سوال
لڑکی کی شادی ہوئی، کچھ مہینے شوہر ساتھ میں تھا، پھر وہ سعودی چلا گیا، لڑکی سسرال میں رہی، پھر کچھ دنوں بعد کسی تنازعہ کی وجہ سے میکے چلی گئی، میکے میں کچھ دن رہنے کے بعد تنازعہ بڑھا اور لڑکی نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔یہ جھگڑا تین سال تک چلتا رہا ، اب لڑکا طلاق دینے کے لیے تیار ہے۔لیکن لڑکی کے گھر والے تین سال کے نفقے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیا ان کا یہ مطالبہ درست ہے؟
جواب
جواب مختصر
یاد رہے کہ تنازع کے بعد بیوی کے میکےچلی جانے کی صورت میں شوہر کے اوپر سے نفقہ کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے، اہلِ علم کے اقوال کی روشنی میں لڑکی کے گھر والوں کا تین سال کے نفقہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔
ہاں اگر لڑکا اسے طلاق دے دیتا ہے تو اس پر عدت کے دوران کا نفقہ واجب ہے، اگر لڑکی گھر واپس آنے کے لئے تیار ہوجائے، اور اگر وہ اپنی نافرمانی سےباز نہیں آتی ہے اورگھر بھی واپس نہیں لوٹنا چاہتی ہےتو لڑکے پر طلاق کے بعد بھی کوئی نفقہ نہیں ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
اہل علم کے یہاں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ شوہر پر بیوی کا نفقہ اور اسکی تمام ضروریات (کھانے، پینے، پہننے اور رہنے) کا انتظام کرنا حسب استطاعت بغیر کسی اسراف اور بخل کے واجب ہے۔ اور یہ نفقہ جماع اور اسباب جماع کے بدلے میں ہوتا ہے۔ اور علمائے کرام نے نفقہ کے وجوب پر کتاب وسنت کی نصوص سے استدلال کیا ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
" لِيُنفِقۡ ذُو سَعَة مِّن سَعَتِهِۦۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهُۥ فَلۡيُنفِقۡ مِمَّآ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُۚ لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا مَآ ءَاتَىٰهَاۚ سَيَجۡعَلُ ٱللَّهُ بَعۡدَ عُسۡرٖ يُسۡرٗا " الطَّلَاق :7
ترجمہ: "صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے اور جو تنگ دست ہوتوجوکچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اس کواسی میں خرچ کرنا چاہیے اللہ نے جتنا کچھ کسی کودی ہے اس سے زیادہ کی اسے تکلیف نہیں دیتا اللہ تعالیٰ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا کرتا ہے۔ "
مفسرین کے مطابق اللہ تعالى کے ارشاد " لِيُنفِقۡ ذُو سَعَة مِّن سَعَتِهِ " سے پتہ چلتا ہے کہ شوہر کی طاقت کے بقدر بیوی کى ضروریات پر خرچ کرنا واجب ہے۔ ([1])۔
اسی طرح اللہ تعالٰی قرآن مجید میں ایک اور جگہ شوہر پر بیوى کے اخراجات اور دوسرى ضروریات کو پورى کرنے سے متعلق ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
" أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ" الطَّلَاق : 6
ترجمہ: " تم ان مطلقہ عورتوں کو (زمانہ عدت میں) اپنی بساط کے مطابق اسی جگہ رکھو جہاں تم خود رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ دو۔ "
مفسرین کے مطابق اس آیت میں عورت کو سکونت دینے کا امر اس کو نفقہ دینے کے امر پر دلالت کرتا ہے۔ ([2])۔
نبى ﷺ نے احادیث مبارکہ میں بھى شوہر کو بیوى کے نفقہ کا ذمہ دار بتایا ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حج کی طویل حدیث جس میں عورتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی ﷺ نے فرمایا: «ولهُنَّ عليكم رِزقُهنَّ وكِسوَتُهنَّ بالمعروفِ»([3])۔
ترجمہ: "اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ ان کی روٹی اور ان کا کپڑا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے۔
