سوال
نماز میں قرآنى آیات کے جواب دینے کا حکم؟
جواب
جواب مختصر
فرض نمازوں میں امام یا مقتدى کے لئے سورہ فاتحہ کے اختتام پر " آمین " کے علاوہ کسى اور آیت کا جواب دینا نبى ﷺ سے ثابت نہیں۔لہذا فرض نماز میں آمین کے علاوہ کسى قرآنى آیات کا جواب دینا سنت کے خلاف ہوگا۔ ہاں فرض نماز میں بطور امام حضرت ابو موسى الأشعرى رضی اللہ عنہ سے مصنف ابن ابى شیبہ میں بطور امام سورہ اعلى کى پہلى آیت کا جواب دینا ثابت ہے، مقتدی کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے ۔
البتہ نفل نماز پڑھنے والے کے لئے مستحب ہے کہ جب رحمت والى آیتوں سے گزرے تو اللہ سے رحمت طلب کرے۔ یا عذاب والى آیتوں سے گزرے تو عذاب سے پناہ مانگے۔.... لیکن فرض نماز میں یہ مستحب نہیں ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ سے فرض نمازمیں ایسا منقول نہیں ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
نماز میں بعض قرآنى آیتوں کے جواب سے متعلق کچھ حدیثیں یا آثار مروى ہیں۔ ذیل میں اس مسئلہ کو تفصیل سے ذکر کیا جارہا ہے۔
اول: فرض نماز میں قرآنى آیتوں کا جواب:
فرض نماز میں صرف اور صرف سورۃ فاتحہ کے اختتام پر امام اور مقتدى کا آمین کہنا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت ابو ہریرۃ سے روایت ہے کہ نبى ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَقُولُ: آمِينَ» ([1]).
ترجمہ: جب امام آمین کہے تو تم بھى آمین کہو۔کیونکہ جس کى آمین ملائکہ کى آمین کےساتھ ہوگى اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
اس کے علاوہ فرض نمازوں میں امام یا مقتدى کے لئے کسى اور آیت کا جواب دینا نبى ﷺ سے ثابت نہیں۔لہذا فرض نماز میں آمین کے علاوہ کسى قرآنى آیات کا جواب دینا سنت کے خلاف ہوگا۔
صحابہ کرام نے بہت اہتمام اور باریکى سے آپ کى فرض نمازوں کى تفصیلات بیان کى ہیں۔ لیکن کہیں بھى آمین کے علاوہ کسى قرآنى آیات کے جواب دینے کا ذکر موجود نہیں۔ ([2])۔
البتہ صحابہ کرام میں صرف حضرت ابو موسى الأشعرى رضی اللہ عنہ سے بطور امام سورہ اعلى کى پہلى آیت کا جواب دینا ثابت ہے۔ مصنف ابن ابى شیبہ کى صحیح روایت ہے:
عن عمير بن سعيد قال: صليت مع أبي موسى الجمعة فقرأ بـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى}، فقال: سبحان ربي الأعلى، وهو في الصلاة ([3]).
عمیر بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے ابو موسى الأشعرى کے ساتھ نماز جمعہ ادا کى تو انہوں نے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) پڑھا تو کہا: (سبحان ربی الأعلى)۔ ایسا انہوں نے نماز کے اندر کیا۔
اس اثر سے متعلق سب سے پہلے یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ نے خود قرآت کرنے کے بعد سورہ اعلی کی پہلی آیت کا جواب دیا تھا۔ یعنی امام کی صورت میں آپ نے اس پر عمل کیا تھا ۔لہذا اس اثر میں مقتدین حضرات کے لئے دور دور تک کوئی دلیل نہیں ہے۔
رہا امام اور منفرد کی صورت میں اس پر عمل کرنا تو زیادہ سے زیادہ اسے کبھی کبھار کے لئے جائز قرار دیا جا سکتا لیکن اسے مؤکد عمل اور سنت کی حیثیت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اللہ کےنبی ﷺسے فرض میں ایسا کچھ ثابت نہیں ہے۔
دوم: نفل نماز میں قرآنى آیتوں کا جواب صرف امام کے لئے:
نفل نماز میں قرآنى آیتوں کے جواب سے متعلق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کى روایت ہے۔ فرماتے ہیں:
"صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ذَاتَ لَيْلَةٍ. فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ. فَقُلْتُ: يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ. ثُمَّ مَضَى. فَقُلْتُ: يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ. فَمَضَى. فَقُلْتُ: يَرْكَعُ بِهَا. ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا. ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا. يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا. إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ. وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ. وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ" ([4]).
