سوال
وہ سونا جو وقتی طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس میں سے کچھ میں خود پہنتی ہوں اور بعض اوقات ضرورت پڑنے پر بیچ دیتی ہوں، پھر بعد میں مزید سونا خرید لیتی ہوں، تقریباً چار سال گزر چکے ہیں اور میں نے اس کی زکوٰۃ نہیں دی، مجھے زکوٰۃ کا کیا کرنا چاہیے؟ پچھلے سالوں کے لئے؟
جواب
جواب مختصر
زیورات سونے کے ہوں یا چاندی کے استعمال کئے جا رہے ہوں یا گھر یا بنک کے لاکر میں رکھے ہوں جو زیورات آپ کی ملکیت میں ہوں ، اگر نصاب ( ساڑھے سات تولا سونا اور ساڑھے باون تولا چاندی ) کو پہنچ رہے ہوں اور ان پر سال بھر گزر رہا ہو تو ان پر بھی ڈھائی پرسنٹ زکاۃ دینا ضروری ہے ۔ جو بھی شخص اپنے سونے کی زکات ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے لئےآگ کی تختیاں بنائی جائیں گی، جس سے اسے داغا جائے گا۔
اور اگر آپ سال بھر گزرنے سے پہلے اس میں سے اتنا بیچ دیتے ہیں کی وہ زیور (سونا یا چاندی) زکاۃ کے نصاب کو نہیں رہ جاتا تو اس میں زکاۃ نہیں اور اگر اتنا بچ جاتا ہے جتنے سے زکوۃ واجب ہوتی ہو تو اتنے میں ازکوۃ ادا کرنا واجب ہے ۔
آپ نے پچھلے 4 سالوں سے جن زیورات کا زکاۃ نہیں ادا کیا ہے ، اس مال یا زیور کی زکاۃ ادا کرنی آپ کے اوپر واجب ہے ، اس لئے کہ زکاۃ ایسی عبادت نہیں جو وقت گزرنے سے ساقط ہو جائے یا اس کا حکم بدل جائے بلکہ جیسے وقت گزرنے سے قرض معاف نہیں ہوتا ایسے ہی زکاۃ بھی معاف نہیں ہوتا ، اس لئے اس کی ادائیگی ضروری ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اگر سونا نصاب کو پہونچ جاتا ہے اور ایک سال گزر جاتا ہے تو اس پر زکات واجب ہے۔ اور اگر آپ کسی ضرورت کی وجہ سے سال پورا ہونے سے پہلے اس میں سے کچھ سونا بیچ دیتی ہیں تو اس میں زکات واجب نہیں ہوگی کیونکہ اس سونے پر سال پورا نہیں ہوا ہے۔
زیورات میں زکات کے سلسلے میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے لیکن صحیح قول کے مطابق سونے اور چاندی کے زیورات میں بھی زکات واجب ہے۔ دلائل کا عموم اسى بات پر دلالت کرتا ہے، اس سلسلے میں دلیلیں مندرجہ ذیل ہیں:
1- اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَٱلَّذِينَ يَكۡنِزُونَ ٱلذَّهَبَ وَٱلۡفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَبَشِّرۡهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٖ " التَّوۡبَة : 34
ترجمہ: اور جو لوگ سونا چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" والآية عامة في جميع الذهب والفضة، ولم تخصص شيئاً دون شيء، فمن ادعى خروج الحلي المباح من هذا العموم فعليه الدليل". ([1]).
ترجمہ: یہ آیت سونے اور چاندی کے سلسلے میں عام ہے، اور کسی کو کسی پر خاص نہیں کرتی ہے۔ تو جو شخص جائز زیورات کو اس آیت کے عموم سے خارج ہونے کا دعوٰی کرتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ دلیل پیش کرے۔
2- نبى ﷺ کا ارشاد ہے فِي «الرِّقَةِ رُبْعُ العُشْرِ» ([2]).
