبی نہیں بلکہ ایک نیک اور صالح شخص تھے تب بھى نبى ﷺ کى ایک مشہور حدیث کے مطابق وہ انتقال کرچکے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنى زندگى کے اخیر میں فرمایا تھا:
«أرأيتُكم ليلتُكم هذه؟ فإنَّ على رأسِ مائةِ سنةٍ منها لا يبقى من هو على ظهرِ الأرضِ أحدٌ» ([3])
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ: آج کى رات اس زمین پر جو لوگ زندہ ہیں ان میں سے کوئى بھى اگلے سو سال آنے تک اس زمین پر باقی نہیں رہے گا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو اس وقت موجود تھا، سو سال بعد زندہ نہیں رہے گا۔
اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ وہ نبى ﷺ کے زمانے میں زندہ تھے تو وہ نبى ﷺ سے آکر ملتے۔ ان کى مدد کرتے۔ ان کے ساتھ ہجرت اور غزوات میں شریک ہوتے مگر ایسا کہیں ذکر نہیں کہ ان کى ملاقات نبى ﷺ سے ہوئى ہو۔ اگر نہیں ملے تو مرچکے ہیں۔ اس صورت میں ان کے دیدار کا دعوى کرنے والا جھوٹا ہے۔
خلاصہ: خضر علیہ السلام نبى تھے۔ اور وہ زندہ نہیں ہیں۔ ان کا انتقال بہت پہلے ہوچکا ہے۔ انہیں زندہ کہنا بغیر علم اور دلیل کى بات ہے۔ اور اگر کوئى ان سے ملاقات اور ملنے کا دعوى کرے تو وہ جھوٹا ہے۔
واللہ اعلم