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھى۔ آپ ﷺنے سورۃ بقرہ شروع کردى ۔میں نے دل میں کہا: شاید آپ ﷺ سو (100) آیتوں کے بعدرکوع کریں گے۔لیکن آپ ﷺ پڑھتے رہے۔ میں نے دل میں کہا: شاید آپ ﷺایک رکعت میں پورى سورہ بقرہ پڑھیں گے۔لیکن آپ ﷺ آگے بڑھ گئے۔ میں نے دل میں کہا: شاید آپ ﷺ رکوع کریں گے۔ لیکن آپ ﷺ نے سورۃ نساء کى تلاوت شروع کردى۔ اور اسے پورى ختم کردیا۔ پھر سورہ آل عمران کى تلاوت فرمائى۔ اسے بھى ختم کردیا۔ آپ ﷺ ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے۔ جب آپ ﷺکا گزر تسبیح والى آیتوں سے ہوتا تو آپ تسبیح بیان فرماتے۔ جب دعا والى آیت سے گزرتے تو دعا فرماتے۔ جب پناہ والى آیت سے گزرتے تو اللہ کى پناہ طلب فرماتے۔
اس حدیث میں واضح طور سے حضرت حذیفہ رضى اللہ فرماتے ہیں کہ یہ رات کى نماز تھى۔ اور حضرت حذیفہ تنہا تھے۔ یقینا یہ رات کى نفل نماز تھى۔ اس حدیث کى بنا پر نفل نمازوں میں صرف امام کے لئے قرآنى آیتوں کے جواب کا ثبوت ملتا ہے۔لیکن فرض نمازوں میں یہ ثبوت نہیں ملتا۔ اگر فرض نماز میں یہ چیز مشروع ہوتى تو آپ ﷺکے کسى صحابى سے منقول ہوتا۔کیونکہ فرض نمازوں میں ظاہر بات ہے صحابہ کرام کى تعداد نفل نماز سے زیادہ ہوتى تھى۔لہذا نفل نمازوں میں صرف امام اگر قرآنى آیتوں کا جواب دے تو صحیح ہے۔ مگر مقتدى کے لئے ایسا کرنا کسى بھى روایت سے ثابت نہیں۔
مشہور فقیہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَيُسْتَحَبُّ لِلْمُصَلِّي نَافِلَةً إذَا مَرَّتْ بِهِ آيَةُ رَحْمَةٍ أَنْ يَسْأَلَهَا، أَوْ آيَةُ عَذَابٍ أَنْ يَسْتَعِيذَ مِنْهَا... إلى أن قال: وَلَا يُسْتَحَبُّ ذَلِكَ فِي الْفَرِيضَةِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُنْقَلْ عَنْ النَّبِيِّ فِي فَرِيضَةٍ، مَعَ كَثْرَةِ مَنْ وَصَفَ قِرَاءَتَهُ فِيهَا. ([5]).
ترجمہ: نفل نماز پڑھنے والے کے لئے مستحب ہے کہ جب رحمت والى آیتوں سے گزرے تو اللہ سے رحمت طلب کرے۔ یا عذاب والى آیتوں سے گزرے تو عذاب سے پناہ مانگے۔.... لیکن فرض نماز میں یہ مستحب نہیں ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ سے فرض نمازمیں ایسا منقول نہیں ہے۔جب کہ فرض نماز میں آپ ﷺکى قراءت کا وصف بہت سارے صحابہ نے بیان فرمایا ہے۔
سوم: نماز میں مقتدى کے لئے قرآنى آیات کا جواب دینے کا حکم:
مقتدى کے لئے نماز میں سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہنے کے علاوہ نمازمیں کسى بھى آیت کا جواب دینا نہ اللہ کے نبى ﷺ سے ثابت ہے۔ نہ صحابہ کرام سے نہ تابعین میں سے کسى سے۔لہذا آج کا بعض مساجد میں مقتدى کا قرآنى آیتوں کا جواب دینا سنت رسول کے خلاف عمل ہے۔ اور یہ بدعت شمار ہوگا۔ اس عمل کى تائید کسى حدیث سے ثابت نہیں۔ ([6])
واللہ اعلم

