سوال
میڈیکل سائنس میں مینڈھک پر تجربات کئے جاتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
جواب
جواب مختصر
اسلام میں مینڈھک کو مارنا یا اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، نبی ﷺ میڈھک کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
جواب مفصل
الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ أما بعد:
حدیث نبوىﷺ میں اس سلسلے میں بہت واضح رہنمائى موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مینڈھک کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
عن عبدِ الرحمن بنِ عُثمان: أن طبيباً سأل النبيَّ ﷺ عن ضِفدعٍ يجعلُها في دَوَاءٍ، فنهاه النبيُّ ﷺ عن قَتْلِها. ([1]).
ترجمہ: عبد الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: "ایک طبیب نے رسول ﷺ سے مینڈھک کے بارے میں دریافت کیا جسے وہ دوا میں ملا تا ہے" تو رسول اللہ ﷺنے اسے مینڈھک کو قتل کرنے سے منع فرمادیا۔
اس حدیث سے پتہ چلا کہ میڈیکل سائنس میں تجربہ کے لئے مینڈھک کومارنا یا اسے دوائیوں میں استعمال کرنا حرام ہے۔
بعض لوگ مینڈھک کومارنے کى ممانعت کا سبب پوچھتے ہیں۔
بعض علماء کے مطابق اس کى حکمت اللہ تعالى ہى بہتر جانتے ہیں۔مومن کو اللہ تعالى کے حکم کى فرماں بردارى کرتے ہوئےتسلیم ورضا کا شیوہ اپنانا چاہیئے۔
بعض علماء کے نزدیک : ہوسکتا ہے اس میں نقصان زیادہ ہو فائدہ کم ہو۔ اسى وجہ سے منع کیا گیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اسلام میں مینڈھک کو مارنا یا اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے۔واللہ اعلم

