سوال
لڑکی نے خلع کا مطالبہ کیا لیکن لڑکے نے اس وقت خلع نہیں دیا، کیا خلع ہو گیا؟
جواب
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد
سوال کا جواب دینے سے پہلے ہم خلع کا مفہوم اور اس کا طریقہ بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
خلع کا مفہوم:
خلع یہ عربى زبان کا لفظ ہے جس کے معنى اتارنے کے ہوتے ہیں۔ اس میں بیوى شوہر سے علیحدگى طلب کرتى ہے اور شوہر نکاح کے وقت دیا ہوا مہر یا کچھ اور لے کر بیوى سے الگ ہوجاتا ہے۔
مشہور مصنف علامہ ابن الاثیر رحمۃ اللہ علیہ خلع کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«وأصله من خلع الثوب. والخلع أن يطلق زوجته على عوض تبذله له» ([1])
"اس کے اصلى معنى کپڑا اتارنے کے ہوتے ہیں، اور خلع کہتے ہیں کہ آدمى اپنى بیوى کو اس سے کچھ لے کر طلاق دے دے۔"
شیخ محمد اثیوبى فرماتے ہیں:
«وأما حقيقته الشرعيّة، فهو فراق الرجل امرأته على عوض يحصل له. هكذا قال الحافظ العراقيّ في شرح الترمذيّ، وقال: هو الصواب» ([2])
"خلع کا شرعى مفہوم یہ ہے کہ شوہر اپنى بیوى سے کچھ معاوضہ لے کر جدا ہوجائے۔ جیسا کہ حافظ عراقى نے ترمذى کى شرح میں لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہى بات درست ہے۔"
بیوى کا خلع کا مطالبہ کرنا:
بغیر کسى سبب کے عورت کا خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔ ایسى خواتین کو اللہ کے رسول ﷺ نے منافق کہا ہے۔ حضرت ثوبان رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے:
«الْمُنْتَزِعَاتُ وَالْمُخْتَلِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ» ([3])
"اپنے آپ کو خاوندوں سے چھڑانے والى اور طلاق کا مطالبہ کرنے والى عورتیں منافق ہیں۔"
اسى طرح ثوبان رضى اللہ عنہ کى ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ» ([4])
"جو عورت بغیر کسى وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگتى ہے اس پر جنت کى خوشبو حرام ہے۔"
ہاں اگر کوئى مجبورى یا ضرورت ہو تو عورت خلع لے سکتى ہے۔ نبى ﷺ کے زمانے میں ثابت بن قیس اور ان کى بیوى کے درمیان خلع ہوا تھا۔ ابن عباس رضى اللہ عنہ یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً» ([5])
"ثابت بن قیس رضى اللہ عنہ کى بیوى نبى کریم ﷺ کى خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کى وجہ سے ان سے کوئى شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر (ناشکرى) کو پسند نہیں کرتى۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتى ہو؟ انہوں نے کہا: جى ہاں۔ آنحضرت ﷺ نے (ثابت سے) فرمایا: باغ قبول کرلو اور انہیں طلاق دے دو۔"
خلع اور طلاق میں فرق:
خلع میں بیوى شوہر سے علیحدگى کا مطالبہ کرتى ہے اور مہر یا کوئى چیز شوہر کو ادا کرتى ہے، جبکہ طلاق شوہر کى طرف سے ہوتى ہے۔
طلاق میں عدت کے اندر رجوع کا حق شوہر کو رہتا ہے، جبکہ خلع کے لئے ضروری ہے کہ آدمى بیوى کى طرف سے دئیے گئے مال کو قبول کرکے اسے چھوڑے۔ ایسى صورت میں خاتون کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ اور اگر بغیر مال کے بیوى کو اس کے مطالبہ پر چھوڑتا ہے تو یہ خلع نہیں بلکہ طلاق شمار کى جائے گى۔
سید محمد نذیر حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "خلع کا اختیار شوہر کو ہے، اور بیوى کى رضامندى بھى شرط ہے ... پس جب تک شوہر خلع نہ کرے گا خلع جائز نہ ہوگا، اسى طرح عورت مال دینے پر راضى نہ ہو تو بھى خلع نہیں ہوسکتا۔" ([6])
لہذا جب تک شوہر خلع نہیں دے گا خلع واقع نہیں ہوگا۔
واللہ اعلم