ترجمہ: چاندی میں زکات چالیسواں حصہ واجب ہوگی۔
3- ایک اور حدیث میں نبى ﷺ فرماتے ہیں: «لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ» ([3]).
ترجمہ:پانچ اوقیہ سے کم (چاندی )میں زکات نہیں ہے۔
دونوں روایتوں کا عموم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہر طرح کی چاندی پر زکات ہے وہ چاہے جس شکل میں ہو۔
اس سلسلے میں ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (فِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ)، (لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنْ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ ) وَكَانَ الْحُلِيُّ وَرِقًا، وَجَبَ فِيهِ حَقُّ الزَّكَاةِ لِعُمُومِ هَذَيْنِ الْأَثَرَيْنِ الصَّحِيحَيْنِ" ([4]).
" جب نبی ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ چاندی میں ربع عشر زکات ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکات نہیں ہے، اور زیور بھی چاندی ہے تو اس میں زکات واجب ہے، ان دونوں صحیح احادیث کی وجہ سے"۔
مزید فرماتے ہیں:
" وَأَمَّا الذَّهَبُ فَقَدْ صَحَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ : ( مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ لَا يُؤَدِّي مَا فِيهَا إلَّا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ يُكْوَى بِهَا..) فَوَجَبَتْ الزَّكَاةُ فِي كُلِّ ذَهَبٍ بِهَذَا النَّصِّ... فَلَمْ يَجُزْ تَخْصِيصُ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ بِغَيْرِ نَصٍّ وَلَا إجْمَاعٍ"([5])
" رہی بات سونے کی تو نبی ﷺ سے بسند صحیح مروی ہے کہ: جو بھی شخص اپنے سونے کی زکات ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے لئےآگ کی تختیاں بنائی جائیں گی، جس سے اسے داغا جائے گا۔
اس نص کے ذریعے ہر سونے میں زکات واجب ہوجاتی ہے--- تو بغیر کسی نص اور اجماع کے اس میں کسی چیز کی تخصیص کرنا جائز نہیں ہے۔
4- اسی طرح کچھ خاص حدیثیں بھی ہیں جو زیور میں زکات کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں۔ جیسے کہ ابو داود کی ایک حدیث میں ہے :
«أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا، وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا: أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟ قَالَتْ: لا .قَالَ: أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا، فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ» ([6]).
ترجمہ: " ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں ۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے ۔ آپ ﷺ نے اس خاتون سے پوچھا ” کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو ؟ “ اس نے کہا ، نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تمہیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ “ چنانچہ اس عورت نے ان کو اتارا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ڈال دیا اور کہنے لگی ، یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زیور میں بھی زکات واجب ہے۔
شیخ محمد امین الشنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وإخراج زكاة الحلي أحوط"کہ زیور میں زکات نکالنا احتیاط کے زیادہ قریب ہے۔ ([7]).
ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"أجمع العلماءُ أنَّ للرجُل قبل حلولِ الحول التصرُّفَ في مالِه بالبيع، والهِبة، والذَّبح، إذا لم ينوِ الفرارَ من الصَّدقة" ([8]).
" اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ آدمی کو سال پورا ہونے سے پہلے اپنے مال میں تصرف کا حق حاصل ہے۔ بیع، ہبہ اور ذبح جو بھی کرنا چاہے۔ ہاں اس کا ارادہ زکات سے چھٹکارا پانے کا نہ ہو۔"
اور اگر آپ بنا کسی ضرورت کے بیچتے ہیں اور اس کی رقم آپ کے پاس محفوظ رہتی ہے اور پھر اسی رقم سے دوبارہ سونا خریدتے ہیں تو اس صورت میں زکات واجب ہوگی۔ اور اگر وہ رقم خرچ ہو جاتی ہے پھر کسی دوسرے ذرائع سے دوسری رقم ملتی ہے اور وہ رقم بذات خود نصاب کو نہیں پہونچتی ہے تو اس پر زکات نہیں ہے۔ بلکہ دونوں کا الگ الگ حساب ہوگا ۔
واللہ اعلم

