سوال
علاج کے لئے قرآنی آیات لکھ کر پانی میں پینے کا کیاحکم ہے؟ (عقیدہ )
جواب
جواب مختصر
علاج کے لئے قرآنی آیات لکھ کر مریض کو پلانے میں کوئى حرج نہیں۔ بعض تابعین سے یہ ثابت ہے،
البتہ یہ یاد رہے کہ قرآن مجید سے شفایابی کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مریض خود اس کی تلاوت کرے ، اور اگر تلاوت نہ کر سکے تو ان باتوں کو ملحوظ رکھے کہ لکھنے والا شخص ثقہ اور قابل اعتماد شخص ہو، اور جس سیاہى سے قرآنى آیات لکھى جائیں وہ پاک چیزوں سے بنى ہوئی ہوں ۔ بہتر ہے کہ زعفران یا شہد وغیرہ کااستعمال ہو وغیرہ ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
علاج کے لئے قرآنی آیات لکھ کر مریض کو پلانے میں کوئى حرج نہیں۔ بعض تابعین سے یہ ثابت ہے۔ مثلاً: مشہور تابعى (مجاہد رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں: "لا بأس أن يكتب القرآن ويغسله ويسقيه المريض" قرآن کریم کی آیات لکھ کر پانی میں گھول کر مریض کو پلانے میں کوئى حرج نہیں۔ ( ).
اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : انہوں نے ولادت میں تنگی محسوس کرنے والی خاتون کے لیے قرآنی آیات لکھ کر انہیں دھو کر پانی پلانا تجویز کیا تھا۔( ).
ابو ایوب کہتے ہیں: انہوں نے ابو قلابہ کو دیکھا کہ انہوں نے قرآن کریم کی آیات لکھیں، پھر انہیں پانی سے دھو دیا، اور تکلیف میں مبتلا شخص کو وہ پانی پلا دیا۔ " ( ).
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سلف صالحین کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ نظر بد سے متاثر شخص کو قرآنی آیات لکھ کر دی جائیں اور مریض انہیں پی لے"۔( ).
سعودى عرب کى افتاء کمیٹى اور متعدد علماء کرام نے قرآن کریم کی آیات لکھ کر پانی میں گھول کر مریض کو پلانے کو جائز قرار دیا ہے۔ ( )۔ اسى طرح سعودى عرب کے سابق مفتى شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ ( ) اور شیخ ابن باز ( ) -رحمہم اللہ - نے بھى اسے جائز قرار دیا ہے ۔
لیکن اس سلسلے میں چند باتوں کا خیال رکھنا ضرورى ہے:
1- قرآن مجید کے ذریعہ شفا حاصل کرنا مسنون ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
ﵟوَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٞ وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارٗا ٨٢ﵞ ترجمہ: ہم مومنوں کے رحمت اور شفا یابی کا باعث قرآن نازل کرتے ہیں ، جبکہ اس سے ظالموں کا خسارہ ہی بڑھتا ہے۔[الإسراء:82]
2- قرآن کریم کے ذریعے شفا یابی کے لیے خود تلاوت کریں، مریض پر دم کریں، یا پانی پر پڑھ کر مریض کو پلائیں، پڑھے ہوئے پانی سے مریض غسل کرے، یہ امور قرآن کریم کی آیات لکھ کر پانی میں گھول کر مریض کو پلانے سے بہتر ہیں۔
3- اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لکھنے والا ثقہ اور قابل اعتماد شخص ہو۔ وہ قرآن کے نام پر کچھ اور نہ لکھ دے۔ جیسا کہ بعض عاملین جنات وغیرہ کے نام اور شرکیہ کلمات لکھ دیتے ہیں۔
4- اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جس سیاہى سے قرآنى آیات لکھى جائیں وہ پاک چیزوں سے بنى ہو۔ بہتر ہے کہ زعفران یا شہد وغیرہ کااستعمال ہو۔
5- کسی برتن یا آلے پر آیات لکھى ہوئى ہوں ، اس میں پانی ڈال کر پینے سےکوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس لئے کہ برتن کى تحریر کا اثر پانى میں نہیں اترے گا۔ نیز یہ ایک طرح قرآن کریم کى توہین ہے۔ اس لئے کہ وہ برتن یہاں وہاں پھینکدیا جاتا ہے۔ ( ).
واللہ اعلم
([1])( ) زاد المعاد، ابن القيم، 4/170.
( ) أخرج ابن أبي شيبة- ت الشثري- (25052) عن ابن عباس قال: إذا عَسُر على المرأة ولدها، فيكتب هاتين الآيتين والكلمات في صَحفة، ثم تُغسل فتُسقى منها: بسم الله الذي لا إله إلا هو الحليم الكريم، سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم، {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا} [النازعات: 46] {كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ بَلَاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ} [الأحقاف: 35].
( ) زاد المعاد، ابن القيم، 4/170.
( ) زاد المعاد، ابن القيم، 4/170.
( )فتاوى اللجنة الدائمة" (1/97)
( ) فتاوى ورسائل سماحة الشيخ محمد بن إبراهيم آل الشيخ (1/94)
( ) مجموع فتاوى ومقالات متنوعة لابن باز (4/333).
( ) مجموع فتاوى ورسائل العثيمين (1/ 109) .

