سوال
الکحل والے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے استعمال کرسکتے ہیں؟ کیا اسے لگا کر نماز ہوجائے گى؟
جواب
جواب مختصر
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
الکحل والے عطر کے مسئلہ کو اچھى طرح سمجھنے کے لئے سب سے پہلے چند باتیں جاننا ضرورى ہیں۔ مثلاً:
- الکحل کسے کہتے ہیں؟
- کیا الکحل پرفیوم نشہ آور ہیں؟ اگر ہیں تو کیا اس کا حکم شراب کا حکم ہوگا؟
- کیا شراب مکمل ناپاک (نجس عین) ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں: عطر میں استعمال ہونے والے الکحل کا کیا حکم ہے؟
- کیا الکحل شراب پینے کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟
اب ان مسائل کو
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
سے جانتے ہیں:
الکحل کسے کہتے ہیں؟
عربى ماہرین لغت کے نزدیک الکحل انگریزى لفظ (ALCOHOL) کا ترجمہ ہے۔ اور انگریزى لفظ در اصل عربى زبان کى لفظ (غول) سے لیا گیا ہے، جس کے معنى ہیں: نشہ کى وجہ سے ہونے والا سر درد اور بہکا پن۔ ([1])
الکحل سے بنے ہوئے پرفیوم کى ایک قسم "کولون" ہے، اسے مختلف کیمیائی مرکبات سے بنایا جاتا ہے۔ جن میں بنیادى طور سے الکحل شامل ہوتا ہے۔ ([2])
الکحل کی سب سے مشہور دو قسمیں ہیں:
1) ایتھل الکحل (ایتھنول): یہ ایک بے رنگ، مائع مادہ ہوتا ہے۔ یہ نشہ آور ہوتا ہے۔ پرفیوم بنانے میں ۹۰% فیصد یا بڑے پیمانے پر یہى استعمال ہوتا ہے۔ یہ الکحل مشروبات میں بھى پایا جاتا ہے۔ ([3])
2) میتھائل الکحل (میتھانول): یہ ایک زہریلا مائع مادہ ہوتا ہے۔ یہ بھى نشہ آور ہوتا ہے۔ عموماً یہ زہر اور کیڑے مار ادویات کى ترکیب میں استعمال ہوتا ہے، چونکہ یہ زہریلا ہوتا ہے اس لئے اسے بطور مشروب استعمال نہیں کیا جاتا۔ اسے پینے سے موت واقع ہو سکتى ہے۔ ([4])
کیا الکحل پرفیوم نشہ آور ہیں؟ اگر ہیں تو کیا اس کا حکم شراب کا حکم ہوگا؟
دونوں طرح کے الکحل (ایتھنول اور میتھنول) نشہ آور ہوتے ہیں۔ عموماً پرفیوم میں ایتھنول الکحل استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بہت نشہ آور ہوتا ہے۔ اس کى تھوڑى سى مقدار مثلاً (۲-۵%) بھى نشہ آور ہوتى ہے۔ بیئر میں اس کى مقدار (۲-۵%) ہى ہوتى ہے۔
ڈاکٹر اسماعیل سبحانى حفیظ نے کہا: "جدید طب میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایتھنول الکوحل اپنی تمام شکلوں میں شراب کا فعال حصہ ہے، ہر وہ مشروب جس میں ایتھنول الکوحل، یا میتھنول الکوحل ہو وہ نشہ آور ہوتا ہے۔ نشہ کى مقدار الگ ہو سکتى ہے۔ کچھ میں 60% ہوتا ہے، اور کچھ میں 4% ہوتا ہے، اس لیے یہ سب نشہ آور مادے ہیں۔" ([5])
مذکورہ تفصیل سے یہ ثابت ہوا کہ الکحل کى دونوں قسمیں نشہ آور ہوتى ہیں۔ اس لئے شرعى اعتبار سے اس کا حکم شراب (خمر) کا ہوگا۔
جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
«كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ» ([6])
"ہر نشہ آور چیز خمر ہے، اور ہر خمر حرام ہے۔"
ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَالْخَمْرُ الَّتِي حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ بِجَلْدِ شَارِبِهَا: كُلُّ شَرَابٍ مُسْكِرٍ، مِنْ أَيِّ أَصْلٍ كَانَ ... وَقَدْ تَوَاتَرَتْ السُّنَّةُ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَخُلَفَائِهِ الرَّاشِدِينَ وَأَصْحَابِهِ فَإِنَّهُ حَرَّمَ كُلَّ مُسْكِرٍ، وَبَيَّنَ أَنَّهُ خَمْرٌ ([7])
"وہ شراب جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام کیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ اس کے پینے والے کو کوڑے مارے جائیں: ہر نشہ آور مشروب خواہ وہ کسى بھى چیز سے بنایا گیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ کى احادیث اور خلفائے راشدین اور صحابہ کرام سے متواتر روایات سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ہر نشہ آور شیء حرام قرار دى اور اسے خمر بیان کیا۔"
کیا الکحل والے پرفیوم ناپاک (نجس عین) ہیں یا پاک ہیں؟
اس مسئلہ کى بنیاد یہ ہے کہ کیا شراب نجس عین ہے؟ نجس عین کا مطلب یہ ہے کہ شراب کسى بھى طرح استعمال کرنا ناجائز ہوگا۔
