سوال
کیا کسی غیر مسلم کوقرآن یا اس کا ترجمہ دینا جائز ہے؟
جواب
جواب مختصر
قرآن مجید ایک بزرھ کتاب ہے جس کا چھونا کسی ناپاک و نجس شخص کے لئے جائز نہیں ہے ، اس لئے قرآن مجید کے اصل عربی نسخے کو کسی غیر مسلم کو دینا جائز نہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہوتاہےاور اس سے قرآن مجید کى بے حرمتى کا اندیشہ ہے، ہاں البتہ غیر مسلم کو قرآن مجید کے معانى کا ترجمہ یا تفسیر دینا جائز ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
قرآن مجید اللہ عزوجل کی نازل کردہ مقدس ترین کتاب ہے۔ ایک مسلمان اگر ناپاک ہو تو اسے مصحف(قرآن) چھونے سے منع کیا گیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالى کا ارشاد ہے: لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلۡمُطَهَّرُونَ " الوَاقِعَة :79 ترجمہ: "پاک لوگ ہی اسے چھوتے ہیں»۔
اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے: « لا يمسُّ القرآن إلا طاهر» ([1])۔ ترجمہ: قرآن کو وہی چھوئے جو پاک ہو۔
غیر مسلم ناپاک ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالى کا ارشاد ہے: إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ" التَّوۡبَة : التوبۃ 28 ترجمہ: " یقیناً مشرکین ناپاک ہیں "۔
اب ایک غیر مسلم جو ہر حال میں نجس رہتا ہے اسے خالص قرآن دینا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کى روشنى میں کسى غیر مسلم کو قرآن مجید دینا جائز نہیں۔ نبی ﷺ نے دشمن کےعلاقوں میں قرآن لے جانے سے منع فرمایا ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ. ([2])۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: کہ رسول اللہ ﷺ نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید ساتھ لے کر سفرکرنے سے منع فرمایا ہے۔
دشمن کے علاقوں میں قرآن مجید لے جانے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ دشمن کے ذریعہ اس کو توہین نہ ہو۔ ([3])۔
متعدد معاصر علماء - مثلا: شیخ ابن باز ([4]) اور شیخ ابن عثیمین ([5]) رحمہم اللہ- نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کسی غیر مسلم شخص کو قرآن دینے میں بے حرمتی کا خوف واندیشہ ہے تو اسے قرآن مجید نہیں دیا جائے گا۔
البتہ غیر مسلم کو قرآن مجیدکے معانى کا ترجمہ یا تفسیر دى جاسکتى ہے۔ اسے متعدد علماء نے جائز قرار دیا ہے۔ اگر چہ وہ تفسیرچند آیتوں پر مشتمل ہو۔
دلائل و تفصیلات درج ذیل ہیں:
1- کسی غیر مسلم شخص کو قرآن مجیدکى ایک یا دو آیتیں لکھ کر دینا جائز ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے قیصر روم ہرقل کو خط میں سورہ مائدہ کى دوآیتیں لکھى تھیں۔ ([6]) ۔
2- غیر مسلم کو قرآن مجیدکے معانى کا ترجمہ یا تفسیر دى جاسکتى ہے۔ قرآن مجیدکے معانى کا ترجمہ کا حکم قرآن جیسا نہیں ہے،مصحف یا قرآن وہ ہے جو کہ خالص عربی میں ہو،ترجمہ و تفسیر اس میں شامل نہیں۔ اگر قرآن مجیدکے معانى کا ترجمہ کسی بھی زبان میں ہو تو وہ تفسیر کے حکم میں آگیا،اور تفسیر اٹھانا،پکڑنا پاک وناپاک ، مسلم و کافر ہر ایک کیلئے جائز ہے۔
سعودى عرب کى افتاء کمیٹى کا فتوى ہے:
" لا تُعْتَبَرُ تَرْجَمَةُ مَعَانِي القُرْآَنِ قُرْآناً، ولا تُنَزَّلُ مَنْزِلَتُه مِنْ جَمِيع النَّواحي؛ بل هو مثل تفسير القرآن باللغة العربية في تَقْرِيب المعاني، والمساعدة على الاعتبار. وعلى هذا يجوز مَسُّ الكُفَّار تَرْجَمَةَ معاني القرآن بغير اللغة العربية ويجوز مَسُّهُمْ تفسيره باللغة العربية " ([7]).
ترجمہ: " قرآن کے معانی کا ترجمہ قرآن نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اسے کسى بھى لحاظ سے قرآن کا درجہ دیا جاسکتا ہے، بلکہ یہ معنى اور مفہوم سمجھانے کے لئے قرآن کی عربی زبان میں تفسیر کرنے کے مترادف ہے۔ اس بنا پر قرآن کے معانی کا ترجمہ عربى زبان میں ہو یا کسى اور زبان میں اسے کافر کے لئے چھونا جائز ہے۔
واللہ اعلم

