سوال
بینک میں نوکرى کرنا کیسا ہے؟
جواب
جواب مختصر
اگر بینک غیر سودى ہو تو اس میں ملازمت جائز ہے، لیکن اگر بینک یا کوئی ادارہ سودی ہے جیسے) LIC, Baja )ا کوئی اور سودی کمپنی میں کسى بھى طرح ملازمت جائز نہیں۔چاہے کام کتنا بھی چھوٹا ہو یا بڑ ا جیسے ڈرائیورنگ ، چوکیداری یا کوئی اور چھوٹا بڑا عہدہ سب حرام ہیں ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اگر بینک سودى ہو تو اس میں کسى بھى طرح کى ملازمت بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ اس میں سودى لین دین ہوتا ہے۔ اگرچہ کسى شخص کے كام يا ملازمت كا تعلق سود سے وابستہ اور ملا ہوا نہ بھى ہو، مثلا پہريدارى، يا صفائى اور خدمت وغيرہ۔اس لحاظ سے سودى بینک میں کسى بھى طرح کا کام برائى کے تعاون میں شامل ہے۔ فرمان الہی ہے: وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ علی ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚـ المَائـِدَة : 2
ترجمہ: "نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اور گناہ و زیادتی میں کسی کا بھی ساتھ نہ دو"۔
رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد مبارک ہے۔
«لَعَنَ رَسولُ اللهِ ﷺ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقالَ: هُمْ سَوَاءٌ »([1])۔
ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور یہ فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔
نیز كبار اہل علم نے سودى بنكوں ميں ملازمت كى حرمت كا فتوى دیا ہے۔ اس سلسلے میں اہل علم کے بے شمار فتاوے موجود ہیں۔ ذیل میں ہم صرف دو فتووں کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ ایک سعودى عرب کى کبار علماء کى مستقل فتوى کمیٹى کا۔ دوسرے سعودى عرب کے مشہور ومقبول سلفى عالم شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا۔
فتوى نمبر 1: سعودى عرب کے کبار علماء کى مستقل فتوى کمیٹى کا فتوى ہے كہ:
" كسى بھى مسلمان شخص كے ليے سودى لين دين كرنے والے بنك ميں كام اورملازمت كرنا جائز نہيں، اگرچہ اس كے ذمہ لگايا گيا كام سودى نہ بھى ہو؛ اس ليے كہ اس سے وہاں سودى لين دين كرنے والے ملازمين كى ضروريات پورى ہوتى ہيں اور وہ اپنے سودى كاروبار ميں اس سے مدد اور تعاون ليتے ہيں.
حالانكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
"وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ " المَائـِدَة : 2
اور تم گناہ اور ظلم و زيادتى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون نہ كرو۔ ([2])۔
فتوى نمبر 2: شيخ ابن عثیمين رحمہ اللہ تعالى سے سوال كيا گيا كہ:
كيا سودى ادارے اور ايجنسى ميں ڈرائيور يا چوكيدارى كى ملازمت كرنا جائز ہے؟
تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:
سودى اداروں اورايجنسيوں ميں ملازمت اور كام كرنا جائز نہيں انسان چاہے ڈرائيور يا چوكيدار ہى كيوں نہ ہو، يہ اس ليے كہ اس كا سودى اداروں ميں ملازمت كرنے سے اس كى رضامندى لازم آتى ہے، كيونكہ جو كسى چيز كو ناپسند كرتا ہو وہ اس ناپسند كردہ چيز كى مصلحت كے ليے كام نہيں كرتا، لہذا جب وہ اس كى مصلحت كے ليے كام كرے گا تو پھر وہ اس سے راضى سمجھا جائے گا، اور كسى حرام چيز پر رضامند ہونے والا شخص اس كا گناہ پاتا ہے، ليكن جو شخص بلا واسطہ خود ہى لكھے اور اسے احاطہ قيد ميں لائے اور روانہ اور وصول كرے يا اس طرح كے اور كام كرے تو بلاشك يہ حرام كو ڈائريكٹ اور سيدھا مددہے۔
اور حديث سے ثابت ہے كہ جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود كھانے اور كھلانے اور اس كے دونوں گواہوں اور اس كے لكھنے والے پر لعنت فرمائى اور فرمايا: وہ سب برابر ہيں۔ ([3])۔
معلوم ہوا کہ سودى بینکوں یا کسی بھی سودی ادارے (LIC , Bajaj) یا کوئی اور سودی کمپنی میں کسى بھى طرح ملازمت جائز نہیں۔
واللہ اعلم