محدثین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بیویوں کے نفقہ کے وجوب میں نص ہے۔ ([4])۔
اسی طرح اہل علم نے بیوی کے نفقہ کے وجوب پر اجماع نقل کیا ہے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"يجب على الرجل أن ينفق على ولده، وبهائمه، وزوجته بإجماع المسلمين"([5])
ترجمہ: "یعنی آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنی اولاد، چوپائے اور بیوی پر خرچ کرے۔ اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے "۔
مذکورہ دلائل کى روشنى میں شوہر پر بیوی کا نان ونفقہ واجب ہے، البتہ اگر میاں بیوی کے درمیان نااتفاقی کی وجہ سے جھگڑا ہوجائے اور بیوی بغیر شوہر کی اجازت کے اپنے میکے چلی جائے تو ایسی صورت میں نفقہ ساقط ہوجاتا ہے۔ امام قرطبى رحمۃ اللہ علیہ مشہور فقیہ امام ابن المنذر سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
" اتفق أهل العلم على وجوب نفقات الزوجات على أزواجهن إذا كانوا جميعًا بالغين إلا الناشز منهن الممتنعة" ([6])۔
ترجمہ: " اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شوہروں پر بیویوں کا نفقہ واجب ہے جب کہ وہ دونوں بالغ ہوں، سوائے ان بیویوں کے جو نافرمان ہوں۔"
مشہور فقیہ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"فمتى امتنعت من فراشه، أو خرجت من منزله بغير إذنه، أو امتنعت من الانتقال معه إلى مسكن مثلها، أو من السفر معه، فلا نفقة لها ولا سكنى، في قول عامة أهل العلم" ([7])۔
ترجمہ: جب بیوی ہمبستری سے اعراض کرے ، یا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے چلی جائے ، یا اسکے ساتھ کسی دوسرے گھر میں منتقل ہونے یا باہر سفر کرنے سے منع کرے، تو عام اہل علم کے قول کے مطابق نہ اسے نفقہ دیا جائے گا اور نہ ہی سکنی (گھر)۔
علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"فإذا نشزت وأصبحت تخرج بدون إذنه، فحينئذ يسقط حقها في النفقة؛ لأن له عليها حتى السمع والطاعة بالمعروف، كما قال تعالى: " ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ" النِّسَاء : 34 وقد أجمع العلماء رحمهم الله على أن المرأة إذا نشزت سقط حقها في النفقة، إلا خلافاً شاذاً لبعض العلماء فقال: لها النفقة، وهو قول الحكم، لكن الصحيح هو ما ذهب إليه جماهير السلف والخلف رحمهم الله من أن النشوز يوجب سقوط حق المرأة" ([8])۔
ترجمہ: " جب عورت شوہر کی نافرمانی کرنے لگے اور اسکی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنے لگے تو اس وقت اسکے نفقہ کا حق ساقط ہوجاتا ہے۔ کیونکہ عورت پر شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: " ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ النِّساء 34 مرد عورت پر حاکم ہیں۔اور علمائے کرام رحمہم اللہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورت اگر نافرمانی کرنے لگے تو اسکے نفقہ کا حق ساقط ہوجاتا ہے۔ سوائے بعض علماء کے شاذ قول کے، تو وہ کہتے ہیں کہ اسے نفقہ ملے گا اور یہ حَکم رحمہ اللہ کا قول ہے۔ لیکن صحیح قول وہ ہے جو جماہیر سلف وخلف کا مذہب ہے کہ عورت کی نافرمانی اسکے حق کو ساقط کردیتی ہے۔
لہذا تنازع کے بعد بیوی کے میکےچلی جانے کی صورت میں شوہر کے اوپر سے نفقہ کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔
مذکورہ اقوال کی روشنی میں لڑکی کے گھر والوں کا تین سال کے نفقہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔ اور اگر لڑکا اسے طلاق دے دیتا ہے تو اس پر عدت کے دوران کا نفقہ واجب ہے، اگر لڑکی گھر واپس آنے کے لئے تیار ہوجائے، اور اگر وہ اپنی نافرمانی سےباز نہیں آتی ہے اورگھر بھی واپس نہیں لوٹنا چاہتی ہےتو لڑکے پر طلاق کے بعد بھی کوئی نفقہ نہیں ہے۔
واللہ اعلم