اللہ تعالى کا ارشاد ہے:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ [المائدة: 90]
"اے ایمان والو! بے شک شراب، جوا، بت، اور فال کے تیر شیطان کے کاموں میں سے گندگى ہیں، پس ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔"
شیخ الامین الشنقیطى فرماتے ہیں: "کسى چیز سے بچنے کا مطلب ہے اس سے دور رہنا، اس کے دوسرے طرف رہنا۔" ([9])
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے کہ جمہور فقہاء کا خیال ہے کہ شراب کو علاج اور دیگر امور کے لیے استعمال کرنا حرام ہے۔ ([10])
الزہرى کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کو نشہ آور چیزوں سے اپنے بالوں میں کنگھى کرنے سے منع کرتى تھیں۔ ([11])
اس قول کے مطابق الکحل والے پرفیوم ناپاک ہیں۔ متعدد معاصر علماء کى یہى رائے ہے، جن میں سابق مفتى سعودى عرب شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ، شیخ محمد بن الأمین الشنقیطى اور شیخ صالح الفوزان شامل ہیں۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ بھى اسى طرف مائل ہیں۔ آپ سے الکحل والے پرفیوم سے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس طرح کے پرفیوم لگانے سے نماز کا درست ہونا مشکوک ہے۔ اس لئے کہ جمہور علماء شراب کى نجاست کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جان بوجھ کر ناپاک کپڑوں میں نماز ادا کرنے سے نماز باطل ہوجاتى ہے۔ البتہ بعض اہل علم شراب کى نجاست کے قائل نہیں۔ لیکن علماء کے اختلاف سے بچنے کے لئے احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ بدن میں یا کپڑے میں شراب لگ جائے تو اسے دھو لیا جائے۔
ایک دوسرے فتوى میں شیخ ابن باز الکحل کے عطر کے استعمال کى اجازت نہیں دیتے۔ فرماتے ہیں: "الکحل والے عطر کا استعمال جائز نہیں۔ کیونکہ تجربہ کار ڈاکٹروں کے مطابق وہ نشہ آور ہیں، ان میں معروف مادہ اسپریتو ہوتا ہے، اور اسى وجہ سے مردوں اور عورتوں کے لیے ان کا استعمال حرام ہے... اگر کوئى ایسى قسم کا کولون ہو جو نشہ آور نہ ہو تو اس کا استعمال حرام نہیں ہے، کیونکہ حکم اس کے موجود ہونے یا نہ ہونے پر منحصر ہے۔" ([12])
بعض دوسرے علماء کا خیال ہے کہ شراب نجس عین نہیں ہے۔ صرف اسے پینا حرام ہے، باقى کسى چیز کے لیے حرام نہیں۔ ان کى دلائل میں یہ بھى ہے کہ جب شراب حرام ہوئى تو حضرت انس رضى اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنت ساقي القوم في منزل أبي طلحة فأمر رسول الله ﷺ مناديا ينادي: ألا إن الخمر قد حرمت، قال: فقال أبو طلحة: اخرج فأرقها، فخرجت فهرقتها، فجرت في سكك المدينة ([13])
حضرت انس رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ابو طلحہ کے گھر میں لوگوں کا ساقى تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے ایک پکارنے والے کو حکم دیا کہ وہ پکارے: بے شک شراب حرام ہو چکى ہے! ابو طلحہ رضى اللہ عنہ نے کہا: باہر جاؤ اور اسے بہا دو، چنانچہ میں نے نکل کر اسے بہا دیا، اور شراب مدینہ کى گلیوں میں بہنے لگى۔
اس سے پتہ چلا کہ اگر شراب نجس یا ناپاک ہوتى تو صحابہ کرام اسے مدینہ کى سڑکوں پر نہ پھینکتے۔ اور رسول اللہ ﷺ انہیں راستوں میں پھینکنے سے منع فرماتے۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں منع نہیں کیا۔
کچھ ایسے پرفیوم ہیں جن میں صرف تھوڑى مقدار میں میتھنول الکحل ہوتى ہے۔ یہ مقدار بے ضرر ہوتى ہے، تو ایسى صورت میں اسے استعمال کرنے میں کوئى حرج نہیں ہے، کیونکہ میتھائل الکوحل کسى چیز سے مل جانے پر اپنى ماہیت بدل لیتا ہے، نشہ کى خاصیت کھو دیتا ہے۔ لیکن اگر اس کى مقدار (5%) سے زیادہ ہوجائے تو یہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ([14])
خلاصہ:
الکحل والے پرفیوم نشہ آور ہوتے ہیں۔ یہ شراب کے حکم میں ہیں۔ اور شراب کے نجس عین ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے۔ بہر حال علماء کے فتاوى کى روشنى میں احتیاط کا تقاضہ ہے کہ الکحل والے پرفیوم استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے۔
واللہ اعلم

