سوال
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں شامل ہونا کیسا ہے؟ اس میں سب سے پہلے کمپنى سے کوئى چیز خریدنى ہوتى ہے،پھر منافع کمانے کے لئے دوسروں کو بھى اس کا ممبر بنانا ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ ممبر بنائیں گے اتنا ہى منافع کمائیں گے؟
جواب
جواب مختصر
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں کئى قسم کے شرعى امور کى خلاف ورزى ہوتى ہے، دھوکا عام بات ہے ، اس میں خفیہ طریقے سے سود بھی پایا جاتا ہے ، ربا الفضل اور ربا النسیئۃ دونوں پائے جاتے ہیں ، اس میں ایک طرح سے جُوا و ظلم دونوں پایا جاتا ہے ، اس میں عقد ِ بیع و عقدِ اجارہ دونوں ایک ساتھ پائے جاتے ہیں جو سراسر نا جائز و حرام ہیں ۔
ان امور کى بنیاد پر نیٹ ورک مارکٹنگ کے حرام ہونے میں کوئى شبہ نہیں ہے۔ یہ ظلم اور فساد، دھوکہ اور فریب جوے اور سود پر مشتمل ہے۔ ان میں سے کوئى ایک بھی وجہ ہو تب بھی یہ ناجائز ہوگى چہ جائے کہ یہ سب ایک ساتھ موجود ہوں۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں کئى قسم کے شرعى امور کى خلاف ورزى ہوتى ہے۔ اس کى تفصیل درج ذیل ہے۔
اول: نیٹ ورک مارکیٹنگ دھوکے، جوے پر مشتمل ہوتى ہے۔
کیونکہ اس میں ایک آدمی پہلےکمپنی کا ممبر بنتا ہے اور کمپنی سے اس کی مصنوعات خریدتا ہے۔ پھر وہ اپنی کوشش سے مزید دو افراد کوممبر بناتا ہے اور یہ دونوں بھی کمپنی سے خریداری کرتے ہیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک پھر آگے دو دو افراد کو ممبر بناتے ہیں ۔ یوں ہر ممبر اپنی کوشش سے مزید دو دو ممبر بناتا ہے اور نیچے ایک چین اور نیٹ ورک بنتا جاتا ہے۔ ہر شخص جو دو افراد کو ممبر بناتا ہے، تو کمپنی اس شخص کو ممبر بنانےکا مخصوص کمیشن دیتی ہے ۔ یہ کمیشن ممبر بنانے والے فرد کے علاوہ اس سے اوپر والے افراد کو بھی ملتاہے،مثلا: پہلے ممبر نے صرف دو ممبر خود بنائے تھے، لیکن دوسرے تیسرے اور چوتھے مراحل میں بنے ہوئے ممبروں کا کمیشن بھی اس پہلے فرد کو ملتا رہے گا ۔البتہ کمیشن اسی وقت ملتا ہے، جب ممبر بننے والا فرد مخصوص مقدار میں خریداری بھی کرے۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں آدمى داخل ہى پیسہ کمانے کے لئے ہوتا ہے۔ اگر وہ ممبر نہ بنا سکے ۔ یا نئے بننے والے ممبر مطلوبہ مقدار میں کمپنى سے چیزیں نہ خرید سکے تو اسے کچھ بھى نہیں ملے گا۔ اس صورت میں یاتو اسے فائدہ ہوگا یا نقصان، اس صورت میں نہ چاہتے ہوئے بھى کبھى کبھى دھوکہ دہى پر اتر سکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے دھوکہ دے کر تجارت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضى اللہ عنہ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں:
»نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ« ([1]).
ترجمہ:رسول اللہﷺنے کنکر پھینک کر بیع کرنے اور دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے۔
اس کے علاوہ دیگر احادیث میں بھى رسول اللہ ﷺنے دھوکے اور جوے سے منع فرمایا ہے۔
دوم: یہ خفیہ طور پر سود پر مشتمل ہوتى ہے:
اس لین دین میں پوشیدہ سود شامل ہوتا ہے، یہ دو قسم کے سود ہیں:ربا الفضل اور ربا النسیئۃ ؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات معروف ہے کہ بیچےجانے والےسامان کا اصل مقصد اسےفروخت کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذریعہ نئے ممبر بنانے ہوتے ہیں۔ اور ان ممبروں سے اس سامان کى بازار سے بہت زیادہ قیمت وصول کى جاتى ہے۔ مطلب صاف ہے کہ یہ سامان نئے ممبروں سے پیسے وصول کرنے کے لئے آڑ کے طو پر استعمال ہوتے ہیں۔ اس صورت میں گویا قیمت کو بہت زیادہ قیمت سے بیچا جاتا ہے۔اور یہ حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
»لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الوَرِقَ بِالوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ« ([2]).
