سوال
بغیر الکحول والى بئیر پینے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
کوئى بھى ڈرنک (مشروب) اگر نشہ آور نہ ہو، یا نشہ آور مادہ سے بنى ہوئى نہ ہوتو اس کا استعمال کرنا اور بیچنا جائز ہوگا۔ در اصل شریعت میں نشہ ممانعت کا سبب ہے۔ اگر نشہ ہو تو کوئى بھى مشروب حرام ہوگى ورنہ نہیں۔
البتہ نشہ سے خالی بیئر پیتے وقت چند باتوں کا خیال رکھنا انتہائى ضرورى ہے۔
- چونکہ بیئر کى بوتل، اس کى پیکنگ، اس کا رنگ اور نام بالکل نشہ آور شراب جیسا ہوتا ہےاس لئے شراب کى دوکان سے خریدنے اور پینے سے مسلمان کو شراب پینے سے متہم کیا جاسکتا ہے اور یہ اس کى بدنامى کا سبب بن سکتا ہے،اس لئے اپنى عزت وآبرو برقرار رکھنے کے لئے بہتر ہے کہ مسلمان اسے نہ پیئں۔
- اسی طرح بیئر پینے کا طریقہ، اس کو بوتل سےانڈیلنا بالکل شراب جیسا ہوتا ہے۔ یہ طریقہ شراب پینے والوں کے طریقوں اور اسلوب زندگى کے مشابہ ہوجاتا ہے۔ اس سے کفار کے طرز زندگى سے محبت ہوسکتى ہے۔ یہ چیز اسے ان کے اعمال کى مشابہت پر ابھارسکتى ہے۔ اس لئے اس سے دور رہنا ہى بہتر ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
جمہور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر نشہ آور چیز خمر ہے۔ چاہے وہ مشروب کى شکل میں ہو یا گولى یا پاوڈر یا کسی اور شکل میں ہو۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
"كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ " ([1]).
ترجمہ: (ہر نشہ آور چیز) خمر ہے، اور ہر خمر حرام ہے) ۔
یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ایک ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ "خمر" کے نام میں ہر نشہ آور مشروب شامل ہے، خواہ وہ پھلوں سے بنایا گیا ہو، یا اناج سے یا کیمیکل سے۔
مذکورہ حدیث اس بات پر دلالت کرتى ہے کہ کوئى بھى ڈرنک (مشروب) اگر نشہ آور نہ ہو، یا نشہ آور مادہ سے بنى ہوئى نہ ہوتو اس کا استعمال کرنا اور بیچنا جائز ہوگا۔ در اصل شریعت میں نشہ ممانعت کا سبب ہے۔ اگر نشہ ہو تو کوئى بھى مشروب حرام ہوگى ورنہ نہیں۔
بطور مثال انگور کا جوس: اگر اس سے نشہ ختم ہوجائےتو اس کا پینا جائز ہوگا، جيسے شراب سے سرکہ بن جائے۔ لیکن اگر اس میں نشہ آجائے تو اس کا پینا اور بیچنا ناجائز ہوگا۔
امام نوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"(فقہاء) اس بات پر متفق ہیں کہ اگر شراب خود ہی سرکہ میں بدل جائے تو وہ پاک ہو جاتی ہے" ([2])۔
یہى بات مشہور فقیہ امام خرشى نے بھى فرمائى ہے، وه کہتے ہیں:
" اگر شراب بہتے مادے سے ٹھوس میں بدل جائے، یا نشہ سے سرکہ میں بدل جائے تو وہ پاک ہوجاتى ہے۔ناپاک ہونا یا پاک ہونا اس کا حکم اس کے سبب کے وجود و عدم وجود پر ہوگا ۔" ([3])۔
پتہ چلا کہ بیئر اگر نشہ سے خالى ہو تو اس کا پینا جائز ہوگا۔ اور اگر نشہ آور ہو تو ناجائز ہوگا۔
البتہ نشہ سے خالی بیئر پیتے وقت چند باتوں کا خیال رکھنا انتہائى ضرورى ہے۔
1- چونکہ بیئر کى بوتل، اس کى پیکنگ، اس کا رنگ اور نام بالکل نشہ آور شراب جیسا ہوتا ہےاس لئے شراب کى دوکان سے خریدنے اور پینے سے مسلمان کو شراب پینے سے متہم کیا جاسکتا ہے اور یہ اس کى بدنامى کا سبب بن سکتا ہے،اس لئے اپنى عزت وآبرو برقرار رکھنے کے لئے بہتر ہے کہ مسلمان اسے نہ پیئں۔
2- بیئر پینے کا طریقہ، اس سے بوتل سےانڈیلنا بالکل شراب جیسا ہوتا ہے۔ یہ طریقہ شرابیوں کے طریقوں اور اسلوب زندگى کے مشابہ ہوجاتا ہے۔ اس سے کفار کے طرز زندگى سے محبت ہوسکتى ہے۔ یہ چیز اسے ان کے اعمال کى مشابہت پر ابھارسکتى ہے۔ اس لئے اس سے دور رہنا ہى بہتر ہے۔
اس سلسلے میں رسول اکرم ﷺ کا بتایا ہوا یہ اصول ایک مسلمان کو ہمیشہ ذہن نشین رکھنا چاہیئے :
"فَمَنِ اتَّقَى المُشَبَّهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وعِرْضِهِ"([4])۔
" جو شخص مشتبہ امور سے اجتناب کرتا ہے وہ اپنے دین اور عزت کے بارے میں اپنے آپ کو صاف کرتا ہے۔"
مذکورہ امور کے پیش نظر اگر چہ نشہ سے پاک بیئر پینا جائز ہے؛ ليكن اگر کسى کونشہ سے پاک بیئر پینا ہى ہو تو خود گھر میں بناکر پى لے، باہر سے نہ خریدے۔ واللہ اعلم
واللہ اعلم

