سوال
امام تشہد اول بھول جائے تو کیا نماز دہرانى ہوگى یا سجدہ سہو کافى ہوگا؟
جواب
جواب مختصر
تشہد اول نماز کے واجبات میں سے ہے نا کہ رکنِ صلاۃ جس سے نماز باطل ہو جائے اور نماز لوٹانی پڑے ، اس لئے تشہد کے چھوٹ جانے سے سجدہ سہو کافی ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
پہلا تشہد نماز کے واجبات میں سے ہے اگر چھوٹ جائے تو سجدہ سہو لازم آتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن بُحینہ رضى اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ سَلَّمَ»([1]).
ترجمہ: رسول اللہ ﷺنے کسى نماز کى دو رکعت پڑھائى۔پھر کھڑے ہوگئے اور تشہد میں نہیں بیٹھے۔ لوگ بھى آپ ﷺکے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جب آپ ﷺنے نماز پوری کی تو آپ ﷺنے بیٹھے بیٹھے ہی سلام سے پہلے دو سجدے کئے،پھر سلام پھیرا۔
اس حدیث سے پتہ چلا کہ تشہد واجب ہے، اگر تشہد واجب نہ ہوتا بلکہ رکن ہوتا تو رسول اللہ ﷺنماز دہراتے،لیکن آپ نے سلام سے پہلے صرف دو سجدوں پر اکتفاء کیا۔ یاد رہے تشہد ثانی رکن صلاۃ ہے اس کے چھوٹنے سے نماز دُہرانی پڑے گی ۔
واللہ اعلم

