سوال
نماز میں قرآن مجید ہاتھ میں لینے کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ خشوع وخضوع کے خلاف ہے؟
جواب
جواب مختصر
قرآن مجید کو ہاتھ میں لے کر نماز پڑھنا یا لے کر سُننا نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے اور یہ امر خشوع و خضوع کے بھی خلاف ہے ، اور اگر کوئی شخص نماز میں قرآن مجید کو ہاتھ میں لے کر نماز پڑھتا ہے تو اس کا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر نہیں رہ سکے گا جو نماز کے اندر ضروری ہے ، اسی طرح بار بار قرآن مجید کو کھولنے و پلٹنے سے زیادہ و بے جا حرکت کرنی پڑے گی جس سے نماز کا خشوع ختم ہو جائے گا ۔
لہذا امام اور مقتدی دونوں کے لئے افضل یہی ہے کہ وہ قرآن لے کر نماز نہ پڑھیں، لیکن اگر کوئی قرآن لے کر نماز پڑھ لیتا ہے تو نماز صحیح ہوگی۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
سب سے پہلے یہ بات واضح رہے کہ نماز میں قرآن مجید ہاتھ میں لینا یا لے کر سننا نبى ﷺ سے کسى بھى حدیث سے ثابت نہیں۔ نہ صحابہ کرام رضى اللہ عنہم نے کبھى ایسا کیا۔
اگر غور کیا جائے تو یہ عمل کئى اعتبار سے سنت کے خلاف ہے، مثلاً:
1- نماز میں قیام کى حالت میں آپ ﷺ دایاں ہاتھ بائیں پر رکھتے تھے۔ صحيح بخارى میں حضرت سہل بن سعد الساعدى رضى اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں:
كانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أنْ يَضَعَ الرَّجُلُ اليَدَ اليُمْنَى علَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى في الصَّلَاةِ ([1])۔
ترجمہ: لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں بازو پر رکھیں۔
نماز میں قرآن مجید ہاتھ میں لینے سے قيام ميں داياں ہاتھ بائيں ہاتھ پر نہيں ركھا جا سكتا۔
2- نماز میں قرآن مجید ہاتھ میں لینے سے بہت زيادہ حركت كرنی پڑتى ہے، جس كى كوئى ضرورت نہيں، مثلا قرآن مجيد كھولنا، بند كرنا، اور اسے بغل كے نيچے ركھنا۔
3- حقيقت ميں ايسا كرنے سے نمازى اپنے حركات ميں مشغول ہو جاتا ہے۔ یہ نماز میں خشوع کے خلاف ہے۔ مومنوں کو نماز میں خشوع وخضوع کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالى فرماتے ہیں: قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ، ٱلَّذِينَ هُمۡ فِي صَلَاتِهِمۡ خَٰشِعُونَ ـ المُؤۡمِنُون : 1،2 ترجمہ: وہ مومنین کامیاب ہوگئے جو اپنى نمازیں خشوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
4- نماز ى سجدہ والى جگہ پر نظر نہيں ركھ سكتا، اكثر علماء كرام كہتے ہيں كہ نماز میں سجدہ كى جگہ پر نظر ركھنا سنت اور افضل ہے۔ اس سلسلے میں سلف سے کئى آثار مروى ہیں۔ ([2])۔
5- اگر وہ اپنے دل كو نماز ميں حاضر نہ ركھے ہو سكتا وہ يہ بھول جائے كہ وہ نماز ادا كر رہا ہے، ليكن اس كے خلاف اگر اس نے خشوع و خضوع كے ساتھ اپنا داياں ہاتھ بائيں پر ركھا ہو اور اپنا سر سجدے والى جگہ كى طرف جھكايا ہوا ہو تو اس طرح اسے يہ زيادہ خيال ہو گا كہ وہ نماز ميں ہے، اور امام كے پيچھے ہے۔ ([3])۔
اوپر ذکر کى گئى وجوہات کى بنا پر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ عمل (قرآن کو ہاتھ میں لے کر پڑھنا ) سنت کے خلاف ہے۔
اب سوال یہ کہ نماز میں قرآن مجید ہاتھ میں لینے کا کیا حکم ہے؟
اس سلسلے میں علماء کے دو قول پائے جاتے ہیں: بعض اسے جائز کہتے ہیں اور بعض کے مطابق ایسا کرنا مکروہ ہے۔
حالات کو دیکھ کر اس عمل کا مکروہ ہونا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بالخصوص جب کہ یہ عمل بعض ائمہ مساجد کے یہاں بڑھتا جاتا رہا ہے۔ ان کى توجہ قرآن کے حفظ اور مراجعہ سے ہٹنے لگى ہے۔ اس اعتبار سے یہ نبی ﷺکی ایک اہم تعلیم کے خلاف ہے، آپ ﷺنے فرمایا: «تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا» ([4])۔
ترجمہ: ”اس قرآن کی حفاظت (دیکھ بھال) کرو اور اس كى برابر تلاوت كيا كرو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، یہ قرآن لوگوں کے سینوں سے نکل جانے میں اس اونٹ سے زیادہ تیز ہے جو رسی میں بندھا ہوا ہو“۔
آپ ﷺکا یہ فرمان : «تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ»کا معنی یہ ہے کہ قرآن پڑھنے اور اسے دہرانے کو اپنی عادت بنا لو تاکہ یہ دل ودماغ میں پیوست ہو جائے، اور دماغ سے اس طرح نہ نکل جائے جس طرح اونٹ اپنے بندھن سے نکل جاتا ہے کیونکہ اونٹ بندھن میں ہونے کے باوجود اپنی شراست طبع کی وجہ سے نکل بھاگتا ہے۔ اگر حافظ قرآن پابندی سے اس کی تلاوت کرتا رہے، تو وہ سینے میں محفوظ رہتا ہے، ورنہ حافظے سے نکل کر چلا جاتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید ثقیل ہے۔ اللہ تعالی اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: إِنَّا سَنُلۡقِي عَلَيۡكَ قَوۡلٗا ثَقِيلًا ـ المُزَّمِّل : 5
ترجمہ: ہم آپ پر قول ثقیل نازل کرنے والے ہیں۔
قرآن اتنی آسانی سے بغیر پابندی اور تکرار کے سینے میں محفوظ نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لئے مراجعہ اور مذاکرہ ضروری ہے۔
لہذا امام اور مقتدی دونوں کے لئے افضل یہی ہے کہ وہ قرآن لے کر نماز نہ پڑھیں۔ لیکن اگر قرآن لے کر نماز پڑھ لیتے ہیں تو نماز صحیح ہوگی۔ لیکن یہ خشوع اور خضوع پر اثر انداز ہوگى۔
واللہ اعلم