ترجمہ ”سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ کرو اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر نیز ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو“۔
دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ہاتھ در ہاتھ ہی بیچو(نقد ہی بیچو)۔
اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ہم وزن، ہم مثل اور برابر برابر۔
سوم: قمار(جُوا) یعنى موہوم امید منافع پر خریدارى کرنا۔
عموماً خریدارکو کمپنی کی مصنوعات میں رغبت نہیں ہوتی،بلکہ ممبر سازی و کمیشن کا حق دار بننے کے لیے یہ خریداری کرتا ہے اور اس کے لیے وہ کمپنی کے سستے معیار کی چیزیں نہ چاہتے ہوئے بھی مہنگے داموں میں خریدنے کو تیار ہو جاتا ہے اور اسی مقصد کے لئے وہ شروع میں رجسٹریشن کی فیس بھی دیتا ہے، حالانکہ کوئی بھی عقلمند شخص جو ممبرسازی کا ذہن نہیں رکھتا وہ اپنا سرمایہ ایسی جگہوں پر کبھی نہیں لگاتا۔
تو حاصل یہ ہےکہ کمیشن حاصل کرنے کی لالچ میں خریدار ، ممبر شپ کی فیس اور انتہائی مہنگی چیزیں خریدنے کی شکل میں اپنا کثیرسرمایہ داؤ (Risk)پر لگا ديتا ہے ،جبکہ آئندہ مطلوبہ شرائط کے مطابق ممبر بنا لینا اور کمیشن کا فائدہ پانا صرف ایک موہوم امید کی حدتک ہوتا ہے ،جس میں تقریبا نوے فیصد افراد ناکام رہتے ہیں، تو یوں لالچ میں اپنی رقم داؤ پر لگانا قمار (جُوے بازی )کے معنی میں ہے۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتےہیں:
" يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ "([3])
ترجمہ :’’اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں، تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
چہارم: مسلمان بھائى کے ساتھ نا انصافی اور ظلم:
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں مسلمان کو دھوکہ دیا جاتا ہے۔ اس میں کمپنى اپنی پروڈکٹ کو فروغ دینے کے لئے پرکشش اشتہارات پر انحصار کرتی ہے جو اس کے شرکاء کو دھوکہ دیتی ہے اور انہیں ایک چھوٹی سی رقم کے بدلے بڑے منافع اور کمیشن جمع کرنے پر اکساتی ہے۔ اس صورت میں چھوٹے اور نیچے کے مشترکین بڑے مشترکین کے ذریعہ دھوکہ دہى اور فریب کا شکار ہوجاتے ہیں۔وہ اپنے لئے ممبر نہیں بناپاتے۔ ان کے ہاتھ میں محرومیت کے سوا کچھ نہیں آتا۔
اللہ تعالى نے قرآن مجید میں حرام طریقے سے مال کمانے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں:
" وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ " ([4])
ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔
اور کمیشن کے لالچ میں کم داموں والی چیزیں بے حد مہنگی خرید لینا اپنا نقصان بھی ہے ۔ خودضرر (نقصان )میں پڑنا اور دوسروں کو ضرر میں ڈالنا ہے۔ اور دونوں اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے، رسول اللہ ﷺفرماتے ہیں:
»لا ضررَ ولا ضِرارَ«([5]).
ترجمہ: اسلام میں نہ ضررہے، نہ دوسرے کو ضرر دینا، ( یعنی نہ خود نقصان میں رہو نا دوسرے کو نقصان پہنچاؤ)
پنجم: بیع کى فاسد شرطیں:
نیٹ ورک مارکیٹنگ میں شامل ہونے والا فرد کمپنی کے ساتھ دو طرح کا عقد /معاہدہ کرتا ہے۔
(1) عقد بیع: یعنی وہ کمپنی کی مصنوعات خریدتا ہے۔
(2) عقد اجارہ :یعنی وہ لوگوں کوکمپنی کا ممبر بنوانے کے بدلے میں کمیشن حاصل کرتا ہے۔
لیکن یہ دونوں عقد ایک دوسرے کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں، وہ یوں کہ کمپنی ممبر سازی کا حق دینے کےلیے خریداری کرنے کی شرط رکھتی ہے یہ ”اجارہ بشرط بیع “ہےاور خریدار کی طرف سے گویا خریداری اس شرط پر ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد پر اسے ممبر سازی کا حق ملے گا۔ یہ ”بیع بشرط اجارہ “ہےاور بیع میں اجارے کی شرط یا اجارے میں بیع کی شرط لگانا ،جائز نہیں ہے۔حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں:
»نهى رسول الله ﷺ عن سلف وبيع , وعن شرطين في بيع واحد , وعن بيع ما ليس عندك , وعن ربح ما لم يضمن« ([6]).
ترجمہ: رسول اللہ ﷺنے قرض اور بیع ایک ساتھ کرنے سے، ایک ہی بیع میں دو شرطیں لگانے سے، اور اس چیز کے بیچنے سے جو تمہارے پاس موجود نہ ہو اور ایسی چیز کے نفع سے جس کے تاوان کی ذمہ داری نہ ہو، ان سب سےمنع فرمایا ہے۔
لیکن نیٹ ورک مارکیٹنگ میں کمیشن دینے کا طریقہ اس شرعی ضابطے کے متصادم و خلاف ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
مندرجہ بالا شرعى امور کى مخالفت کی بنیاد پر نیٹ ورک مارکٹنگ کے حرام ہونے میں کوئى شبہ نہیں ہے۔ یہ ظلم اور فساد، دھوکہ اور فریب جوے اور سود پر مشتمل ہے۔ ان میں سے کوئى ایک بھی وجہ ہو تب بھی یہ ناجائز ہوگى چہ جائے کہ یہ سب ایک ساتھ موجود ہوں۔
واللہ اعلم

