سوال
میں نے ایک تبلیغی کی ویڈیو دیکھی جو تدفین کے بعد کہہ رہا تھا کہ فرشتے اس کے پاس آئیں گے اور اس سے قبر کے سوالات کریں گے۔ یہ مبلغ اسے گواہی اور جواب سکھاتا ہے،وغیرہ۔ کیا شریعت میں اس کی کوئی بنیاد ہے؟ اس طرح کام کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جواب مختصر
خلاصہ کلام یہ ہے کہ میت کو دفن کے بعد تلقین کرنا نبی ﷺاور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بسند صحیح ثابت نہیں ہے۔ بلکہ ایک موضوع حدیث میں اس کا ذکر ہوا ہے۔ جو اہل شام کی ایک جماعت سے مروی ہے۔ لہذا صحیح بات یہ ہے کہ یہ عمل بدعت ہے، مشروع نہیں ہے۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
تدفین کے بعد میت کو منکر نکیر کے سوالات کے جواب کی تلقین کرنا بدعت ہے ، نبی
ﷺ سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے، اہل علم کی ایک جماعت نے اسے صاف طور سے بدعت کہا ہے۔ یا بالفاظ دیگر اس کے بدعت ہونے کو نصّا بیان کیا ہے۔
عز بن عبد السلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"لم يصح في التلقين شيء وهو بدعة وقوله : « لَقِّنوا موتاكم لا إلهَ إلا اللهُ » محمول على من دنا موته ويئس من حياته". ([1]).
ترجمہ: تلقین کے بارے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے ، لہذا یہ بدعت ہے ، اور نبی ﷺ کا فرمان «لَقِّنوا موتاكم لا إلهَ إلا اللهُ» اپنے موتی کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو،یہ اس شخص پر محمول ہے جس کی موت قریب ہو اور زندگی کی کوئی امید نہ ہو۔
ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
" فأما التلقين بعد الدفن فلم أجد فيه عن أحمد شيئاً ولا أعلم فيه للأئمة قولاً سوى ما رواه الأثرم قال قلت لأبي عبد الله: فهذا الذي يصنعون إذا دفن الميت، يقف الرجل ويقول: يا فلان ابن فلان اذكر ما فارقت عليه شهادة أن لا إله إلا الله؟ فقال: ما رأيت أحداً فعل هذا إلا أهل الشام حين مات أبو المغيرة جاء إنسان فقال ذلك. قال: وكان أبو المغيرة يروي فيه عن أبي بكر بن أبي مريم عن أشياخهم أنهم كانوا يفعلونه ..." ([2]).
ترجمہ: رہی بات دفن کے بعد تلقین کی تو اس بارے میں مجھے امام احمد رحمہ اللہ سے کوئی چیز نہیں ملی ہے، اور نہ ہی میں اس بارے میں ائمہ کا کوئی قول جانتا ہوں سوائے اس کے جسے اثرم نے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ سے کہا: تو یہ چیز کیا ہے جسے وہ میت کو دفن کرنے کے بعد کرتے ہیں، کہ آدمی کھڑا ہوتا ہے، اور کہتا ہے : اے فلاں ابن فلاں اس چیز کو یاد کر جس پر تو جدا ہوا تھا ، لا الہ الا اللہ کی شہادت دو؟ تو انہوں نے فرمایا: کہ میں نے کسی کو یہ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اہل شام کے کہ جب ابو مغیرہ کا انتقال ہوا تو ایک شخص آیا اور اس نے یہ کام کیا، فرماتے ہیں: اور ابو مغیرہ اس بارے میں ابو بکر ابن ابی مریم سے روایت کرتے تھے کہ وہ اپنے مشائخ سے بیان کرتے تھے کہ وہ یہ کام کرتے تھے ..."
علامہ شمس الحق عظیم آبادی فرماتے ہیں:
"والتلقين بعد الموت قد جزم كثير أنه حادث "([3]).
ترجمہ: موت کے بعد تلقین کرنے کو بہت سے لوگوں نے حادث (بدعت)کہا ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ولم يكن يجلس أي رسول الله ﷺ يقرأ عند القبر ولا يلقن الميت كما يفعله الناس اليوم"([4]).
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نہ تو کسی قبر کے پاس بیٹھ کر پڑھتے تھے اور نہ ہی مردے کو تلقین کرتے تھے۔
در اصل مرنے کے بعد مردے کو تلقین کرنے سے متعلق عموماً دو حدیثیں ذکرکرتے ہیں۔ ذیل میں ان دونوں حدیثوں کا ایک مختصر جائزہ چیش کیا جارہا ہے۔
پہلى روایت: سعید اودی سے مروی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:
"دخلت على أبي أمامة الباهلي وهو في النزع فقال لي يا سعيد إذا أنا مت فاصنعوا بي كما أمرنا رسول الله ﷺ أن نصنع بموتانا، فإنه قال: إذا مات الرجلُ منكم فدفنتموه فليقُمْ أحدُكم عند رأسِهِ فليقلْ يا فلان ابن فلانة فإنه سيسمعُ فليقلْ يا فلان ابن فلانة فإنه سيستوى قاعدًا، فليقلْ يا فلان ابن فلانة فإنه سيقولُ أرشدني رحمك اللَّهُ فيقول: اذكرْ ما خرجتَ عليه من دار الدنيا شهادةُ أن لا إلهَ إلا اللَّهُ وحده لا شريك له وأن مُحَمَّدا عبدُه ورسولُه وأنَّ الساعةَ آتيةٌ لا ريبَ فيها وأنَّ اللهَ يبعثُ من في القبورِ فإنَّ مُنْكرا ونكيرا يأخذُ كلُّ واحدٍ منهما بيدِ صاحبِهِ ويقول له: ما نصنعُ عند رجلٍ قد لُقِّن حُجَّتُه فيكون اللَّهُ حجيجَهما دُونَه" ([5]).
سعید الاودی سے مروی ہے کہ میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس اس حال میں آیاکہ وہ حالت نزع میں تھے تو انہوں نے مجھ سے کہا اے سعید جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے ساتھ ایسا ہی کرنا جیسا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اپنے مردوں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور تم اسے دفن کردو تو تم میں سے کسی ایک شخص کو چاہیے کہ وہ اسکے سر کے پاس کھڑا ہوجائے اور کہے: اے فلاں ابن فلان! کیوں کہ وہ سنے گا، پھر کہے اے فلاں بن فلاں! تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ جائے گا، پھر کہے اے فلاں ابن فلان! تو وہ کہےگا میری رہنمائی کرو اللہ تم پر رحم کرے۔ پھر کہے: کہ اس چیز کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے نکلتے وقت تھے، یعنی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ کی گواہی ، اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، اور یہ کہ اللہ تعالٰی ان لوگوں کو زندہ کرے گا جو قبر میں ہیں، تو منکراور نکیر دونوں میں سے ہرایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑ لیں گے، اور کہیں گے : ہم اس شخص کے ساتھ کیا کریں جسے اس کی حجت کی تلقین کی جا رہی ہے، تو اللہ تعالی اس کی طرف سے ان دونوں کا مصلح ہوگا۔
اس حديث كى تحقیق:
1- ابن قیم نے اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ: اس حدیث کا مرفوع ہونا صحیح ثابت نہیں ہے۔ ([6])۔
2- اور علامہ صنعانی فرماتے ہیں: کہ محققین ائمہ کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ اور اس پر عمل کرنا بدعت ہے۔ اور اس پر عمل کرنے والوں کی کثرت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔([7])۔
3- علامہ البانی فرماتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے، اسے قاضی الخلعی نے فوائد میں [2/55] میں ذکر کیا ہے۔ آگے فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ یہ سند ضعیف جدا ہے، اسکے رواۃ میں عتبہ بن سکن کے علاوہ میں کسی کو بھی نہیں جانتا، دار قطنی کہتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے، اور بیہقی نے کہا ہےکہ وہ واہی ہے اور وضع کی طرف منسوب ہے۔
اور اس حدیث کو ہیثمی نے بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں روایت کیا ہے اور اسکی سند میں ایک بڑی جماعت ہے جنہیں میں نہیں جانتا، پھر علامہ البانی بیان کرتے ہیں کہ: اس حدیث کو امام نووی ([8]) ، ابن صلاح اور حافظ عراقی نے ضعیف کہا ہے۔ ([9])۔
دوسرى روایت: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروى ہے۔
تلقین کو ثابت کرنے والوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بھی حجت پکڑی ہے جس میں ہے کہ : نبی ﷺنے فرمایا: « لَقِّنوا موتاكم لا إلهَ إلا اللهُ » ([10]).
حالانکہ اس حدیث سے مراد موت کے بعد اور دفن کے بعد تلقین کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد حالت نزع میں تلقین کرنا ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺکے فرمان « لَقِّنوا موتاكم لا إلهَ إلا اللهُ » کا معنی یہ ہے کہ جس کی موت قریب ہو اور اس سے مراد یہ ہے کہ اسے کلمہ لا الہ الا اللہ یاد دلاؤ تاکہ یہ اس کا آخری کلام ہو۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: « من كانَ آخرُ كلامِهِ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ دَخلَ الجنَّةَ» ([11]) - ( ترجمہ: جس کا آخرى کلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہوگا)- اور تلقین کا یہ امر استحباب کے لئے ہے، اس پر علماء کا اجماع ہے۔ ([12])۔
اسی طرح عز ابن عبد السلام کا کلام گزر چکا ہے کہ یہ حدیث اس شخص پر محمول ہے جس شخص کی موت قریب آگئی ہو اور وہ زندگی سے ناامید ہوگیا ہو۔
مذکورہ روایت سے میت کی تفسیر محتضر سے کرنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: « من كانَ آخرُ كلامِهِ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ دَخلَ الجنَّةَ» ([13]) -
لہذا میت کو دفن کرنے کے بعد مشروع اور مستحب عمل یہ ہے کہ میت کے لئےدعا اور استغفار کیا جائے۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"وكان - أي رسول الله ﷺ- إذا فرغ من دفن ميت قام على قبره هو وأصحابه وسأل له التثبيت وأمرهم أن يسألوا له التثبيت" ([14])۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺجب میت کو دفن کر کے فارغ ہوتے تو آپ ﷺاور صحابہ کرام اسکی قبر کے پاس کھڑے ہوکر اسکے لئے ثابت قدمی کی دعا کرتے، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعن کو بھی حکم دیتے کہ وہ میت کی ثابت قدمی کے لئے دعا کریں۔
ابن القیم رحمہ اللہ در اصل حضرت عثمان غنى رضی اللہ عنہ سے مروى ایک حدیث کى طرف اشارہ کر رہے ہیں جس میں وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب میت کو دفن کرکے فارغ ہوتے تو فرماتے: « استغفِروا لأخيكُم، وسَلوا لَهُ التَّثبيتَ، فإنَّهُ الآنَ يُسأَلُ » ([15]) -
ترجمہ: اپنے بھائی کے لئے مغفرت طلب کرو، اور اسکے لئے ثابت قدمی کی دعا کرو کیونکہ اس وقت اس سے سوال کیا جا رہا ہے۔
واللہ اعلم

